جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

معروف صحافی کے عدنان سمیع سے متعلق تاریخی انکشافات

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیکس)عدنان سمیع خان کے خاندان کا اصل تعلق افغانستان سے ہے۔انکے دادا محفوظ خان کابل، ہرات، جلال آباد اور بلخ کے گورنر تھے۔بچہ سقہ کے دور میں برا وقت شروع ہوا تو انہیں افغانستان چھوڑنا پڑا۔عدنان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان ایئرفورس میں اسکوارڈن لیڈر تھے اور 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں ستارہ جرات بھی حاصل کیا۔ارشد سمیع خان 1966ءسے 1972ء کے دوران صدر ایوب خان، صدر یحییٰ خان اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی رہے۔بعدازاں فارن سروس میں آ گئے۔پھر چھٹی لیکر بیرون ملک چلے گئے۔کئی سال بعد واپس آکر دوبارہ فارن سروس جوائن کرلی۔کئی ملکوں میں سفیر بنے۔چیف آف پروٹوکول بنے ، 1989ء میں کینسر کا شکار ہوئے تو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ان کا سرکاری خرچ پربرطانیہ سے علاج کرایا۔وفاقی سیکرٹری بھی بنے ،عدنان سمیع کو فلموں میں گانے اور کام دلوانے کیلئے سیکرٹری کلچر کے طور پر اپنا اثرورسوخ بھی استعمال کرتے رہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یحییٰ خان کے دور میں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہونے والی اقلیم اختر رانی رشتے میں عدنان سمیع خان کی نانی تھی۔ارشد سمیع خان جنرل رانی کی بہن کے داماد تھے۔ جنرل رانی کی ایک بیٹی عروسہ عالم پچھلے کئی سال سے بھارتی پنجاب کے ایک سیاست دان ارمیندر سنگھ کی دوست بن کر بھارت میں مقیم ہیں۔بھارتی میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئیں کہ ارمیندر سنگھ نے عروسہ عالم سے شادی کرلی ہے لیکن سابق مہاراجہ پٹیالہ کے بیٹے ارمیندرسنگھ کی بیوی مہارانی پرنیت کور کا کہنا ہے کہ سکھ مذہب کے مطابق ارمیندر سنگھ کی واحد قانونی بیوی ان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔عروسہ عالم رشتے میں عدنان سمیع خان کی خالہ ہیں۔بھانجے نے 2001ء اور خالہ نے 2004ءمیں پاکستان چھوڑا تھا لیکن اس وقت جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا کیونکہ اس خاندان کے طاقتور اداروں میں گہرے تعلقات تھے۔ عدنان سمیع خان نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے پہلے زیبا بختیار کو اپنی سیڑھی بنایا اور پھر آشا بھو سلے کو استعمال کیا۔موصوف کے پاکستان چھوڑنے پر مجھے کوئی دکھ ہے نہ اعتراض لیکن میں اہل وطن کو یہ ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ عدنان سمیع خان کے والد ارشد سمیع خان بھی پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے اور ان کا انتقال ممبئی میں ہوا تھا۔ ارشد سمیع خان کی کتاب ”تھری پریذیڈنٹس اینڈ این ایڈ“ بھارت میں شائع ہوئی تھی۔ارشد سمیع خان نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ 1970ء کے انتخابات صاف اور شفاف نہیں تھے۔خان عبدالقیوم خان، صبور خان اور مولانا بھاشانی سمیت کئی سیاست دانوں میں رقوم تقسیم ہوئیں لیکن انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی تو یحییٰ خان غصے میں ا?گئے اور انہوں نے اپنے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل غلام عمر سے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج مختلف ہونے چاہئیں لیکن جنرل عمر کچھ نہ کر سکے۔ اس الیکشن میں یحییٰ خان نے راولپنڈی میں سائیکل کے نشان کے سامنے مہر لگائی اور ارشد سمیع خان سے بھی سائیکل پر مہر لگوائی۔ارشد سمیع خان نے یہ بھی لکھا ہے کہ کس طرح وہ ڈھاکہ کے پریذیڈنٹ ہاﺅس میں رات کو تمام روشنیاں بجھا دیتے تھے اور پھر صدر پاکستان کو اپنی گاڑی میں چھپا کر ڈانس پارٹیوں میں لے جاتے جہاں صدر صاحب تمام رات عورتوں کے ساتھ ناچتے رہتے تھے اور علی الصبح ارشد سمیع خان اپنے باس کو واپس پریذیڈنٹ ہاﺅس میں لے آتے۔ارشد سمیع خان نے لکھا ہے کہ جب انہیں حمود الرحمان کمیشن کے سامنے بلایا گیا اور یحییٰ خان سے ملاقاتیں کرنے والی عورتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اسکوارڈن لیڈر صاحب نے لاعلمی ظاہر کر دی۔جسٹس حمود الرحمان نے ا±ن سے پوچھا کہ کیا یحییٰ خان کثرت شراب نوشی کا شکار تھے تو ارشد سمیع خان نے نفی میں جواب دیا۔ ارشد سمیع خان کی اس لاعلمی کے باوجود حمود الرحمان کمیشن نے یحییٰ خان کے بارے میں بہت سے ثبوت اور حقائق حاصل کرکے اپنی رپورٹ میں شامل کر دیئے۔کمیشن کی رپورٹ کے باوجود یحییٰ خان پر کوئی مقدمہ نہ چلا جنرل ضیاءالحق نے انہیں رہا کر دیا اور ارشد سمیع خان پر بھی اپنی عنایات کو جاری رکھا۔ ارشد سمیع خان نے اپنی کتاب میں اپنے ستارہ جرات کا بڑے فخر سے ذکر کیا ہے۔جس ملک کیخلاف جنگ میں یہ ستارہ جرات انہیں ملا ان کے بیٹے عدنان سمیع خان نے اسی ملک کی شہریت حاصل کرکے اور جے ہند کا نعرہ لگا کر اس ستارہ جرات کی نفی کر دی۔(منتخب اقتباس کالم حامد میر)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…