نیویارک(نیوزڈیسک) امریکا کی شمال مشرقی و مغربی ریاستوں میں ہونے والی بارشوں اور طوفان نے شدید تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی جب کہ کئی مکانات بھی تباہ اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی شمال مشرقی اور مغربی ریاستوں میں ہونے والی شدید بارشوں، طوفان اور طوفانی بگولوں نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ طوفان کے باعث علاقے میں کئی گھر اور سڑکوں سمیت تمام مواصلاتی نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حکام کے مطابق طوفان کے نتیجے میں شمال مشرقی ریاست میں ایک چھوٹے ایئرپورٹ پر کئی جہاز تباہ ور متعدد افراد زخمی ہو گئے، بیٹن کاو¿نٹی میں بھی طوفان کی تباہ کاری سے 3 افراد ہلاک جب کہ 3 لاپتہ ہیں اور ریسیکو ٹیمیں لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ طوفان سے کئی گھروں کی چھتیں اڑ گئیں جب کہ طوفانی بگولوں سے شمال مغربی علاقوں میں کم از کم 20 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔امریکی حکام کے مطابق طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ ماہرین موسمیات نے طوفان کو انتہائی خطرناک قراردے دیا ہے۔واضح رہے کہ اس شدت کے طوفانی بگولوں نے 2014 میں بھی ٹیکساس اور الباما میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
امریکہ قدرتی آفت کا شکار،متعددہلاک و زخمی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































