ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

”درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا“،قومی اسمبلی کے اجلاس میں خاتون رکن کی نظم پرآنسو چھلک پڑے

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو اس وقت آنسو چھلک پڑے جب بلوچستان سے خاتون رکن کرن حیدر نے اپنا لکھا کلام پڑھ کر شہداءاے پی ایس پشاور کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر اپنی لکھی ہوئی آزاد نظم پڑھی کہ
میرے وطن کے عظیم بچے‘ شہید بچے‘
علم کی طلب میں گھر سے نکلے
دعائیں دیتی مائیں کہہ رہی تھیں
نہ تم الجھنا نہ چوٹ آئے
اگرچہ میری جان ہے تو میرے وطن
مگر یہ کیا وہ پیارا بچہ‘ دلارا بچہ
لہو لہو میں نہا کے آئے
کتابیں اس کی ‘ یہ اس کا بستہ
لپٹ کے مائیں رو رہی ہیں
تڑپ رہی ہیں‘ سسک رہی ہیں
جو خواب تھے‘ سب بکھر گئے ہیں
پھول ٹہنیوں سے جھڑ گئے ہیں
درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا
میرے پھول بچوں کے لہو کا حساب کرنا‘ حساب کرنا
اس نظم کے دوران کئی ارکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جنہیں وہ پونچھنے اور دبانے کی کوشش کرتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…