ہیمبرگ(نیوز ڈیسک) جرمنی میں سیاہ لباس اور ہڈپہنے15سے 20نے فیس بک کے حکام کے گھروں پر دھاوابول دیا اور شیشے توڑڈالے جبکہ جاتے ہوئے پینٹ سے دیواروں پر Facebook dislikeلکھ کر چلتے بنے تاہم اس دھاوے کے دوران کسی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچایاگیا اور نہ ہی کوئی زخمی ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی تاہم میڈیا رپورٹ کے مطابق نسل پرستانہ کوریج کی وجہ سے دھاوابولاگیااور مبینہ طورپر نسل پرستانہ مواد ہٹانے میں ناکامی کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی تھیں جن کا اعلان گزشتہ ماہ کیاگیاتھا۔
جرمن چانسلر انجیلامرکل نے بھی اس خواہش کا اظہار کیاکہ رواں سال اس معاملے میں مزید آگے بڑھنا چاہیے جبکہ وزارت انصاف فیس بک، سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ فراہم کرنیوالی کمپنیوں کیساتھ مل کر ٹاسک فورس کا قیام چاہتی ہے تاکہ مجرمانہ پوسٹس کو پکڑا اور ا±نہیں جلد از جلد ختم کیاجاسکے۔ اس حملے پر فیس بک انتظامیہ نے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کردیا اور کہاکہ میرٹ کی خلاف ورزی کے الزامات اور فیس بک یا ملازمین کی طرف سے جرمن قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی۔اس سے قبل فیس بک نے ایف ایس ایم نامی گروپ کیساتھ الحاق کیاتھا جو رضاکارانہ طورپر ملٹی میڈیا سروس پرووائیڈرز پر نظر رکھتاہے اور وہ اپنے صارفین کی نسل پرستی کیخلاف ڈٹ جانیوالے کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔
جرمنی میں فیس بک کے حکام کے گھروں پر حملہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
عید الفطر کے بعد دفاتر کے نئے اوقاتِ کار جاری
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
شناختی کارڈ بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان کر دی گئی
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی



















































