کراچی(این این آئی)سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں کمی کی توپھر۔۔۔! اندر کی کہانی باہر آگئی، وفاقی اورسندھ حکومتوں کے درمیان رینجرزکے اختیارات میں توسیع کے معاملے پرپیدا ہونے والے تنازع کوحل کرانے کے لیے پس پردہ اہم سیاسی قوتوں نے اپنے رابطے شروع کردیے ہیں اورتوقع کی جارہی ہے کہ اس معاملے کوڈائیلاگ سے حل کیاجاسکتا ہے۔وفاقی حکومت کے اہم ذرائع کاکہنا ہے کہ اگرمعاملات حل نہ ہوئے تووفاق بتدریج اپنے آئینی اختیارات استعمال کرسکتا ہے لیکن سندھ میں گورنر راج لگانے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔یہ آپشن آخری اورانتہائی صورت میں استعمال ہوسکتا ہے لیکن اس سے قبل وفاقی حکومت اس کے ہر پہلواورسیاسی حالات کومدنظر رکھے گی۔اہم ذرائع سے معلوم ہواہے وفاقی حکومت کے حلقوں نے سندھ میں کوئی غیرآئینی اقدام اختیارکرنے کے تاثر کی نفی کردی ہے ۔ان رابطوں کے توسط سے سندھ حکومت کے اہم حلقوںکا پیغام وفاقی حکومت تک پہنچا دیا گیا ہے۔جس میں کہاگیاہے کہ وفاقی وزراکے بیانات سے صورتحال گھمبیرہوئی ہے اوران کی جانب سے سندھ میں مختلف آپشنز کے استعمال کاعندیہ دیناصوبائی خود مختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔اس رابطے میںکہاگیا ہے کہ سندھ حکومت سندھ اسمبلی میں قراردادکے توسط سے رینجرزکوخصوصی اختیارات تقویض کرنے کے لیے تیار ہے اور پیر کو سندھ اسمبلی میں قراردادپیش کردی جائے گی اوراس معاملے کوقانون کے مطابق حل کیاجائے گا۔ذرائع کاکہناہے کہ سندھ حکومت نے وفاق سے اس بات کی یقین دہانی مانگی ہے کہ رینجرزیاکوئی بھی قومی ادارہ کسی سیاسی شخصیت یاادارے میں کوئی کارروائی یاگرفتاری کرنے سے قبل وزیراعلی سندھ سے اجازت لے گا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی حلقوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم کوآگاہ کیاجائے گا اوروفاق اس معاملے کومذاکرات سے حل کرنے کے لیے تیار ہے تاہم سندھ حکومت پہلے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کرے۔وفاقی اداروں کی مداخلت کے امورکوقانونی طریقے سے طے کیا جائے گا۔اہم سیاسی قوتوں کے رابطوں کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس تنازع کوبتدریج حل کیا جاسکتا ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں ہرصورت رینجرز کو تعینات رکھے گی اور وفاق اس بات پرغورکررہاہے کہ سندھ حکومت اگر رینجرزکواختیارات نہیں دیتی ہے توپھر اختیارات دینے کے حوالے سے خصوصی صدارتی آرڈننس جاری کرنے سمیت ایمرجنسی اختیارات دینے پر قانونی ٹیم کی رائے کی روشنی میں وزیراعظم کی منظوری سے فیصلہ کیا جائے گا اورکوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل سندھ اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاس کا جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ڈاکٹرعاصم حسین کے معاملے پرکوئی تعاون نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور سندھ حکومت باضابطہ طورپرقانون کے مطابق اگر ڈاکٹر عاصم سے کی گئی تفتیش کی رپورٹ مانگے گی تو وہ رپورٹ مہیا کی جائے گی۔پیپلز پارٹی کو پس پردہ آگاہ کردیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پرعدالت سے رجوع کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں ممکنہ طور پرکمی کی توپھر قانونی آپشن کواستعمال کیا جائے گا۔وفاق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت توقع کرتی ہے کہ سندھ حکومت اس معاملے کو آئین کے مطابق حل کرے گی۔وفاقی حکومت کے حلقے گورنر سندھ سے بھی رابطے میں ہیں اورگورنرسندھ بھی اس معاملے کوحل کرانے کے لیے بھرپورکوشش کررہے ہیں ۔وفاق کے ذرائع کاکہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات کودورکرنے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا اسحق ڈار،عبدالقادر بلوچ اور دیگر وزیراعظم کی منظوری سے اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کے توسط سے وزیراعلی سندھ سے رابطہ کریں گے لیکن باضابطہ بات چیت رینجرزکے اختیارات میں توسیع کے بعد شروع کی جاسکتی ہے۔
سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں کمی کی توپھر۔۔۔! اندر کی کہانی باہر آگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
نثار خان اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شامل
-
کین کون میں چار دن
-
یکم جولائی سے سرکاری دفاتر میں نیا قانون نافذ
-
پاکستان کو آئی سی سی ورلڈکپ کی میزبانی مل گئی
-
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو ٹارگٹڈ بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا
-
یو اے ای سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی پر اماراتی حلقوں کا بڑا موقف سامنے آ گیا
-
آئی پی ایل میں 15 سالہ ویبھاؤ سوریاونشی نے کتنا پیسہ کمایا؟
-
ڈولا رے گانے’ کی شوٹنگ کے دوران حاملہ ہونیکا دعویٰ، مادھوری ڈکشت نے خاموشی توڑ دی
-
اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر کون ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارتی سپریم کورٹ نے جسم فروشی کو قانونی قرار دے دیا
-
اسلام آباد میں شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ، ریس لگانے والا لینڈ کروزر سوار ایک ملزم لیگی رہنما کا بھا...
-
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش کی پیشگوئی
-
مارکیٹس اور مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری



















































