جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی آپریشن کو بڑا جھٹکا

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل کی ’’کراچی آپریشن‘‘ پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کے ایک ہفتے کے اندر سندھ حکومت اور رینجرز واضح طور پر بٹے نظرآتے ہیں اور جمعہ کو ڈاکٹر عاصم حسین کے کیس میں جو کچھ ہوا، یہ رینجرز کے لئے بڑا دھچکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا آپریشن اس طرح چل سکتا ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے حال ہی میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا کہ کمزور استغاثے کے باعث جرائم پیشہ عناصر اوردہشت گرد چھوڑے جا رہے ہیں۔ اب آئندہ کیا ہو گا؟ آگے کا کوئی کراستہ بھی ہے؟ رینجرز کے ایک سینئر افسر کے مطابق جن کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا ان میں سے 20فیصد جرائم پیشہ اور دہشت گرد کمزور استغاثے کے باعث چھوٹ کر سڑکوں پر آگئے ہیں۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ کچھ ضمانتوں پر رہا ہوئے تو کچھ کو عدالتوں نے بری کردیا۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ ساڑھے چار ہزار مشتبہ افراد گرفتار کئے گئے ان میں سے 1079ملزمان چھوٹ کر باہر آگئے تب قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کر سکتے ہیں۔روزنامہ جنگ کے صحافی مظہرعباس کی رپورٹ کے مطابق سند ھ حکومت بھی کراچی میں رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کے لئے جلد ی میں نہیں ہے۔ جبکہ کئی دہشت گرد نیٹ ورکس موجود ہونے کی انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں رینجرز اپنا کام نامکمل چھوڑنا نہیں چاہتی۔ لہٰذا آپریشن عملی طور پر گزشتہ ایک ہفتے سے رکا ہوا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت ابھری ہے جب بدھ کو سانحہ آرمی پبلک اسکول کو ہوئے ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے۔ اب کس کا یقین کیا جائے، رینجرز یا پولیس کا کہ واقعی ڈاکٹر عاصم حسین بے گناہ تھے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر 90روز رینجرز کی حراست میں کیا کچھ سامنے آیا۔ اگر رینجرز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کافی ثبوت ہیں تو پھر پولیس نے انہیں نظرانداز کیوں کیا؟ حکومت اور ایجنسیوں کے درمیان بداعتمادی کی اس فضا میں آپریشن جاری نہیں رہ سکتا۔ کوئی اندازہ لگا سکتا ہے اس صورتحال سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس تناظر میں سندھ کے اندر معاملات خاصے پریشان کن ہیں ۔ لہٰذا رینجرز کو واپس بھیج کر صوبائی حکومت اور پولیس کو حالات سے نمٹنے دیا جائے۔ اگر نہیں تو پھر حکومت کو کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ شاید ایسے ہی کسی تنازع سے بچنے کے لئے دوسال قبل نیشنل سیفٹی بورڈ تشکیل دیئے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔ جمعہ کو 200 مشتبہ دہشت گردوں کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ جن میں سے 150 کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ ارو باقی کا کالعدم تنظیموں اور مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) سے ہے۔ اب رینجرز کن اختیارات کے تحت آپریشن جاری رکھ سکے گی۔ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالےسے سندھ اسمبلی میں صوبائی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیا۔ یہ معاملہ صوبائی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے پر تھا لیکن وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی اجلاس سے غیرحاضری سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت فیصلے کو اب بھی روکے رکھنا چاہتی ہے۔ قرارداد کے مندرجات کا کسی کو علم نہیں کیونکہ یہ ارکان صوبائی اسمبلی اورنہ ہی قائد حزب اختلاف کو دی گئی۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن اس سے لاعلم ہیں۔ اگر سندھ اسمبلی رینجرز کے قیام میں توسیع کو منظور بھی کر لیتی ہے تب بھی رینجرز کیا کرسکے گی۔ جب جرائم پیشہ عناصر ضمانتوں پر چھوٹتے اوربری ہوتے چلے جائیں گے۔ چونکا دینے والی ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ بعض کیسز میں جن لوگوں نے ملزمان کی رہائی کے لئے ضمانتیں جمع کرائیں، ان کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جعلی نکلے۔ یہ تمام باتیں کراچی آپریشن اور اس نتائج پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں جب تک رینجرز نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر چھاپے نہیں مارے اور ڈاکٹرعاصم حسین کو گرفتار نہیں کیا تھا۔اس وقت تک حکومت رینجرز سے مطمئن تھی اوراس نے رینجرز کے حدود اختیار پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ جب ایم کیو ایم کے ملزمان گرفتار ہوئے۔ اور اس کے مرکز نائن زیرو پر چھاپاہ مارا گیاتھا۔ تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب ایس بی سی اے کے منظور کا کا اور فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کے نثار مورائی کی تلاش شرع ہوئی۔ جن کے تانے بانے پیپلز پارٹی کے کچھ اعلیٰ رہنمائوں سے جا کر مل سکتے تھے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ جمعہ کو چیف منسٹر ہائوس ہی میں رہے، انسداد بدعنوانی پر سیمینار میں شرکت کی لیکن سندھ اسمبلی نہیں گے۔ حتیٰ کہ سیمینار میں بھی انہوں نے اپنے اس کہے کا دفاع کیا کہ نیب اور ایف آئی اے نے سندھ پر حملہ کر دیا ہے اور رینجرز بھی اپنی حد پار کر گئی ہے۔ انہوں نے یہ بیان کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سے اپنی ملاقات کے 24گھنٹوں کے اندر دیا جس سے لگتا ہے کہ ملاقات بے نتیجہ رہی۔ حکومت شاید ڈاکٹر عاصم حسین کے انجام کی منتظر رہی جب کچھ لوگوں نے ان کی رہائی کی توقع ظاہر کی لیکن نیب نے اب ان کو حراست میں لے لیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر عاصم حسین پر پولیس کی رپورٹ رینجرز کے لئے مایوس کن رہی۔ کیونکہ تفتیشی افسر نے جے آئی ٹی رپورٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔انسداد دہشت گردی عدالت میں جو کچھ ہوا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کہاں کھڑی اور وہ کیا چاہتی ہے یعنی ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رینجرز کیا چاہتی ہے کہ ان کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نہیں چلناچاہئے۔ جیسا کہ پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے انہیں چھوڑ دیا لیکن جج نے ان کی حراست کے لئے نیب کی درخواست قبو ل کر لی۔ لہٰذا عاصم حسین چھوٹنے کے بجائے ایک کے بعد دوسرے کی حراست میں منتقل ہوتے رہے۔ اب وہ سات روزہ ریمانڈ پرنیب کی تحویل میںہیں۔ جسے ان کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ جہاں تک رینجرز کا تعلق ہے، وہ قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے رہی ہے، کیونکہ دس دن بعد پولیس کا تفتیشی افسر انسداد دہشت گردی عدالت میں مکمل رپورٹ پیش کرے گا۔ جہاںرینجرز ان کی رہائی کی دوبارہ مخالفت کرے گی۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ کہ تفتیشی افسر ڈاکٹر عاصم حسین کو دہشت گردی الزاامات سے بری یا اپنی پہلی رپورٹ سے رجوع کرتا ہے۔ اگر تفتیشی افسر اپنی حتمی رپورٹ میں انہیں بری کرتا اور نیب بھی انہیں کلین چٹ دیتا ہے تو یہ رینجرز کے لئے بڑا پریشان کن ہوگا۔ اگر صورتحال جلد حل نہیں ہوتی اورتنازع شدت اختیار کر جاتاہے تب وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس ممکنہ حل کیا رہ جاتا ہے۔ پھر وفاقی حکومت رینجرز کو واپس طلب کر لے گی یا آرٹیکل 245کو استعمال کرے گی؟ یا پھر اس سے بھی بدتر منظر ہوگا۔ کسی بھی صورت یہ کراچی والوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا ڈاکٹر عاصم حسین بے قصور ہیں لیکن اگر رینجرز کے افسر کا کہا سچ ہے کہ 20 فیصد دہشت گرد اورجرائم پیشہ رہا کر دیئے گئے ہیں تو یہ کراچی آپریشن کے لئے بڑا جھٹکا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…