جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے، پولیس نے ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردی کے الزامات ختم کردیئے جبکہ نیب نے انہیں کرپشن کیس میں تحویل میں لے لیا، احتساب عدالت میں پیشی کے مو قع پرصحافیوں سے مختصرگفتگومیں سابق وفاقی وزیرپیٹرولیم ڈاکٹرعاصم کاکہناہے کہ وہ مرجائیں گے لیکن وہ بیان نہیں دیں گے جویہ چاہتے ہیں۔تمام الزامات کا سامنا کروں گا، بھاگنے والانہیں،ان کاکہناتھا کہ وہ بھی فوجی ہیں اوران کے و کیل بھی فوجی ہیں۔نیب کی خصوصی عدالت نے زمینوں پر قبضے ، سوئی سدرن گیس میں غیر قانونی بھرتیاں ، ٹھیکے دینے ، کمیشن وصول کرنے ، ٹرسٹ کے نام پر کروڑوں روپے کی خوردبرد اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتا رڈاکڑ عاصم حسین کو 7روز کے لئے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے ۔عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے چالان پیش کیے بغیر ڈاکٹر عاصم حسین کو رہا کرنے سے متعلق درخواست کو منظور کرنے کی استدعا کو غیر شفاف قرار دے دیا ہے اور اپنی آبزرویشن میں قرار دیا ہے کہ تفتیشی افسر نے ڈاکڑ عاصم حسین کو کن وجوہات کی بنا پر رہا کیا، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ، اگر رہا کردیا تو پھر عدالت میں کیوں پیش کیا ۔ جبکہ ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان بنانے والوں میں سے ہیںخراب کرنے والوں میں سے نہیں ۔وہ آرمی اور آرمی چیف راحیل شریف کی عزت کرتے ہیں اور آرمی چیف راحیل شریف کے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ۔انہیں ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔دوسری جانب رینجرزکے عدالت کوبتایا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین دہشت گردوں کا علاج کرتے اور انہیں تر وتازہ کرکے شہر میں دوبارہ وارداتوں کے لیے تیار کرتے تھے ۔ رینجرز نے جے آئی ٹی رپورٹ ، بلوں کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کر دی ہیں ۔ جمعہ کو ڈاکڑ عاصم حسین کو پولیس نے سخت سیکورٹی حصار میں بکتر بند گاڑی کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی عدالت کے روبرو پیش کیا ۔ سماعت سے قبل پولیس نے ڈاکٹر عاصم حسین سے ان کی اہلیہ ، بیٹی و دیگر عزیز واقارب سے ملاقا ت کرائی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر عاصم حسین مسلسل سفید رنگ کی تسبیح پر ورد کرتے رہے جبکہ ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار واضح نظر آرہے تھے ۔ سماعت شروع ہوئی تو مقدمہ کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف دہشت گردوں کے علاج ومعالجے سے متعلق الزامات ثابت ہوئے اور نہ ہی کسی نے ایسی کوئی شہادت دی جس پر انہوںنے سیکشن 497کے تحت ڈاکٹر عاصم حسین کو رہا کر دیا ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ملزم کو رہا کر دیا ہے جس پر تفتیشی افسر نےکہا کہ جی میں نے ڈاکٹر عاصم حسین کو رہا کر دیا ہے اور اس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے جس پر رینجرز کے اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مشتاق جہانگیری نے کہا کہ وہ اس کیس میں سندھ حکومت کی جانب سے وکیل ہیں تاہم تفتیشی افسر کو جب سے تفتیش ملی اس نے کوئی تعاون کیا نہ ہی یہ رپورٹ دکھائی، ڈاکڑ عاصم حسین کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور تفتیشی افسر کو ملزم رہا کرنے کا کوئی اختیار نہیں لہذا وہ استدعا کرتے ہیں کہ رپورٹ مسترد کر دی جائے۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپ نے ملزم کو کن وجوہات کی بنا پر رہا کیا چالان رپورٹ کہاں ہے اگر آپ نے ملزم کو رہا کر دیا ہے تو پھر عدالت کے روبرو کیوں پیش کیا جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کوئی شواہد نہیں اور سیکشن 497کے تحت وہ عدم ثبوت کی بنا پر ملزم کو چھوڑ سکتے ہیں ۔ عدالت نے تفتیشی افسر نے کہا کہ آپ نے ملزم کو چھوڑ دیا مگر چالان رپورٹ کہاں ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ مہلت دی جائے، 29دسمبر تک چالان رپورٹ پیش کر دیں گے۔ مشتاق جہانگیری نے دلائل میں کہا کہ تفتیشی افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف مقدمہ جےآئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر بنایا گیا جس میں شواہد موجود ہیں۔ اے ٹی اے کے سیکشن 21کے تحت ملزم کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔ رہا کرنےسے قبل تفتیشی افسر کو وجوہات لازمی طور پر عدالت کو بتانا ہو تی ہیں۔ مشتاق جہانگیری نے دہشت گردوں کو علاج فراہم کرنے کے بلز اور جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ لیاری گینگ وار کے 13دہشت گردوں زاہدبلوچ ، اللہ نور ، ماجد بلوچ ، یونس ، لاڈلا و دیگر شامل ہیں جبکہ القاعدہ کے جاوید ، طلحہ ، شاکر ، محمد عمر و دیگر کو علاج کی سہولتیں فراہم کی گئیں جو کہ بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ و دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں ۔ اس کے علاوہ متحدہ کے دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہیں 50فیصد رعایت پر علاج کی سہولت فراہم کی گئی ۔ جے آئی ٹی پر تمام ایجنسیوں کے دستخط موجود ہیں اور اس میں بتایا گیا کہ علاج کرانے والے بعض دہشت گرد ایسے بھی تھے جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔مشتاق جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ضیاالدین اسپتال کے ہی ڈاکٹر یوسف ستار کا اعترافی بیان بھی موجود ہے جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ تمام دہشت گردوں کو علاج کی سہولت ڈاکٹر عاصم حسین کی ہدایت پر دی جاتی تھی جبکہ ایک عینی شاہد رکشہ ڈرائیور غلام رسول کا بیان بھی واضح ہےجس میں اس نے بتایا ہے کہ وہ لیاری گینگ وار کے ظفر بلوچ اور عمر کچھی کو جانتا ہے جو کہ ضیا الدین اسپتال میں زیر علاج رہے اور وہ ان کے اہل خانہ کو لیاری سے اسپتال لےجاتا اور واپس چھوڑتا رہا ہے ۔ اور اس دوران وہ اسپتال کے اندر بھی گیا اور ظفر بلوچ اور عمر کچھی کو زیر علاج تھے۔ ڈاکڑ عاصم حسین نے بھی اعتراف کیا اور ان مقامات اور دستاویزات کی تصدیق کر دی ہے ۔ مشتاق جہانگیر ی نے کہا کہ ان تمام ترشواہد کے باوجود ملزم کا رہا کرنا واضح کرتا ہے کہ تفتیشی افسر نےملزم کو سیاسی د بائو پر رہا کرنے کی رپورٹ دی ۔ مدعی کے وکیل حبیب احمد نے کہا کہ ملزم کو رہا کرنے کا اختیار صرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا ہے جب اے ٹی اے میں مقدمہ درج ہو تو تفتیشی افسر کا یہ اختیار سلب ہو جاتا ہے۔ دوران سماعت ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل عامر رضا نقوی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے موکل کے خلاف تمام الزامات اسٹوریز ہیں اوراسٹوری کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جا رہےہیں ۔ آج تک کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسپتال کے ریکارڈ میں ردو بدل کر دی ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین سے کہا کہ کیا وہ کچھ بولنا چاہتے ہیں جس پر ڈاکٹر عاصم حسین نے جذباتی طور پر کہا کہ انہوں نے اسپتال کا ڈیٹا تبدیل کر دیا ہے اس مقصد کے لیے کمپیوٹر سے پہلے مریضوں کے نام خارج کیے گئے اور تمام دہشت گردوں کے نام شامل کر دیئے ۔ جعل سازی کے ذریعے اور ریکارڈ تبدیل کرکے ان پر الزام عائد کیا جارہا ہے ۔میں حلفیہ طور پر کہتا ہوں کہ رینجرز نے 90روز کے دوران اس قسم کی کوئی بات ان سے نہیں کی۔ انہوں نے سارے گینگسٹر کے نام ڈال دیئے ہیں، میں خود آرمی کا ریٹائرڈافسرہوں ،ایک ڈاکٹر کو سرکاری گواہ بنایاگیا میں مریض ہوں میرے ساتھ سارا معاملہ ذاتی ہو رہا ہے اس کی جو بھی وجوہات ہوں ان کی کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے ۔ جس ڈاکٹر نے علاج کیا اسے پکڑیں وہ تو اسپتال میں بھی نہیں بیٹھتے تھے بلوں کو میڈیکل ریکارڈ کہاں سے ثابت کیا جا سکتا ہے مجھ پر دبائو اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ انور منصور خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس کو درخواست دی ہے جس میں تصاویر میں ہیں کہ گن پوائنٹ پر کمپیوٹر سے ڈیٹا نکلوایا جا رہا ہے ۔ اگر جے آئی ٹی میں شواہد آگئے تھے تو یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ تفتیش کی ضرورت ہے ۔ تفتیشی افسر پر رینجرز دباو ڈال رہی ہے ۔ تفتیشی افسر کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے دبائو نہ ڈالا جائے ۔ اس موقع پر طرفین وکلا میں بھی تلخ کلامی ہوئی اور ماحول کشید ہ ہو گیا ۔ مشتاق جہانگیر ی نے کہا کہ تفتیشی افسر سیاسی دباو کے باعث اس قسم کی رپورٹ پیش کی وہ عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ اتنے اہم مقدمہ میں جانبداری کرنے پر تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ عدالت نے دلائل مکمل کرنے کے بعد اپنے فیصلے میں تفتیشی افسر کو 10روز کے اندر اندر چالان پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین کو نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے اور قرا ر دیا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے چالان کی رپورٹ پیش کرنے سے قبل ملزم کو رہا کرنے کی درخواست غیر منصفانہ استدعا ہے ۔ سماعت کے بعد مشتاق جہانگیر ی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے ڈاکٹر عاصم حسین کو بلیک قرار دیا ہے تفتیشی افسر سے دباو ڈالواکر یہ رپورٹ پیش کرائی گئی ۔ دوسری جانب رینجرز ذرائع کے مطابق رینجرز نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور رینجرز جلد ہی تفتیشی افسر کی تبدیلی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گی کیونکہ تفتیشی سیاسی اور حکومتی دبائو پر ڈاکٹر عاصم حسین کو رہا کر نا چاہتا ہے اور جانبدارانہ تحقیقات کا مرتکب ہوا ہے۔ بعدازاں ڈاکٹر عاصم حسین کو نیب عدالت کے جج سعد قریشی کے روبرو پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ نے رینجرز کی ڈاکٹر عاصم حسین پر دباؤ اور آزادنہ تحقیقات سے متعلق دائر متفرق درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسکیوٹر جنرل سندھ کو 16دسمبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کو نیب کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزم کو طبی سہولت فراہم کی جائے اور ہراساں نہ کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…