ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

رینجرز نے ڈاکٹرعاصم بارے ثبو ت پیش کردیئے

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) رینجرز نے ڈاکٹرعاصم حسین کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران دہشتگردوں کو علاج معالجے سےمتعلق مزید تفصیلات اور بل عدالت میں پیش کر دیئے ہیں۔جس کے مطابق ڈاکٹر یوسف ستار نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اقبالی بیان میں اعتراف کیا ہے تھا کہ اسپتال میں مختلف سیاسی جماعتوں اورکالعدم تنظیموں کے عسکری ونگ کے کارکن علاج کے لیے لائے جاتے تھے،ایم کیوایم،ٹی ٹی پی،لیاری گینگ وار،اے این پی ،،پیپلز امن کمیٹی کے لوگ علاج کے لیے آتے تھے۔ ڈاکٹر عاصم کی خصوصی ہدایت کے مطابق بغیر اطلاع انھیں ایڈمٹ کردیا جاتا تھا، ایم کیو ایم کے زخمیوں کا بل خدمت خلق فاونڈیشن کو بھیجا جاتا تھا،باقی لوگوں کے بل ان کے اپنے نام پر جاری کیے جاتے تھے، یہ اسپتال کی پالیسی کا حصہ تھا، میرااس میں کوئی کردار نہیں تھا،مجھے جو ہدایت ملتی تھی، ان پر عمل کرتا تھا،ایم کیو ایم کے ڈاکٹر نصرت،شوکت کے کے ایف،روف صدیقی،وسیم اختر ،عادل صدیقی ،انیس قائم خانی ،سلیم شہزاد ،قادرپٹیل وغیرہ فون کرکے اپنے ذاتی اور پارٹی کے مریضوں کے علاج میں رعایت کا کہاکرتے تھے، علاج میں 50فیصد رعایت صرف خدمت خلق فائونڈیشن کو دی جاتی تھی،کسی اور کو نہیں،ڈاکٹر عاصم کی جے آئی ٹی بھی عدالت میں جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے پانچ رکنی جے آئی ٹی کے روبرو مختلف الزامات کا اعتراف کیا سیاسی جماعت کے ٹارگٹ کلرز، عسکریت پسندوں اور کالعدم تنظیم کے ارکان کو علاج کی سہولت فراہم کی، سیاسی جماعتوں کی ہدایت پرجرائم پیشہ افراد کو علاج پر 50 فیصد رعایت دی گئی ڈاکٹر عاصم نے غیرقانونی طور پر رقم کی بیرون ملک ترسیل کا اعتراف کیا،ڈاکٹر عاصم کے نام پررجسٹرڈ 36 کمپنیز کے ذریعے رقم کی ترسیل کی گئی، رقم کی بیرون ملک 207 غیرقانونی ترسیلات کی گئیں، رقم کی ایک غیرقانونی ترسیل مشکوک ہے، وفاقی وزیر کی حیثیت سے اختیارات کا ناجائزاستعمال کیا، سوئی سدرن گیس، اوگرا، پی ایس او اور دیگر اداروں میں مداخلت کی، عدالت میں مختلف دہشت گروں کو دی جانے والی طبی امداد اور اس کے بل بھی پیش کیے گئے جبکہ عدالت میں سندھ حکومت کا وہ نوٹیفکیشن بھی پیش کیاگیا جس میں ان ملزمان کی نشاندہی کی گئی تھی جن کے سر کی قیمت حکومت سندھ نے مقرر کی اور ان کا علاج ڈاکٹر عاصم کی ہدایت پر ضیا الدین اسپتال میں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…