ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ڈھائی سو سالہ تاریخی اہمیت کا حامل کراچی کا ایک منفرد مندر

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سب سے بڑے اور تاریخی شہر کراچی کے مرکزی علاقے ٹاور کے قریب ڈھائی سو سال پرانا ”شری لکشمی نارائن مندر“جہاں تاریخی اہمیت کا حامل ہے وہیں یہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے منفردمذہبی حیثیت بھی رکھتا ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے سندھ کے اس منفرد مندرکو ماحولیاتی آلودگی اور سیکورٹی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔انگریز دور میں بڑھتی ہوئی سمندری تجارت کو مدنظر رکھتے ہوئے سمندر کنارے پتھر سے بنے پل کے ساتھ ہی واقع شری لکشمی نارائن مندر 200 سے 250 سال پرانا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے انگریز دورمیں 1854 کے بعد نیٹی جیٹی پل تعمیر کیا گیا تب بھی اس مندر کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے محفوظ رکھا گیا بلکہ کاروبار اور سیاحت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مندر کی افادیت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔سندھ میں پرانے ترین مندروں میں شمار ہونے والے شری لکشمی نارائن مندر کواس وقت ماحولیاتی آلودگی، سیکورٹی اور قبضہ مافیا سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس کے قریب نجی کمپنی کے سرمائے سے حالیہ برسوں میں بننے والی فوڈ اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ انگریز دور کا خستہ حال نیٹی جیٹی پل نئے سرے سے تعمیر ہوگیا لیکن جانے کیوں مندر کی تاریخی اہمیت کو نظرانداز کرکے اسے کونے تک محدود کردیاگیا۔ شری لکشمی نارائن مندر کے پوجاری ارجن مہاراج نے بتایا کہ مندر کو آباد کئے جانے کی حتمی تاریخ کا تو پتہ نہیں لیکن مندر کے پرانے پوجاریوں اور پنڈتوں کے مطابق شری لکشمی نارائن کم سے کم ڈھائی سو سال پرانا مندر ہے۔ سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی مذہبی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ارجن مہاراج کے مطابق ہندو مذہب کے اکثر لوگوں کی وصیت کے مطابق ان کے مرنے کے بعد ان کی راکھ کو شری لکشمی نارائن مندر سے سمندر برد کیا جاتا ہے۔ ہندو مت کی شادی شدہ خواتین اپنے شوہروں کی خوشحالی اورلمبی زندگی کیلئے کڑوا چوتھ کے ورتھ کی مذہبی رسومات بھی یہاں ادا کرنے آتی ہیں۔ڈوبتے اور ابھرتے سورج کی عبادت کرنے سمیت دیگر مذہبی رسومات کیلئے بھی کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شری لکشمی نارائن مندر آتے ہیں۔فوڈ اسٹریٹ کی سیرو تفریح کیلئے آنے والے افراد سمیت نیٹی جیٹی پل سے گزرنے والی ٹریفک کی جانب سے سمندر میں کچرا پھینکے کے باعث مندر کے آس پاس گندگی اور بدبو پھیلی ہوئی ہے جبکہ مندر کے ارد گرد سمندر کا پانی زہریلا اور کالا ہوچکا ہے جس سے مذہبی رسومات ادا کرنے میں شدید مشکلات درپیش آتی ہیں۔ سمندر کا پانی زہریلا اور کالا ہونے کے بعد ہندومت کے لوگ اب سمندر میں اشنان بھی نہیں کرتے۔مندر کی جگہ پر قبضہ کئے جانے کے سوال پر ارجن مہاراج کا کہنا تھا کہ مندر کی زمین پر کسی نے قبضہ نہیں کیابلکہ تہواروں کے مواقع پرفوڈ اسٹریٹ کی انتظامیہ ہمیں سیکورٹی بھی فراہم کرتی ہے۔مندر کی جگہ پر قبضے اور تزئین اور آرائش سے متعلق عدالت میں چلنے والے کیس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔کراچی انتظامیہ سمیت سندھ کے محکمہ ثقافت و سیاحت کو سندھ کے اس تاریخی مندر کی تزئین و آرائش سمیت سمندر کی آلودگی ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ ہندومت کے افراد کو اپنی مذہبی عبادات کرنے میں مشکلات درپیش نہ آئیں۔ یونیسکوقوانین کے مطابق ایک صدی سے پرانی عمارتیں،مذہبی و ثقافتی مراکزاور تعلیمی ادارے عالمی ورثہ ہوتے ہیں اور ان کی حفاظت کرنا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…