واشنگٹن (نیوزڈیسک)ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں۔عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، 2015ءمیں عالمی اوسط درجہ حرارت اب تک درج تاریخ کا ریکارڈ گرم ترین سال تھا۔ادارے نے بتایا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔موسمیاتی ادارے کے سربراہ، مائیکل جیراڈ کے بقول 2015 اب تک ریکارڈ کی گئی تاریخ کے مقابلے میں گرم ترین سال تھا، جس دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت جب سے ناپ تول کا باقاعدہ نظام وضع ہوا ہے، اپنی اونچی ترین سطح پر تھا۔ عین ممکن ہے کہ ایک ڈگر سیلشئس کی سطح عبور ہو جائے گی۔ا±نھوں نے مزید کہا کہ یہ کرہ ارض کے لیے ایک انتہائی خراب خبر ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں۔جیراڈ کے الفاظ میں، ’ہم النینو کے زوردار وقوعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو ابھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کے متعدد خطوں پر پڑنے والے موسمیاتی اثرات کی شنید دیتا ہے۔ گذشتہ اکتوبر کا مہینہ غیرمعمولی طور پر گرم تھا۔ النینو کےتپش کے عوامل میں سال 2016 کے دوران اضافہ مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق، پانچ سالہ مدت، 2011 سے 2015ءتک، تپش کا ریکارڈ دور تھا، جس دوران موسمیات کے کئی ایک ریکارڈ قائم ہوئے، جس میں موسمیاتی تبدیلی پر لو لگنے کے واقعات کے اثرات نمایاں تھے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی امریکہ میں یہ اب تک کا گرم ترین سال تھا، جبکہ ایشیا میں 2007ءگرم ترین سال تھا، اور جہاں تک افریقہ اور یورپ کا تعلق ہے، یہ سال دوسرا گرم ترین سال تھا۔جیراڈ کے بقول گرین ہاو¿س گیس کا اخراج، جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث ہے، ا±سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس اتنی سمجھ بوجھ اور آلات میسر ہیں کہ بہتر اقدام ہوسکتا ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اگلے ہفتے پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ موسمیاتی تبدیلی کا عالمی اجلاس منعقد ہونے والا ہے، جس میں عالمی سربراہان مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔اس اجلاس سے پہلے، اب تک دنیا کے تقریباً 150 ملکوں نے گرین ہاو¿س گیس کے اخراج پر کنٹرول کی کاوشوں کا حصہ بننے کا عہد کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے باعث عالمی تپش کو تین ڈگری سیلشئس تک کم کیا جاسکتا ہے؛ جو کہ ایک ڈگری کی مزید کمی ہے، جب کہ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں موسم میں ناقابل بیان منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات،2015ءنے ریکارڈ توڑ دیئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
عید الفطر کے بعد دفاتر کے نئے اوقاتِ کار جاری
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
شناختی کارڈ بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان کر دی گئی
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا



















































