اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لئے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،
عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکنے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ملک میں فیول سبسڈی کا شاندار پروگرام کامیابی سے جاری ہے جو دسمبر کے آخر تک رہے گا،ایل این جی کی درآمد سے اربوں روپے کمانے والے مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے، خیبرپختونخوا کے لئے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات کریں گی۔بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،اس کی بڑی وجہ خطے میں بدامنی ہے،پاکستان امن قائم کرنے کے لئے پہلے کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے،گزشتہ ہفتے میں پاکستانی وفد نے دو بار تہران کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تہران گئے جہاں پاکستان،سعودی عرب ، ایران اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہوئی، وہاں پر پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بھی اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی کہ کس طرح خطے میں باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں فیول سبسڈی کا شاندار پروگرام کامیابی سے جاری ہے جو دسمبر کے آخر تک رہے گا،ڈیڑھ کروڑ افراد نے ٹوکن استعمال کئے ہیں اور اگر پانچ افراد پر مبنی کنبہ ہو تو کم از کم ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہوچکے ہیں، حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں پڑنے دیا، جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا بلکہ وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم نے ریفائنریز کے ساتھ اہم بات چیت کی اور انہیں کہا گیا کہ یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے وہ برداشت کریں، اس پر وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے کے حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے پیش نظر عوامی ریلیف کیلئے فیول سبسڈی سکیم کا اجرا کیا گیا جس سے اب تک ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں تقریبا ً 28 ارب روپے کی سبسڈی دی جا چکی ہے، یہ پروگرام انتہائی کامیابی اور شفاف طریقے سے آگے چل رہا ہے، اس پر متعلقہ حکام نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے، کچھ پٹرولیم پمپوں سے اس سکیم کے تحت گڑ بڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم اس پر مکمل نظر ہے اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہو گی۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ ایسے پٹرول پمپوں کو بند کریں، انہیں سزا دی جائے تاکہ یہ عبرت پکڑیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح ہم نے ایل این جی مافیا جنہوں نے اس کی درآمد سے اربوں روپے کمائے، اس سے کئی دہائیوں بعد چھٹکارا حاصل کیا ہے اور اب مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے، اب مسابقت اور شفافیت کے ساتھ ایل پی جی کی درآمد اور اس کا انتظام کیا جا رہا ہے، پی ایس او اور پارکو جیسے سرکاری اداروں کے ذریعے امور کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم، وزیر توانائی اور وزیر خزانہ سمیت ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہیں کہ کئی دہائیوں بعد یہ کفر خدا خدا کرکے ٹوٹا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایل پی جی کی درآمد میں مسابقت ہوگی اور مقامی ایل پی جی کی لاٹ میں نیلامی ہوگی اور اس کا منافع حکومت عوام تک سبسڈی دے کر پہنچائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا کیلئے ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے
جس کی مالیت 160 ارب روپے ہے اور اس میں سکیورٹی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کثیر تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں، وہاں پر دی جانے والی عظیم قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ کی مدد اور فورسز کی بھرپور کاوشوں سے اس کا خاتمہ ہو گا، صوبے میں اس وقت کی حکومت اور وفاقی حکومت باہمی تعاون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا سر کچلیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت ترین صوبہ ہے جہاں کے بسنے والے غیور اور بہادر لوگ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں وہاں پر بڑی شہادتیں ہوئی ہیں، بلوچستان میں بھی ایک عرصہ سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا تاہم بدقسمتی سے دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، انشا اللہ اب اس کا قلع قمع ہو گا اور پوری قوم کی دعائوں سے اس سے نجات ملے گی۔ وزیراعظم نے موسم سرما کی آمد پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ بحری راستوں میں درپیش حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ہر دوسرے، تیسرے دن ان چیلنجز پر غور کرنے کیلئے اجلاس منعقد ہوتا ہے اور اس میں فیول اور ایل پی جی سمیت دیگر ذرائع کی دستیابی اور فراہمی کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انسانی حد تک اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی درکار طلب ان تک باہم پہنچائی جائیں، بجلی کے کارخانے چلتے رہیں، اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دبائو کو بھی پوری محنت کاوش سے کنٹرول میں رکھیں گے، بھرپور کاوش ہو گی کہ کوئی مشکلات درپیش نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو گروپ آف 24 کی چیئرمین ملنے پر کابینہ کے پلیٹ فارم سے ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہمیں پورا یقین ہے کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو جو عزت اور ذمہ داری عطا فرمائی ہے وہ پوری محنت سے وہاں ہر فورم پر اپنا کیس پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ روز فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم، تمام اداروں اور شخصیات کو جاتا ہے جنہوں نے ان کی لیڈر شپ میں یہ کامیاب تجربہ کیا۔ اس موقع پر وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی درآمد کے حوالے سے انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔



















































