اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت میں ایک شخص اپنے قریبی دوست کو قتل کرنے کے بعد مسلسل خوابوں میں اس کی آمد سے پریشان ہوگیا اور بالآخر ضمیر کی خلش برداشت نہ کرتے ہوئے خود ہی پولیس اسٹیشن پہنچ کر گرفتاری دے دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست مہاراشٹر کے شہر ڈومبویلی کے علاقے موتھا گاؤں میں پیش آیا، جہاں 9 اکتوبر کو وشال کدم اور پربھو کارکاڈے نامی دو دوست ایک ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے۔ اس دوران کسی معمولی بات پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جو شدت اختیار کرگئی اور غصے میں آکر پربھو نے وشال پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔قتل کے بعد ملزم نے اپنے مکان مالک سندیش مہاترے کی مدد سے لاش ایک بوری میں بند کی اور رات کی تاریکی میں نالے کے قریب سنسان جگہ پر پھینک دی۔ واردات کے بعد پربھو نے شہر سے فرار ہونے کا ارادہ بھی کیا تھا، تاہم مقتول دوست کے بار بار خواب میں آنے کے باعث اس کی نیندیں اڑ گئیں۔رپورٹ کے مطابق ملزم کو مسلسل 20 راتوں تک وشال خواب میں دکھائی دیتا رہا،
جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہوگیا۔ بالآخر پچھتاوے اور ذہنی اذیت سے تنگ آکر وہ خود تھانے پہنچا اور پولیس کے سامنے قتل کا اعتراف کرلیا۔ اس موقع پر وہ اقبالِ جرم کرتے ہوئے زار و قطار رونے لگا۔پولیس نے قتل کے الزام میں پربھو کارکاڈے کو گرفتار کرلیا، جبکہ لاش ٹھکانے لگانے اور شواہد مٹانے میں معاونت کرنے والے مالک مکان سندیش مہاترے کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔پولیس نے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔



















































