اسلام آباد (نیوز ڈیسک) روزانہ چہل قدمی کو صحت مند زندگی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے،
تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پیدل چلنے کی رفتار بھی انسانی صحت اور عمر پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق تیز قدموں سے چلنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔
ناروے کی نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے کی عادت رکھنے والے افراد میں مختلف وجوہات کی بنا پر موت کا امکان کم دیکھا گیا۔
تحقیق کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ اور جسمانی سرگرمیوں سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ افراد 1980 کی دہائی میں ایک طبی تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے تھے، جس کے تحت ہر چار سے پانچ سال بعد ان کے طبی معائنے کیے جاتے رہے۔
بعد ازاں 2012 اور 2013 میں ان افراد کے چلنے کی رفتار جانچنے کے لیے خصوصی ٹیسٹ کیے گئے۔ اس مقصد کے لیے انہیں ایک آلہ پہنایا گیا، جس کی مدد سے فی منٹ اٹھائے جانے والے قدموں کی تعداد ریکارڈ کی گئی۔
شرکاء کو ابتدائی طور پر 2.44 میٹر کا فاصلہ اپنی معمول کی رفتار سے طے کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ عمل تین مرتبہ دہرایا گیا اور حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر ان کی اوسط رفتار کا حساب لگایا گیا۔ اس کے علاوہ نو دن تک ان کی جسمانی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرکے روزانہ چلنے والے قدموں کی تعداد کا اندازہ بھی لگایا گیا۔
محققین نے ان افراد کی صحت اور زندگی سے متعلق معلومات کا مزید 12 سال تک جائزہ لیا۔ اس دوران عمر، جنس، تعلیم، ازدواجی حیثیت، تمباکو نوشی، خوراک، وزن، بلڈ پریشر اور دائمی بیماریوں سمیت مختلف عوامل کو بھی تجزیے میں شامل کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ تیز رفتاری سے چلنے والے افراد میں 12 سالہ مشاہداتی مدت کے دوران موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ محققین کے مطابق پیدل چلنے کی رفتار اور طویل عمر کے درمیان تعلق کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار چہل قدمی کسی فرد کی بہتر جسمانی صحت کی علامت ہوسکتی ہے۔ ایسے افراد میں دائمی بیماریوں کی تعداد کم ہونے یا موجودہ امراض بہتر انداز میں قابو میں ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
تحقیق میں شامل ماہرین نے وضاحت کی کہ جب کسی شخص کی صحت متاثر ہونا شروع ہوتی ہے تو اس کی چہل قدمی کی رفتار میں کمی نمایاں ہونے والی ابتدائی علامات میں شامل ہوسکتی ہے۔ اسی لیے پیدل چلنے کی رفتار کو کسی فرد کی عمومی جسمانی کیفیت جانچنے کے ایک اشارے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق فی سیکنڈ 1.2 میٹر کی رفتار سے چلنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم پایا گیا، جبکہ فی منٹ 112 قدم چلنے والوں میں یہ خطرہ تقریباً 17 سے 18 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن (JAMA Network Open) میں شائع ہوئے۔ تاہم یہ نتائج افراد کے درمیان مشاہدہ کیے گئے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے انہیں اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف تیز چلنے سے ہی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔



















































