نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر 5362221 92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
مرنے کے علاوہ
یہ دو کرداروں کی کہانی ہے‘ پہلے کردار کا نام محمد نعمان تھا‘یہ ایبٹ آباد کے علاقے منگال کا رہنے والا تھا‘
خوش شکل تھا‘ بات چیت کرنی آتی تھی‘ پیدائشی سیلز مین تھا‘ لوگوں کو شیشے میں اتارنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا‘ ایف آئی اے میں کلرک بھرتی ہو گیا لیکن پھر جعل سازی‘ رشوت اور کام پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے نوکری سے فارغ ہو گیا‘ ملازمت کے دوران اس کا رابطہ لوگوں کو ملک سے باہر بھجوانے والے گروہوں کے ساتھ ہو گیا‘ پاکستان میں یہ آسان ترین کام ہے‘ کیوں؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ‘ تمام پاکستانی نوجوان ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں‘ آپ کسی جگہ سرگوشی کر دیں نوجوانوں کی لائین لگ جائے گی اور جہاں کسی پراڈکٹ کے اتنے خریدار ہوں وہاں ’’دکان دار‘‘ کبھی بھوکے نہیں مرتے‘ دو‘ پورا پاکستان یہ سمجھتا ہے ملک سے باہر جانے کا راستہ دو نمبر ہے‘ آپ جعلی ویزے پر باہر جائیں گے یا پھر ڈنکی کے ذریعے بارڈر پار کریں گے‘ لوگ یہ سمجھتے ہیں ہم لیگل طریقے سے باہر نہیں جا سکتے اور ہمارا یہ کام کوئی دو نمبر شخص ہی کرسکتا ہے چناں چہ یہ عمر بھر ایک ایمان دار بے ایمان شخص تلاش کرتے رہتے ہیں‘ محمد نعمان نے یہ کام پکڑ لیا‘
اس کا ایک بھتیجا بھی اس کام میں اس کا شریک تھا‘ وہ گائوں سے پیسے پکڑنے لگا جب کہ نعمان نے اسلام آباد میں اپنے فلیٹ میں دفتر بنا لیا اور یہ ’’ہیومین سمگلنگ‘‘ میں لگ گئے‘ اس نے دو شادیاں کی تھیں‘ پہلی بیوی ایبٹ آباد سے تھی‘ وہ بہت جلد اس کی اصلیت جان گئی‘ وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی لیکن بے چاری اس سے پہلے فوت ہو گئی‘ اس کے ایک بھائی نے کوئٹہ سے ہزارہ برادری کی ایک لڑکی سے شادی کی تھی‘ یہ بھی کوئٹہ گیا اور ہزارہ لڑکی سے شادی کر لی لیکن وہ بھی بہت جلد اس کی اصلیت جان کر واپس چلی گئی‘ محمد نعمان کے مختلف چہرے تھے‘ وہ کبھی ایف آئی اے کا ڈپٹی ڈائریکٹر بن جاتا تھا‘ کبھی خود کو میجر کہتا تھا‘ کبھی کسی خفیہ ادارے کا اہلکار بن جاتا تھا‘ کبھی سپریم کورٹ کا آفیسر بن جاتا تھا اور کبھی کوئی شناخت پا لیتا تھا‘ اس نے آخر میں خود کو سٹڈی ویزا کنسلٹنٹ ڈکلیئر کر دیا‘ خوش شکل تھا لہٰذا لڑکیاں بہت جلد اس کے جھانسے میں آ جاتی تھیں اور وہ زیادہ تر وقت ان کے درمیان رہتا تھا‘ لڑکیاں اسے مزید لڑکیوں تک پہنچاتی رہتی تھیں‘ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ دوسروں کی رقم پر عیاشی کرتا رہا‘ اس کا کھیل مزید جاری رہ سکتا تھا لیکن پھر اس کی کہانی میں دوسرا کردار آ گیا‘ اس کردار کا نام لائبہ اعجاز تھا۔
لائبہ اعجاز نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس کیا تھا‘ وہ بہت برائیٹ سٹوڈنٹ تھی‘ اس کی خواہش تھی وہ امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور وہیں ایڈجسٹ ہو جائے‘ وہ نعمان کی ایجنٹ لڑکیوں کے ذریعے اس سے ملی اور نعمان نے اسے دو تین ملاقاتوں میں شیشے میں اتار لیا‘ لائبہ کے والدین اس پر بہت اعتماد کرتے تھے‘ اس نے اپنے ابو اور امی کو بتایا میرا رابطہ ایک سٹوڈنٹ کنسلٹنٹ سے ہو گیا ہے‘ وہ میرا داخلہ ہارورڈ یونیورسٹی میں کرا دے گا‘ والدین خوش ہو گئے‘ لائبہ کا والد اور بھائی بھی نعمان سے ملا‘ انہیں یہ قابل اعتماد محسوس ہوا اور یوں یہ کھیل شروع ہو گیا‘ نعمان ان سے تھوڑی تھوڑی کر کے رقمیں وصول کرتا رہا‘ کبھی ٹیسٹ کے نام پر اور کبھی داخلہ فیس کے نام پر‘ وہ انہیں رسیدیں بھی دیتا رہا‘ لائبہ کا والد دودھ بیچتا تھا اور غریب آدمی تھا‘ بہرحال وہ جیسے تیسے کر کے رقم کا بندوبست کرتا رہا‘ لائبہ کی ماں نے اپنا زیور بیچ دیا‘ باپ کے پاس ایک پلاٹ تھا‘ اس نے وہ بھی فروخت کر دیا یوں ان کی ساری جمع پونجی اس کھیل میں ضائع ہو گئی‘ نعمان نے آخر میں بینک سٹیٹمنٹ کے نام پر بھی ٹھیک ٹھاک رقم وصول کر لی‘ یہ رقم کتنی تھی اس کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں‘ کوئی 51 لاکھ بتاتا ہے‘ کوئی 70 لاکھ اور ایک کردار نے یہ رقم 90 لاکھ بھی بتائی‘ بہرحال قصہ مختصر نعمان نے آخر میں لائبہ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کا خط دے دیا‘ وہ اور اس کا خاندان خوش ہوگیا‘ اس رات گھر کے کسی فرد کو نیند نہیں آئی‘ وہ بیٹی کے لیے گرم کپڑے خریدنے کے بارے میں بھی سوچتے رہے‘ اب اگلا مرحلہ ویزے کا حصول تھا‘ امریکی سفارت خانے سے ویزے کے لیے تاریخ لے کر دینا نعمان کی ذمہ داری تھی‘ وہ لائبہ کو مختلف تاریخیں دیتا رہا‘ یہ تاریخیں چند دن بعد بدل جاتی تھیں اور وہ نئی تاریخ کے لیے مزید رقم کا تقاضا کر دیتا تھا‘ لائبہ اس کے دفتر کے چکر لگا لگا کر تنگ آ گئی‘ اس دوران اس نے داخلے کا لیٹر چیک کرایا تو وہ جعلی نکل آیا‘ وہ فوراً نعمان کے پاس گئی‘ نعمان اسے شروع میں لیٹر کے اصلی ہونے کا یقین دلاتا رہا لیکن جب لڑکی نے زیادہ زور دیا تو اس کا رویہ بدل گیا‘ لائبہ اس سے اپنی رقم واپس چاہتی تھی‘ وہ درمیان میں شامل لڑکیوں کو بھی ساتھ لے کر گئی لیکن معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا چلا گیا‘ نعمان نے آخر میں اسے والد اور بھائی کو اٹھوانے کی دھمکی بھی دے دی‘ لڑکی گھبرا گئی اور اس نے اس کی منتیں شروع کر دیں لیکن شیطانوں پر منتیں کہاں اثر کرتی ہیں‘ وہ باز نہ آیا‘ یہ کھیل بھی چند دن چلا اور آخر میں نعمان نے لائبہ کو بلاک کر کے فون بند کر دیا‘ لڑکی اسے تلاش کرتی رہی لیکن وہ غائب ہو گیا‘
لڑکی حساس تھی‘ وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی ‘ وہ 9 اکتوبرکودو بجے گھر سے نکلی اتوار بازار(جی ٹین) آئی اور درخت پر دوپٹہ باندھ کر خودکشی کر لی۔
لائبہ اعجاز کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی‘ میڈیا نے یہ خبر اٹھا لی اور یوں یہ ایشو حکومت کے نوٹس میں آ گیا‘ لڑکی کے ماموں اور والد نے پولیس کو پوری سٹوری بتائی‘ پولیس نے نعمان کو تلاش کیا اور11 اکتوبرکو گرفتار کر لیا‘ اس نے شروع میں آئیں‘ بائیں اور شائیں کیا لیکن معاملہ حساس تھا چناں چہ اس کے پاس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘ پولیس نے اس سے 51 لاکھ روپے ریکور کر لیے‘ پولیس تفتیش کے دوران نعمان نے دو انکشاف کیے‘ اس کا خیال تھا لائبہ بھی باقی کرداروں کی طرح رو دھو کر چپ کر جائے گی‘ یہ اگر خاموش نہ ہوئی تو وہ تھوڑی بہت رقم واپس کر کے اور باقی کے لارے دے کر معاملہ ٹال دے گا‘ دوسرا اس کا خیال تھا میں اگر پکڑا بھی گیا تو میں آدھی رقم پولیس کو دے کر جان چھڑا لوں گا‘ اس کے یہ دونوں اعتراف ہمارے قانون اور انصاف کا نوحہ ہیں‘ ہمارے ملک میں زیادہ تر مجرم یہ سمجھتے ہیں ہم مدعی کو دبا کر چپ کرا دیں گے یا پھر انصاف خرید لیں گے اور ان کا یہ خیال غلط بھی نہیں‘ پاکستان میں پولیس اور عدالتی نظام دونوں قابل فروخت ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر محمد نعمان 20اکتوبرکی رات پولیس مقابلے میں مارا گیا‘ یہ پولیس مقابلہ اصلی تھا یا جعلی ہم سردست اس بحث کو سائیڈ پر رکھتے ہیں اور اس معاملے کے چند ہول ناک پہلوئوں پر توجہ دیتے ہیں‘ آپ یہ ملاحظہ کریں لائبہ اعجاز جیسی برائیٹ بچی کو انصاف لینے کے لیے کیا کرنا پڑا؟ اسے مرنا پڑ گیا‘
کیا یہ حقیقت نہیں اگر لائبہ خودکشی نہ کرتی اور وہ بھی عوامی جگہ پر سرعام تو کیا اس کو انصاف ملتا؟ کیا اس کا مجرم گرفتار ہوتا؟اور اس کی رقم ریکور ہوتی؟ ان تمام سوالوں کا جواب ’’ناں‘‘ ہے‘یہ حقیقت ہے یہ بچی فراڈ کے کاغذات لے کر کسی بھی فورم پر چلی جاتی تو کسی نے اس کی بات نہیں سننی تھی‘ یہ اگر میرے پاس بھی آ جاتی تو میں بھی ایک لمبی تقریر کر کے اسے واپس بھجوا دیتا‘ میں بھی اسے بتاتا تم کس قدر بے وقوف ہو‘ کیا تمہیں اتنا بھی پتا نہیں تھا انٹرنیشنل یونیورسٹیوں میں داخلے یوں نہیں ملتے‘ تم لوگ اس فراڈیے کو رقم کیوں دیتے رہے اور تم نعمان سے زیادہ قصوروار ہو وغیرہ وغیرہ‘ یہ اگر این سی سی آئی اے یا پولیس کے پاس جاتی تو اسے عدالت کا راستہ دکھا دیا جاتا اور عدالت میں وکیل اور کلرک اس کے مزید پیسے کھا جاتے اور یہ بوڑھی ہو کر فوت ہو جاتی لیکن اس کی رقم واپس نہ ملتی لہٰذا سوال یہ ہے ہمارے ملک میں لائبہ جیسے مظلوموں کا کیا ٹھکانہ ہے اور انہیں کون انصاف دلا سکتا ہے چناں چہ پھر اس کے پاس مرنے کے علاوہ کیا آپشن تھا‘ یہ صرف درخت پر لٹکی لاش کے ذریعے ہی وزیراعظم‘ وزیر داخلہ اور آئی جی تک پہنچ سکتی تھی اور اس نے یہ آپشن لے لیا‘ میرے ایک جاننے والے نے راولپنڈی میں ایک ایجنٹ کو اپنے تین بھتیجوں کو سعوی عرب بھجوانے کے لیے پیسے دیے‘ وہ ایجنٹ مختلف حیلے بہانوں سے پیسے لیتا رہا‘ جب ویزے دینے کی باری آئی تو وہ بھاگ گیا‘ لواحقین تھانے گئے‘ ریکارڈ نکلوایا گیا تو وہ میانوالی سے اشتہاری نکل آیا‘ اس پر میانوالی میں پہلے سے فراڈ کے تین پرچے درج تھے ‘میانوالی کے بعد وہ اب راولپنڈی میں لوٹ مار کر رہا تھا اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا‘آپ اندازہ لگائیںایک اشتہاری شخص معاشرے میں دندتا پھر رہا ہے‘ لوگوں کو لوٹ رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں‘ آخری اطلاعات تک وہ بہاولپور میں لوگوں کو بیرون ملک بھجوا رہا ہے اور لوگ اس کے ہاتھوں لٹنے کے بعد تھانوں اور ایف آئی اے کے چکر لگا رہے ہیں جب کہ وہ مزے سے بہاولپور میں بیٹھا ہے ۔ دوسرا المیہ‘ نعمان جیسے لوگ اس ملک میں کس قدر بااعتماد ہیں؟
یہ کس دھڑلے سے ایف آئی اے‘ خفیہ اداروں‘ سپریم کورٹ اور میجر بن کر دوسروں کو دھوکا دے دیتے ہیں‘ ان لوگوں میں اتنا اعتماد کہاں سے آ جاتا ہے؟ یہ لوگ یقینا جانتے ہیں ہمیں کوئی نہیں پکڑ سکتا اور اگرہم پکڑے بھی گئے تو ہم بڑی آسانی سے بچ جائیں گے اور تیسرا المیہ محمد نعمان نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا میں نے سوچا تھا میں آدھی رقم پولیس کو دے کر بچ جائوں گا‘ یہ اعتراف بذات خود ملک کے پولیسنگ اور جسٹس سسٹم کے خلاف ایف آئی آر ہے اور یہ ثابت کرتا ہے پاکستان سے لاء اینڈ جسٹس کا جنازہ نکلے دہائیاں گزر چکی ہیں‘ یہاںاب کچھ نہیں بچا‘ حضرت علیؓ نے چودہ سو سال قبل یہ فرما کر کام یاب اور ناکام معاشروں کی تعریف کر دی تھی‘ آپؓ نے فرمایا تھا‘ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں اور ہم من حیث القوم بے انصاف لوگ ہیں‘ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے محمد نعمان سے لے کر چیف جسٹس تک سب ایک ہیں‘ ہم سب ظالم‘ بے انصاف اور بے ایمان ہیں لہٰذا پھر ہمارے ملک میں انصاف کے لیے لائبہ کی طرح مرنے کے علاوہ کیا آپشن بچتا ہے؟ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے‘ ہم بے انصافی کی چکی میں پس پس کر مر جائیں یا پھر لائبہ کی طرح ایک ہی بار درخت کے ساتھ جھول جائیں۔
میں اکثر حیران ہوتا ہوں ملک میں ایک سرحد سے دوسری سرحد تک بے انصافی کی بکھری ہوئی داستانیں دیکھ اور سن کر ہمارے حکمرانوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟ ہمارے وزیراعظم‘ آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان کھانا کیسے کھا لیتے ہیں اور یہ بستر پر کیسے لیٹ جاتے ہیں؟ کیا ان کو خدا یاد نہیں یا پھر انہیں خدا نے بھی اپنے صفحے سے خارج کر دیا ہے‘ خدا کے لیے اس ملک میں اور کچھ کریں یا نہ کریں لیکن انصاف ضرور قائم کر دیں ورنہ یہ جہنم ہم سب کو نگل جائے گا‘ آپ خود سوچیں جس ملک میں مدعی پولیس سٹیشن جانے کی بجائے انصاف کے لیے درخت پر جھولنے پر مجبور ہو جائے اور وزیر داخلہ ملزم کو عدالت بھجوانے کی بجائے پولیس مقابلے میں مروانے پر مجبور ہو جائے اس میں نظام انصاف کے حق میں کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے‘ کیا اس کا یہ مطلب نہیں انصاف کے بارے میں لائبہ اعجاز اور محسن نقوی دونوں ایک پیج پر تھے‘ دونوں کی رائے ایک تھی یعنی ملک میں عدالت اور ججوں کی کوئی ضرورت نہیں‘ ہماری آنکھ اگر اب بھی نہیں کھلتی تو پھر کب کھلے گی؟ کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے؟۔



















































