منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

datetime 6  اکتوبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)
بلوچستان میں اس وقت چھ انٹرنیشنل فورسز پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہیں‘ پہلی فورس انڈیا ہے‘ انڈیا ایک طرف مشرقی سرحد سے پاکستان کے سامنے کھڑا ہے‘

سیاچن سے لے کر سرکریک تک دنیا کی سب سے بڑی فوجی سرحد کی دونوں سائیڈز پر دو نیو کلیئر آرمیز تیار بیٹھی ہیں‘ یہ محاذ پچھلے پچاس سال سے مسلسل ایکٹو ہے‘ آزادی کے بعد ایک بھی ایسا دن نہیں گزرا جب فوجیں سرحدوں سے پیچھے ہٹی ہوں یا انہوں نے ایک دوسرے کی نگرانی بند کی ہو‘ بھارتی اور پاکستانی فوج میں ایک اور چار کا فرق ہے‘بھارت کا دفاعی بجٹ بھی پاکستان کے کل بجٹ سے زیادہ ہے لیکن انڈیا اس کے باوجود پاکستان کو شکست نہیں دے سکا‘ یہ اسے پیچھے نہیں ہٹا سکا لہٰذا اس نے بلوچستان اور کے پی میں پاکستان کی پشت پر حملے شروع کردیے ہیں جن کے ذریعے یہ پاک فوج اور حکومت دونوں کی توجہ تقسیم کر رہا ہے تاکہ جس دن یہ مشرقی سرحدسے پاکستان پر حملہ کرے اسی دن ہم پر پیچھے سے بھی حملہ ہو جائے اور ہم درمیان میں پس کر رہ جائیں‘ انڈیا کا دوسرا مقصد ہماری ’’ڈیفنس کاسٹ‘‘ میں اضافہ ہے‘ ہم نے اپنے سارے دفاعی اثاثے بھارت کے لیے بچا کر رکھے تھے‘ ایک ایک گولی اور ایک ایک گولے پر انڈیا کا نام لکھا تھا لیکن اب بلوچستان اور کے پی میں بھی گولیاں‘ گولے‘ جوان اور افسر ضائع ہو رہے ہیں جس سے ہماری ’’ڈیفنس کاسٹ‘‘ بڑھ رہی ہے‘ پاکستان معاشی لحاظ سے کم زور ملک ہے‘ ریاست کے لیے 25 کروڑ لوگوں کی دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے‘ اوپر سے جنگوں کے اخراجات بھی شروع ہو گئے لہٰذا پاکستان کوسالانہ 100 بلین ڈالر مزید چاہییں‘ ہمیں یہ رقم تین ذرائع سے مل سکتی ہے‘ پاکستان میں دوسرے ملکوں سے براہ راست سرمایہ کاری ہو‘ یورپ‘ امریکا اور چین کے سرمایہ کار پاکستان میں انڈسٹری لگائیں اور وہ پراڈکٹس ایکسپورٹ ہوں‘ دنیا اس کے لیے تیار ہے لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں امن و امان چاہیے‘ ملک سے جب روزدہشت گردی کی خبریں آئیں گی اور ہر عمارت اور گھر کے سامنے مسلح گارڈز کھڑے ہوں گے تو ملک میںکون سرمایہ کاری کرے گااور بھارت بھی حملوں اور بری خبروں کے ذریعے سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کر رہا ہے‘ رقم کا دوسرا سورس خود انحصاری ہے‘ ہم جب تک تیل سے لے کر خوراک تک اپنی ضرورت کی ہر چیز خود پیدا نہیں کرتے ہم اس وقت تک اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے‘ ہمارے پاس گیس اور پٹرول کے وسیع ذخائر ہیں جب کہ پاکستان کا 70 فیصد رقبہ زرعی ہے‘ ہم اگر اپنی زمین کو قابل کاشت بنا لیں اور اپنی ضرورت کی گیس اور تیل پیدا کر لیں تو بھی ہم قدموں پر کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن انڈیا ہمیں یہ بھی نہیں کرنے دے رہا‘

آپ نے کبھی سوچا پاکستان میں جہاں بھی گیس یا تیل نکلتا ہے وہاں دہشت گردی کیوں شروع ہو جاتی ہے؟ ہماری گیس اور تیل کی پائپ لائینز کو کون اڑا رہا ہے؟ ہم کوئی ڈیم بنانا چاہتے ہیں یا بنجر زمین سیراب کرنے کے لیے نہر کھودنے لگتے ہیں تو ملک میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے‘ کیوں؟ اور اس کا فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ ہم بجلی کے سستے پراجیکٹ بھی کیوں نہیں لگا پارہے اور ملک میں غیرملکی تیل‘ کوئلے اور گیس کے پاور پلانٹس کیوں لگ جاتے ہیں اور ملک ’’سرکولر ڈیٹ‘‘ سے کیوں نہیں نکل پاتا؟ ان کے پیچھے بھارت اور پاکستان کے چند عاقبت نااندیش لوگوں کے مکروہ چہرے ہیں‘ آپ نے کبھی سوچا پاکستان اپنی ہر آئل اینڈ گیس فیلڈ پر فوج لگانے پر کیوں مجبور ہے اور کالا باغ ڈیم پر دو صوبوں میں احتجاج کیوں شروع ہو جاتا ہے؟ یہ بھی ’’ڈیفنس کاسٹ‘‘ ہے اور اس کے پیچھے انڈیا ہے اور تیسرا ہم اپنے قدرتی وسائل تانبے‘ سونے‘ چاندی‘ کوئلے‘ گرینائیٹ‘ جم سٹونز اور رئیرارتھ منرلز کے ذریعے بھی خوش حال ہو سکتے ہیں‘ ان کے 90 فیصد ذخائر بلوچستان اور کے پی میں ہیں‘ پاکستان میں 1978ء میں ریکوڈک میں سونا اور تانبا دریافت ہوا تھا لیکن ملک میں جو بھی بین الاقوامی کمپنی آئی اس پر حملے شروع ہو گئے یا پھر عدالتیں اسے روک کر بیٹھ گئیں چناں چہ پچاس برسوں سے سونا اور تانبا نہیں نکل سکا‘ یہ بھی بھارت کا کمال ہے کیوں کہ یہ جانتا ہے جس دن نیوکلیئر پاکستان خوش حال ہو گیا اس دن یہ ہماری گرفت سے باہر نکل جائے گا‘ بھارت کو ایک ایسا پاکستان چاہیے جو معاشی طور پر دن بہ دن کم زورہوتا جائے اور اس کے فوجی اخراجات بڑھتے چلے جائیں اور اگر یہ فارمولہ کام یاب ہو جاتا ہے تو کیا ہو گا؟ پاکستان ختم ہو جائے گا لہٰذا انڈیا کسی عالمی کمپنی کو قدرتی وسائل نکالنے دے رہا ہے‘ ہمیں تیل‘ گیس اور خوراک کے معاملے میں خود انحصار ہونے دے رہا ہے اور نہ دفاعی اخراجات کم کرنے دے رہا ہے یوں ہم معاشی طور پر پھنستے چلے جا رہے ہیں۔

بھارت اس کھیل کے لیے تین طاقتوں کو استعمال کر رہا ہے‘ افغانستان‘ ایران اور یو این اور آئی ایم ایف جیسے عالمی ادارے‘ بھارت قیام پاکستان کے فوراً بعد افغانستان میں بیٹھ گیا تھا‘ بھارتی فلمیں ممبئی‘ کولکتہ اور دہلی کے ساتھ ساتھ کابل میں بھی لانچ ہوتی تھیں‘ افغان طالب علموں کو انڈیا میں تعلیم کے لیے سکالر شپ بھی دیے جاتے ہیں‘ امریکا 2002 ء میں جب افغانستان آیا تو بھارت نے وہاں چارقونصل خانے بنائے اور کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی شروع کرا دی‘ ایران میں 1979ء میں انقلاب آیا‘ نئی انقلابی قیادت شاہ ایران سے دوستی کی وجہ سے پاکستان کو پسند نہیں کرتی تھی لہٰذا ایران انڈیا کے زیادہ قریب ہو گیا‘ ایران گوادر کو بندر عباس اور چاہ بہار کے لیے معاشی خطرہ بھی سمجھتا ہے چناں چہ یہ بھی بھارتی گیم کا حصہ بن گیا‘ افغان صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ٹریننگ کیمپ بن گئے اور وہاں سے پاکستان پر باقاعدہ حملے شروع ہو گئے‘ را چاہ بہار میں بیٹھ گئی اور کلبھوشن یادیو جیسے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کرا نے لگی۔

انڈیا کے بعد دوسری فورس اسرائیل ہے‘ اسرائیل نیو کلیئر پاکستان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں‘ اس کا خیال ہے یہ ٹیکنالوجی کسی نہ کسی وقت پاکستان سے سعودی عرب اور ایران پہنچ جائے گی جس کے بعد گریٹر اسرائیل کا پلان فیل ہو جائے گا چناں چہ یہ بھی بھارت کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو گیا‘ افغانستان میں اس وقت ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور القاعدہ سمیت 22 دہشت گرد تنظیمیں ہیں‘ ان سب کے پیچھے اسرائیل ہے‘ اسرائیل انہیں رقم بھی دے رہا ہے‘ ٹریننگ بھی اور انٹیلی جینس انفارمیشن بھی‘ یہ اب طالبان کو بیلاروس کے ذریعے جدید ملٹری ڈرونز بھی دینا چاہتا ہے تاکہ ’’کے پی‘‘ میں ڈرونز حملے ہو سکیں‘ ٹی ٹی پی اور بی وائے سی کو سوشل میڈیا کوریج بھی اسرائیل سے مل رہی ہے‘ ماہ رنگ بلوچ کو بین الاقوامی اداروں کے ذریعے پانچ ارب روپے کی فنڈنگ کی گئی‘ یہ بھی اسرائیل کی مہربانی ہے‘ بلوچ خواتین کو انٹرنیشنل فورمز پر بلوایا جاتا ہے اور انہیں بھرپور کوریج دی جاتی ہے‘ کیوں اور کیسے ؟ آپ خود سمجھ دار ہیں‘ اسرائیل اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یہ پاکستان کو معاشی اور فوجی لحاظ سے اتنا کم زور کر دینا چاہتا ہے کہ ہمیں جب کسی عالمی ادارے یا ملک کی طرف سے ’’ایٹم بم کے بدلے قرضوں کی معافی‘‘ کی پیش کش ہو تو ہمارے پاس انکار کی گنجائش نہ ہو اوراگر پاکستان انکار کرے تو دہشت گرد چھائونیوں پر قبضہ کر لیں اور اقوام متحدہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات کو ورلڈ سیکورٹی رسک قرار دے دے جس کے بعد نیٹو ہمارے تمام اٹامک پلانٹس کا کنٹرول سنبھال لے اور اس کے ساتھ ہی ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے‘ لاکھوں لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوں اور آخر میں ملک چار حصوں میں تقسیم ہوجائے‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سست بارڈر تک انڈیا کے قبضے میں چلا جائے‘ بلوچستان آدھے کے پی تک آزاد ہو جائے‘ پنجاب اسلامک سٹیٹ آف پنجاب بن جائے اور کوسٹل لائین کے ساتھ اسلامک سٹیٹ آف سندھ تخلیق پا جائے اور یوں دو قومی نظریے اور دنیا کی پہلی اسلامک نیوکلیئر پاور کا خاتمہ ہو جائے‘ یہ اسرائیل اور انڈیا کا پلان ہے۔
بلوچستان میں تیسری عالمی طاقت چین ہے‘ یہ سی پیک کے ذریعے کم سے کم وقت میں بحیرہ عرب تک پہنچنا چاہتا ہے‘

ہم اکثر سوال کرتے ہیں چین سی پیک اور گوادر پورٹ پر اتنا وقت کیوں لگا رہا ہے؟ اس کی وجہ بہت دل چسپ ہے‘ چین اسے 2032ء میں مکمل کرنا چاہتا ہے‘ کیوں؟ شاید یہ سمجھتا ہے 2032ء تک خطے کی ساری ہیت بدل جائے گی لہٰذا یہ آہستہ آہستہ چل رہا ہے تاہم یہ طے ہے چین بلوچستان میں بے انتہا دل چسپی رکھتا ہے‘ اس کی تین وجوہات ہیں‘ بحیرہ عرب تک تجارتی رسائی‘ رئیر ارتھ منرلز (چین کے بعد رئیر ارتھ منرلز کا دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ بلوچستان میں ہے) اور آبنائے ہرمز پر فوجی قبضہ‘ چین تیل کا دنیا کا سب سے بڑا امپورٹر ہے‘ اس کی تیل کی 38 سے 45فیصد ضرورت آبنائے ہرمز سے پوری ہوتی ہے‘ امریکا نے ایران سے جنگ چھیڑ کر یہ سپلائی بند کر دی جس کے بعد چین کی انڈسٹری اور برآمدات ہچکولے کھانے لگی‘ چین اب آبنائے ہرمز میں اپنے بیس بنانا چاہتا ہے تاکہ دوبارہ کبھی اس کی آئل سپلائی بند نہ ہو سکے اور بلوچستان اس کام کے لیے انتہائی اہم ہے‘ چوتھی فورس امریکا ہے‘ امریکا 1948 ء سے گوادر میں بیٹھ کر سوویت یونین اور چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا‘ ایرانی انقلاب‘ افغانستان اور مڈل ایسٹ کی دولت بھی اسے بلوچستان کی طرف دھکیل رہی ہے‘بالفرض اگر یہ بلوچستان میں بیٹھ جاتا ہے تو ایک طرف یہ عربوں پر نظر رکھ سکے گا‘ دوسری طرف افغانستان اور ایران زمینی سرحدوں کے ذریعے اس کے کنٹرول میں رہیں گے اور تیسرا یہ چین کو بھی بحیرہ عرب سے دور رکھنے میں کام یاب ہو جائے گا‘ اس کے ساتھ ساتھ اسے بلوچستان کا سونا‘ تانبا اور رئیرارتھ منرلز بھی مل جائیں گی‘ پانچویں طاقت افغانستان اور ایران ہیں‘ افغان طالبان اپنا نظریہ کے پی اور بلوچستان کے پشتون علاقوں تک پھیلانا چاہتے ہیں‘ یہ پشتو بولنے والے تمام علاقوں کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور انہیں واپس اپنی نام نہاد اسلامی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں‘

بھارت اس ’’نیک کام‘‘ میں ان کی مدد کر رہا ہے جب کہ ایران کے دو ایشو ہیں‘ یہ سمجھتا ہے اگر گوادر میں انٹرنیشنل پورٹ بن گئی تو یہ ایران کی دونوں پورٹس چاہ بہار اور بندرعباس کو کھا جائے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ چین کی انڈسٹری کی ’’سی پیک‘‘ کے ذریعے گوادر تک رسائی ہو گی اور یوں زیادہ تر تجارتی ٹریفک گوادر شفٹ ہو جائے گی‘ دوسرا یہ بلوچستان کو سیستان (ایرانی بلوچستان) کا حصہ سمجھتا ہے‘ اس کا خیال ہے اگر پاکستان کا آدھا بلوچستان سیستان میں شامل ہو جائے تو ایران مستقبل میں مشرقی سائیڈ سے محفوظ ہو جائے گا اور چھٹی فورس خلیجی ریاستیں ہیں‘ خلیج میں اس وقت 26بڑی بندر گاہیں‘ اس میں دنیا کی سب سے بڑی کنٹینر شپنگ پورٹ دوبئی بھی شامل ہے یوں دنیاکی 20 سے 25فیصد تجارت خلیج کے ہاتھ میں ہے‘ خلیجی ممالک دنیا کی سب سے بڑی سیاحتی منزل بھی بن چکے ہیں‘ صرف دوبئی شہر کا ہوٹلوں اور ریستورانوں کا روزانہ ریونیو چھ سو ملین ڈالرز ہے جب کہ ان ریاستوں کے ساتھ کوئی زرعی اور سبز علاقہ بھی نہیں لگتا‘اب اگر گوادر ڈویلپ ہو جاتا ہے تو اسے پنجاب اور سندھ کی زرعی اجناس اور بلوچستان اورپختونخواہ کی برف پوش چوٹیوں اور میٹھے پانیوں کی سہولت بھی حاصل ہو جائے گی چناں چہ خلیجی ممالک گوادر سمیت بلوچستان کی ساری کوسٹل لائین کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور یہ بھی بلوچستان میں امن قائم نہیں ہونے دے رہے‘ ان چھ طاقتوں کے مفادات نے بلوچستان کو جہنم بنا کر رکھ دیاہے‘ ہم اب آتے ہیں بلوچستان کے چوتھے ایشو یعنی نوجوانوں کی طرف ۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…