جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا حکومت سے فیول ریلیف سکیم جاری نہ رکھنے کا مطالبہ

datetime 2  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیٹرولیم شعبے میں ریلیف اسکیم اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے معاملے پر پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان معاملات طے نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان پیٹرول کی قیمتوں اور گیس کمپنیوں کے تقریباً 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات سے متعلق اختلاف برقرار ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ ایندھن پر عمومی سبسڈی کے بجائے صرف مستحق افراد کو ہدفی ریلیف دیا جائے، جبکہ حکومت نے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف پروگرام فوری طور پر ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف فیول ریلیف اسکیم کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ اندازے کے مطابق تین ماہ کی سبسڈی کی لاگت 75 ارب روپے سے بھی بڑھ سکتی ہے۔پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی قیمت کا تفصیلی کاسٹ بریک ڈاؤن بھی فراہم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق درآمدی پیٹرول کی لاگت تقریباً 250 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ صارفین کو یہ تقریباً 390 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس اور 27 روپے مختلف مارجنز کی مد میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن پر براہ راست سبسڈی یا کراس سبسڈی کے امکانات کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات معاف کرنے کے معاملے پر بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف گیس سیکٹر کی کمپنیوں کے واجبات ختم کرنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت نے اپنا منصوبہ آئی ایم ایف کے سامنے پیش کردیا ہے۔ تجویز کے مطابق سوئی گیس کمپنیوں کے ٹیرف ڈیفرنس کلیمز اور او جی ڈی سی، پی پی ایل و جی ایچ پی ایل کے اضافی منافع کو استعمال کرتے ہوئے قرضے کے حجم کو کم کیا جائے گا۔حکومت نے گیس کمپنیوں کے تقریباً 850 ارب روپے کے منافع سے گردشی قرضہ نمٹانے کی تجویز بھی دی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 850 ارب روپے کے منافع کا اس مقصد کے لیے استعمال مالی اعتبار سے غیر جانبدار نہیں۔

ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق انتظامی منصوبے پر آئندہ ہفتے تفصیلی اجلاس متوقع ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرولیم شعبے کے دو اہم معاملات پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا، تاہم آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر میں اصلاحات اور گیس چوری میں کمی کی کوششوں کو سراہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…