لندن (نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی ایندھن مارکیٹ پر اثرات کے باعث برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے سابقہ تمام ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیے ہیں اور اس کی اوسط قیمت 199.33 پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈیزل کی موجودہ قیمت جون 2022 میں ریکارڈ کی گئی 199.09 پنس فی لیٹر کی سابقہ بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ برطانیہ کے مختلف علاقوں میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 2 پاؤنڈ سے زیادہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد برطانوی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 59 پنس فی لیٹر، یعنی لگ بھگ 40 فیصد بڑھ چکی ہے۔ دوسری جانب پیٹرول بھی مہنگا ہوا ہے اور اس کی اوسط قیمت 174.23 پنس فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، یوں ڈیزل اور پیٹرول کے درمیان قیمت کا فرق تقریباً 25 پنس فی لیٹر ہوگیا ہے۔
آر اے سی کے مطابق 28 فروری کے مقابلے میں ڈیزل کی موجودہ قیمت میں 56.8 پنس فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔ یورپ اور امریکا میں بھی ڈیزل کی قیمتیں تاریخی بلند سطحوں کے قریب پہنچ گئی ہیں یا بعض مقامات پر سابقہ ریکارڈ عبور کر چکی ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران ایران جنگ کے باعث خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل کے شعبے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں خام تیل سے تیار ہونے والے ایندھن کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے عام صارفین کے علاوہ ضروری اشیا اور مختلف خدمات کی لاگت میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک اوسط خاندانی گاڑی کا ڈیزل ٹینک مکمل بھرنے پر اب تقریباً 110 پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں، جو جنگ کے آغاز کے وقت کے مقابلے میں 31 پاؤنڈ زیادہ ہیں۔
پیٹرول بھی جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں 41 پنس فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے، تاہم اس کی موجودہ قیمت اب بھی 2022 میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔
عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ روس، جو ڈیزل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، نے اپنی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کے بعد ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے عالمی سپلائی مزید متاثر ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی پیداوار پیٹرول کے مقابلے میں نسبتاً پیچیدہ ہے، جبکہ مال برداری، زراعت اور دیگر اہم شعبوں میں اس کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی طلب میں فوری اور نمایاں کمی لانا آسان نہیں۔
برطانیہ اپنی ڈیزل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر خاصا انحصار کرتا ہے۔ ملک کی چار ریفائنریاں مقامی ضرورت سے زیادہ پیٹرول تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ڈیزل کی ملکی طلب پوری کرنے کے لیے ان کی پیداوار کافی نہیں ہے۔
محکمہ برائے ٹرانسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے اختتام تک برطانیہ کی سڑکوں پر تقریباً ایک کروڑ 51 لاکھ ڈیزل گاڑیاں رجسٹرڈ تھیں، جبکہ ایک سال قبل یہ تعداد ایک کروڑ 57 لاکھ تھی۔ ان گاڑیوں میں ڈیزل کاروں کی تعداد تقریباً 98 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال ایک کروڑ 4 لاکھ کے مقابلے میں کم ہے۔



















































