منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

datetime 29  ستمبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)
آپ جسٹس افتخار محمد چودھری کو اچھی طرح جانتے ہیں‘ یہ سپریم کورٹ سے قبل کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے‘

فروری 2000ء میں ان کی ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں ترقی تھی‘ جسٹس نواز مری ان کے بعد سینئر موسٹ اور کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے تھے‘ میں آگے بڑھنے سے قبل آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں مری قبیلہ تین شاخوں میں تقسیم ہے‘ غزنی‘ لوہرانی اور بجارانی‘ قبیلے کی قیادت غزنی شاخ کے پاس ہے‘ نواب خیر بخش مری غزنی ہیں اور ان کی بجارانی مریوں کے ساتھ خاندانی لڑائی ہے‘ یہ ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں‘ جسٹس نواز بجارانی مری تھے‘ وہ اگر کوئٹہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے تو غزنی مریوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا چناں چہ جسٹس نواز مری کو چیف جسٹس بننے سے قبل چھ جنوری 2000ء کو ہائی کورٹ کے گیٹ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا‘ یہ انتہائی خوف ناک واقعہ تھا‘ جسٹس نواز کی فیملی نے اس قتل کی ایف آئی آر نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحب زادوں کے خلاف درج کرا دی جس کے بعد نواب کے چاروں بیٹے بالاچ مری‘ ہربیار مری‘ چنگیز خان مری اور گزین مری لندن بھاگ گئے‘ وہاں را ان کا انتظار کر رہی تھی‘ خیر بخش مری اس وقت کوئٹہ میں تھے‘ وہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا‘ پولیس نواب خیر بخش مری کو گرفتار کرنے سے گھبرا رہی تھی‘ معاملہ جب جنرل مشرف کے پاس گیا تو انہوں نے حکم دیا ’’پکڑو اسے اگر یہ نواب ہے تو کیا یہ جج کو قتل کر دے گا؟‘‘ پولیس اور فوج نے اس حکم کے بعد نواب مری کو گرفتار کر لیا اور یہاں سے بلوچستان میں مسلح جدوجہد شروع ہو گئی‘ خیر بخش مری کے صاحب زادوں بالاچ مری اور ہربیار مری نے لندن میں بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) کو دوبارہ ایکٹو کر دیا‘ را نے انہیں مالی وسائل فراہم کیے‘ یہ بلوچ نوجوانوں کو بھرتی کرنے لگے اور ریاستی اداروں اور شخصیات پر حملے شروع کر دیے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں بی ایل اے کے نئے دور نے جسٹس نواز کے قتل اور نواب خیر بخش مری کی گرفتاری سے جنم لیا لیکن یہاں یہ بات بھی کم دل چسپ نہیں جسٹس نواز مری کے قتل کی ایف آئی آر ان کے خاندان نے درج کرائی تھی‘ ریاست یا حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا لیکن بی ایل اے نے بجارانی مریوں کے بجائے ریاست پر براہ راست حملے شروع کر دیے‘ کیوں؟ کیوں کہ را کو بجارانی مریوں کی بجائے بلوچستان سے غرض تھی اور یہ بڑی مدت سے کسی ایسے واقعے کا انتظار کررہی تھی جس کے بعد بلوچستان میں آگ لگائی جا سکے اور نواب خیر بخش مری کی گرفتاری نے یہ موقع پیدا کر دیا‘ نواب مری کے بیٹوں کو لندن اور دوبئی میں بھاری رقوم ملنے لگیں اور یہ بلوچستان میں تباہی پھیلانے لگے‘ انہیں افغانستان اور ایران سے بھی مدد حاصل تھی‘ افغانستان میں بھارت نے بلوچوں کی مدد کے لیے قونصل خانے کھولنا شروع کر دیے تھے جب کہ ایران کے دونوں ساحلی شہروں بندر عباس اور چاہ بہار میں بھی را کے ایجنٹس بیٹھ گئے اور بلوچوں کو ٹریننگ اور اسلحہ دینے لگے۔

آئی ایس آئی کی اس سرگرمی پر نظر تھی‘ لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق اس وقت ڈی جی آئی تھے‘ان کا خیال تھا بلوچ نوجوان تیزی سے را کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں‘ ہمیں انہیں واپسی کا راستہ دینا چاہیے‘ یہ بات مجھے جنرل پرویز مشرف نے 2015ء میں دوبئی میں بتائی تھی‘ ان کا کہنا تھا جنرل احسان الحق کی بات میں وزن تھا چناں چہ ہمارے نمائندوں نے جیل میں نواب خیر بخش مری اور لندن میں بالاچ اور ہربیار مری سے ملاقاتیں کیں اور انہیں مقدمے واپس لینے کے بدلے پاکستان آنے پر تیار کر لیا‘ سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اسے جنرل احسان الحق کی بڑی سیاسی غلطی قرار دیتے ہیں‘ ان کا خیال ہے بلوچستان کے موجودہ حالات کی خرابی کی وجہ جنرل احسان الحق کا وہ غلط سیاسی فیصلہ تھا‘ بہرحال قصہ مختصر 2002ء کے الیکشن سے قبل فوج نے نواب خیر بخش مری کو رہا کر دیا‘ بالاچ مری لندن سے کوئٹہ واپس آ یا‘ اس کا فقید المثال استقبال ہوا‘ اس نے کوہلو سے الیکشن لڑا اور ایم پی اے بن گیا جب کہ ہربیار مری نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور لندن میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی‘ میں نے 2014ء میں لندن میں اس کا انٹرویو کیا‘ یہ پچھلے 12 برسوں سے وائرل اور بی ایل اے کی فلاسفی کا واحد ڈاکومنٹ ہے‘ یہ بے شمار مقامات اور مواقع پر کوٹ بھی ہوا‘ بالاچ مری الیکشن کے بعد سینکڑوں نوجوانوں کے ساتھ صوبائی اسمبلی آیا‘ حلف لیا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی اسمبلی نہیں گیا‘ یہ اس دوران بلوچستان میں نوجوانوں کو بی ایل اے میں بھرتی اور صوبے کے مختلف حصوں میں ملک کے خلاف بنیادیں کھودتا رہا‘ وہ بعدازاں کوہلوے کے مضافات میں ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں میں چھپ گیا اور وہاں سے فوج پر حملے کرنے لگا‘ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافے ‘ لال مسجد کے واقعات اور تحریک طالبان پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی ان سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا یوں وقت نے ثابت کر دیا بالاچ مری کو واپس لانا جنرل پرویز مشرف اور جنرل احسان الحق کی بڑی غلطی تھی‘

جنرل مشرف کی دوسری بڑی غلطی 26 اگست 2006ء کو نواب اکبر بگٹی کا قتل اور بگٹیوں کے خلاف آپریشن تھا‘ نواب اکبر بگٹی کے جنرل مشرف کے ساتھ دو پھڈے تھے‘ نواب سوئی گیس کی رائلٹی کی مد میں ریاست سے 36 کروڑ روپے طلب کر رہا تھا‘ حکومت کے لیے یہ معمولی رقم تھی‘ یہ ادائیگی مسئلے کو ’’ڈی فیوز‘‘ کر سکتی تھی لیکن جنرل مشرف اس وقت ’’وار اینڈ ٹیرر‘‘ میں امریکا کا ساتھ دے کر ’’گلوبل لیڈر‘‘ بن چکے تھے‘ امریکا ان کے سامنے جھکا ہوا تھاجس کی وجہ سے جنرل تکبر کی چوٹیوں پر بیٹھا تھا لہٰذا اس نے نواب اکبر بگٹی سے ’’بلیک میل‘‘ ہونے سے انکار کر دیا۔ اس دوران ڈاکٹر شازیہ خالد کا واقعہ پیش آ گیا‘ ڈاکٹر شازیہ کراچی کی رہائشی تھیں‘ ان کی عمر 32 سال تھی اور وہ ڈیرہ بگٹی کی سوئی گیس فیلڈ میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ( پی پی ایل) کے ہسپتال میں تعینات تھیں‘ دو جنوری 2005ء کی رات کوئی شخص ان کے کوارٹر میں داخل ہوا‘ ان پر تشدد کیا‘ انہیں ٹیلی فون کی تار کے ساتھ باندھا اور انہیں ’’ریپ‘‘ کر دیا‘ سائیٹ کی سیکورٹی فوج کے پاس تھی‘ نواب اکبر بگٹی نے اس ریپ کو بلوچ روایات کی توہین اور سیکورٹی پر مامور کیپٹن حماد کو ملزم قرار دے دیا‘ ریاست کو چاہیے تھا یہ ڈاکٹر شازیہ کا میڈیکل اور غیر جانب دار انکوائری کراتی لیکن اس کے بجائے ریاست نے ڈاکٹر شازیہ کو کراچی شفٹ کیا اور ہائوس اریسٹ کر دیا‘ اس کے خلاف کمپیئن بھی شروع کر دی گئی‘ یہ واقعہ آگے چل کر ’’فلیش پوائنٹ‘‘ ثابت ہوا اور نواب اکبر بگٹی نے فوج کے خلاف اعلان جنگ کر دیا‘ بگٹی قبیلے نے سوئی گیس پلانٹ پر راکٹ حملے شروع کر دیے جس کے نتیجے میں گیس انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا‘ جنرل مشرف نے دس ہزار جوانوں پر مشتمل فوج ڈیرہ بگٹی بھجوا ئی اور آپریشن شروع کر دیا‘ اس آپریشن کے دوران 26 اگست 2006ء کو پہاڑوں میں پناہ گزین نواب اکبر بگٹی کو میزائل حملے میں ہلاک کر دیا گیا‘ یہ جنرل مشرف کی بہت بڑی غلطی تھی‘ نواب اکبر بگٹی کی عمر اس وقت 80سال تھی‘ وہ مزید کتنا عرصہ زندہ رہ لیتے‘ دنیا میں بوڑھے آدمی کے قتل سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوتی اور جنرل مشرف یہ حماقت کر چکے تھے جس کی قیمت آج تک بلوچستان اور ملک ادا کر رہے ہیں۔

آپ اب صورت حال ملاحظہ کیجیے‘ ایک طرف مری قبیلہ پاکستان کے خلاف تھا‘ بالاچ مری کی بی ایل اے پہاڑوں سے فوج اور سول سٹرکچر کو نشانہ بنا رہی تھی جب کہ دوسری طرف بگٹی بھی ریاست پر حملے کر رہے تھے‘ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے مری اور بگٹی دونوں قبائل ایک ہی علاقے میں رہتے ہیںاور یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں‘ ریاست مریوں کو 1992ء میں بگٹیوں کا اثر توڑنے کے لیے افغانستان سے لے کر آئی تھی لیکن حماقت در حماقت کی وجہ سے پہلے مری پہاڑوں پر چڑھے اور پھر بگٹی بھی پہاڑوں پر چڑھ کر ریاست کے خلاف برسرپیکار ہو گئے یوں دو دشمن ریاست کی دشمنی میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے‘ نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی داداکا بدلہ لینے کے لیے میدان میں اترے‘ بلوچ ری پبلکن پارٹی (بی آر پی) کے نام سے گوریلا فورس بنائی اور بی ایل اے کی طرح ملکی اثاثوں پر حملے شروع کر دیے‘ یہ بعدازاں افغانستان بھاگ گیا‘ بالاچ مری بھی اس دوران افغانستان چلا گیا‘ یہ دونوں وہاں سے را کی مدد سے یورپ چلے گئے‘ براہمداغ بگٹی نے سوئٹزر لینڈ میں پناہ لے لی جب کہ بالاچ اور ہربیار مری لندن بیٹھ گئے‘ ان تینوں کے پاس بھارتی پاسپورٹ بھی ہیں‘ یہ معاملہ اس کے بعد پھیلتا چلا گیا‘ را بی ایل اے اور بی آر پی دونوں کی سپانسر بن گئی اور یہ دونوں جماعتیں افغانستان اور ایران سے آپریٹ کرنے لگیں (آج بھی کر رہی ہیں) ۔بلوچ سرداروں نے ان دونوں موومنٹس کا کھل کر فائدہ اٹھایا‘ یہ ان کے ساتھ بھی رابطے میں رہے اور ریاست سے بھی جی بھر کر فائدہ اٹھانے لگے‘ ریاست کو خوف تھا کہیں مزید بلوچ سردار اور قبائل ان کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں چناں چہ یہ سرداروں کو نوازنے لگی‘وفاق بلوچستان کے وسائل اور حکومت کبھی ایک سردار کے حوالے کر دیتااوروہ جی بھر کر خزانہ لوٹتا‘ اس دوران محروم سردار ناراض ہو جاتے اور علیحدگی پسندوں سے رابطے شروع کر دیتے‘ ریاست انہیں واپس لانے کے لیے اقتدار پہلے سردار سے لے کر ان کے حوالے کر دیتی جس سے پہلا گروہ ناراض ہو جاتا اور باغیوں سے رابطے استوار کر لیتا‘ اس کھینچا تانی میں عوام محروم سے محروم ہوتے چلے گئے‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں8 اپریل 2010ء کو اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی جس کے نتیجے میں وفاق کے 57.5 فیصد وسائل صوبوں کے پاس چلے گئے‘ بلوچستان کوتقریباً 10فیصدشیئر ملتا تھا جو عملی طور پردواڑھائی ہزارارب روپے بنتے ہیں‘

اس کا نوے فیصد حصہ کرپشن کی نذر ہونے لگا‘ نواب اسلم رئیسانی کے دور میں بلوچستان کو 8 ہزار ارب روپے ملے‘ یہ رقم اگر فی گھرانہ تقسیم کر دی جاتی تو بلوچستان کے ہر شہری کو ایک ایک کروڑ روپے مل سکتے تھے لیکن وہ پوری رقم ہوا میں تحلیل ہو گئی‘ اڑھائی سال بعد نواب اسلم رئیسانی کو ہٹا کر ان کے مخالف نواب ثناء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا باقی کسر انہوں نے پوری کر دی‘ ان کے دور کی کرپشن اوپن اور ناقابل بیان تھی یہاں تک کہ ریاست تنگ آ گئی‘ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس زمانے میں ’’پاورفل‘‘ تھے‘ انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) بنوائی اور ثناء اللہ زہری کو فارغ کر دیا‘ ان کی جگہ ایک ایسے شخص (میر عبدالقدوس بزنجو) کو وزیراعلیٰ بنا یا گیا جو 2013ء میں صرف 544 ووٹ لے کر ایم پی اے بنا تھا‘ یہ تاریخ میں سب سے کم ووٹوں کے ساتھ رکن اسمبلی بننے والا سیاست دان تھا‘ ان کے بارے میں مشہور تھا یہ ہیروئن کے عادی ہیں اور سارا دن سوئے رہتے ہیں‘ ان کے ساتھ ان کی حکومت بھی سوئی رہتی تھی جس کے نتیجے میں بلوچستان کا مزید بیڑہ غرق ہو گیا‘ اب اگر صورت حال دیکھی جائے تو مری اور بگٹی قبائل ریاست سے ٹکرا رہے تھے‘ سردار ریاست کو بلیک میل کر کے دونوں ہاتھوں سے صوبے کو لوٹ رہے تھے اور عوام بری طرح احساس محرومی کا شکار تھے‘ ان کے پاس تعلیم تھی‘ صحت تھی اور نہ ہی روزگار تھا‘ یہ محرومی سوشل میڈیا کی وجہ سے بغاوت میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور اس بغاوت نے جلد ہی بی ایل ایف (بلوچستان لبریشن فورس) کی شکل اختیار کر لی۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…