نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)
جنرل یحییٰ خان کے دور تک بلوچستان کو صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی‘ جنرل یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970ء کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ون یونٹ ختم کر دیا
جس کے بعد بلوچستان بطور صوبہ متعارف ہوگیا لیکن اسے صوبے کی مکمل حیثیت 1973ء کے آئین میں ملی‘ 1970ء کی دہائی کے شروع میں دو سیاسی واقعات پیش آئے جنہوں نے آگے چل کر بلوچستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا‘ پہلا واقعہ الیکشن تھے‘ جنرل یحییٰ نے سات دسمبر 1970ء کو الیکشن کرائے تو صوبہ سرحد (کے پی) اور بلوچستان میں دو سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں‘ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی)‘ نیپ کمیونسٹ نظریات کی حامی تھی‘ اس کی بنیاد ولی خان کے والد عبدالغفار خان (باچا خان) نے رکھی تھی جب کہ جے یو آئی کے بانی مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود تھے‘ یہ دونوں جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف تھیں‘ نیپ کے لیڈر کمیونسٹ تھے اور خدا کے وجود سے بھی منکر تھے جب کہ جے یو آئی پاکستان میں اسلامی نظام لانا چاہتی تھی‘ نیپ کے لیڈر اور کارکن کلین شیو جب کہ جے یو آئی باریش اور لوٹا بردار تھے لیکن آپ سیاست کی مجبوری دیکھیے‘ 1970ء کے الیکشنز کے بعد دونوں خون کی پیاسی جماعتوں نے سیاسی اتحاد کر لیا‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا دل چسپ ترین اتحاد تھا‘ سرخے اور مولوی دونوں ایک میز پر بیٹھ گئے‘ اس اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو کو ہلا کر رکھ دیا‘ وہ شیخ مجیب الرحمن کے مقابلے میں مغربی پاکستان کے متفقہ لیڈر بننا چاہتے تھے لیکن نیپ اور جے یو آئی ان کے راستے میں رکاوٹ بن گئیں‘ ذوالفقار علی بھٹو کے اندر جابر جاگیر دار بیٹھا تھا چناں چہ انہوں نے آگے چل کر اس ’’گستاخی‘‘ کا بھرپور بدلہ لیا اور اس بدلے نے بلوچستان کو تنور بنا دیا۔
دوسرا واقعہ سانحہ مشرقی پاکستان تھا‘ بھارت نے شیخ مجیب کے ساتھ مل کر پاکستان توڑ دیا‘ پاک فوج کو شکست ہو گئی‘ ہمارے 90 ہزار فوجی‘ سویلین اور سرکاری ملازم بھارتی قید میں چلے گئے‘ یہ صورت حال بھارت اور سوویت یونین کے لیے آئیڈیل تھی چناں چہ دونوں نے پختونستان اور گریٹر بلوچستان کی عسکری تحریکوں کا آغاز کر دیا‘ عراق اس وقت سوویت یونین کا اتحادی تھا‘ روس نے عراق کے ذریعے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ دینا شروع کر دیا یوں صوبہ سرحد اور بلوچستان اگلا مشرقی پاکستان بننے لگا‘نیپ اور جے یو آئی نے 1972ء میں بلوچستان اور صوبہ سرحد(کے پی) میں صوبائی حکومتیں بنا لیں‘ سردار اختر مینگل کے والد سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ اور غوث بخش بزنجو پہلے گورنر بن گئے‘ مینگل اور بزنجو دونوں کے قبیلے جھلاوان ہیں‘ ان کی وجہ سے ساراوان قبائل وفاق سے ناراض ہو گئے‘ ان کا خیال تھا یہ وفاق کی بلوچستان کے خلاف سازش ہے‘ دوسری طرف مولویوں اور سرخوں کی کوالیشن سے صوبہ سرحد(کے پی) میں مفتی محمود وزیراعلیٰ اور ارباب سکندر خان گورنر بن گئے جب کہ عبدالولی خان کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مل گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو جیسے انا پرست کے لیے یہ ناقابل برداشت تھا لیکن وہ نئے ملک کے لیے متفقہ آئین بنانا چاہتے تھے لہٰذا وہ وقتی طور پر صبر پر مجبور گئے لیکن 1973ء کے شروع میں جوں ہی آئین کی دستاویز پر لیڈرز نے دستخط کر دیے‘ ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت ختم کر دی اور صوبے میں فوج چڑھا دی‘ بلوچستان حکومت کے خاتمے کی بڑی وجہ اسلام آباد میں عراق کا سفارت خانہ بنا‘ فروری 1973ء میں عراق ایمبیسی سے بھاری پیمانے پر اسلحہ برآمد ہوا ‘ وہ روسی اسلحہ تھا اور عراقی سفارت کاروں کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں میں تقسیم کیا جارہا تھا‘ بلوچستان حکومت کے خاتمے کے بعد بطور احتجاج مفتی محمود ا ور ان کی کابینہ نے صوبہ سرحد سے استعفیٰ دے دیااور یوں دو صوبوں میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا‘ یہ بھٹو صاحب کی بڑی سیاسی غلطی تھی‘ انہیں یہ دونوں حکومتیں برداشت کرنی چاہیے تھیں جس سے آج کی تاریخ مختلف ہوتی‘ بھٹو صاحب کی دوسری غلطی بلوچستان میں ملٹری آپریشن تھا‘ بھٹو صاحب نے بلوچستان میں فوجی دستے بھجوا دیے‘ جواب میں بلوچ پہاڑوں پر چڑھ گئے اورفوج پر حملے شروع کر دیے۔
پاکستان میں 1973ء کا ملٹری آپریشن وہ پہلا آپریشن تھا جس میں پہلی بار عالمی طاقتیں براہ راست شریک ہوئیں‘ انڈیا نے بلوچوں کی آواز عالمی فورمز تک پہنچائی‘ افغانستان میں اس وقت جنرل دائود خان کی حکومت تھی‘ اس نے صوبہ سرحد(کے پی) اور بلوچستان کے بارڈرز پر علیحدگی پسندوں کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپس بنوائے اور علیحدگی پسندوں کو افغان فوج ٹرینڈ کرنے لگی‘ عراق کی بعث پارٹی نے بھی اپنے دروازے بلوچ اور پشتون لیڈروں کے لیے کھول دیے اور کھل کر رقم دینی شروع کر دی جب کہ سوویت یونین نے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی کی ذمہ داری لے لی‘ اس کے جواب میں شاہ ایران‘ امریکا اور عمان پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو گئے‘ عمان کی پاک فوج اور ریاست کی سپورٹ کی کہانی بھی بہت دل چسپ ہے‘ عمان میں 1965ء سے لے کر 1970ء تک ڈافر (Dafar) جنگ ہوئی‘ وہ گوریلا جنگ تھی جس میں کمیونسٹوں نے سلطان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے‘ سوویت یونین نے اس جنگ کے لیے بلوچستان سے لوگ بھرتی کرنا شروع کر دیے تھے‘ بلوچ گوریلوں نے عمانی فوج کو بہت نقصان پہنچایا لہٰذا بدلے میں عمان نے بلوچ گوریلوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کو معاشی امداد دینا شروع کر دی‘ بہرحال قصہ مختصر اس آپریشن کے دوران نواب اکبر بگٹی نے ذوالفقار علی بھٹو اور ریاست کا ساتھ دیا‘ بھٹو صاحب نے انہیں گورنر بنا دیا‘ بگٹی صاحب آپریشن کے آرکی ٹیکٹ اور آرمی چیف جنرل ٹکا خان کے بہت اچھے دوست ثابت ہوئے اور انہوں نے ’’باغیوں‘‘ کے خلاف کھل کر فوج کی مدد کی‘ بھٹو صاحب نے نیپ کے تمام بڑے لیڈروں کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل میں بند کر دیا اور ان پر حیدرآباد سازش کیس کے تحت مقدمہ شروع کر دیا‘ گرفتار لیڈروں میں نواب خیر بخش مری‘ سردار عطاء اللہ مینگل‘ عبدالولی خان‘ غوث بخش بزنجو اور میر گل خان ناصر سمیت 52 لوگ شامل تھے‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو ہمارے نجم سیٹھی (معروف صحافی اور اینکر پرسن) اور حبیب جالب بھی حیدر آباد جیل میں بند تھے اور ان پر بھی سازش کا مقدمہ چل رہا تھا‘ یہ کیس جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء تک جاری رہا‘جولائی 1977ء میں مارشل لاء کے بعد جب جنرل ضیاء الحق ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے لیے مری گئے تو بھٹو صاحب نے انہیں مشورہ دیا آپ حیدر آباد سازش کیس کو منطقی نتیجے تک پہنچنے دو‘ یہ لوگ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہیں‘ یہ ملک کو چلنے نہیں دیں گے‘ جنرل ضیاء نے اس مشورے کو الٹ لیا‘ وہ اگلے دن حیدر آباد گئے۔
’’ملزموں‘‘ سے ملاقات کی اور نہ صرف ٹربیونل ختم کر دیا بلکہ عبدالولی خان کا سی ایم ایچ راولپنڈی اور سردار عطاء اللہ مینگل کاسرکاری خرچ پر امریکا سے علاج کرایا‘ جنرل ضیاء الحق کے اس فیصلے کے دو فائدے ہوئے‘ جنرل کو بھٹو صاحب کے مخالفین کی سپورٹ مل گئی اوردو بلوچستان اور صوبہ سرحد میں عارضی طور پر سکون آ گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے خیر بخش مری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی دے دی‘ یہ برطانیہ اور پھر فرانس چلے گئے‘ جنرل ضیاء کا خیال تھا یہ واپس آ کر قانونی سیاست شروع کریں گے‘ وزیراعلیٰ یا گورنر بنیں گے اور ریاست کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں گے لیکن نواب صاحب کو کمیونزم کا بھوت چمٹ چکا تھا‘وہ واپس آنے کی بجائے براہ راست کابل گئے اور خود ساخہ جلا وطنی کا اعلان کر دیا‘ انہوں نے افغان اور سوویت یونین کی مدد سے پندرہ ہزار مری جوانوں کا لشکر بنایا اور بلوچستان میں دہشت گردی شروع کر دی‘ اجمل خٹک بھی ساتھیوں کے ساتھ کابل میں خود ساختہ جلاوطن تھے یوں افغانوں اور سوویت یونین کی سپورٹ سے سرحد اور بلوچستان میں دہشت گردی شروع ہو گئی‘ یہ سلسلہ 1992ء تک سوویت یونین کے خاتمے تک جاری رہا‘ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا اور مجاہدین نے ایک دوسرے کے خلاف توپوں کے دھانے کھول دیے‘ پشتون اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے تمام والی وارث ختم ہو چکے تھے ‘افغان صدر نجیب اللہ نواب مری کے سب ے بڑے سپورٹر تھے‘ اس کی حکومت اچانک ختم ہو گئی جس کے بعد مجاہدین نے کابل اور ہلمند صوبے میں نواب خیر بخش مری کا کیمپ اور رہائش گاہ اڑا دی‘وہ نواب خیر بخش مری کے قریب پہنچ چکے تھے‘ نواب جان بچانے کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا یوں ان کے پاس پاکستان واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا‘ اجمل خٹک 1989ء میں بے نظیر بھٹو کی وجہ سے پاکستان لوٹ آئے تھے‘ 1992ء میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی جب کہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ مجھے جنرل جاوید ناصر مرحوم نے خود بتایا تھا نواب خیر بخش مری نے کابل میں موجود اقوام متحدہ کے نمائندے کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا‘ وہ اپنے اور اپنے قبیلے کی جان بخشی کے عوض ہمیں بھارت اور سوویت یونین کے نیٹ ورکس کی معلومات دینا چاہتے تھے‘
میں نے صدرغلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں نواز شریف سے بات کی‘ یہ بلوچستان میں امن چاہتے تھے چناں چہ ہم نے نواب صاحب اور ان کے لوگوں کو عام معافی دے دی‘جنرل جاوید ناصر کے بقول1992ء میں نواب اکبر بگٹی کا بیٹا سلال بگٹی کوئٹہ میں جناح روڈ پر قتل ہو گیا‘ یہ قتل بگٹی قبیلے کی شاخ کالپور نے کیا تھا‘ بگٹی نے جواب میں تمام کالپوروں کو ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے نکال دیا‘ وہ وزیراعلیٰ میر تاج خان جمالی کو بھی اس قتل کا ذمہ دار سمجھتے تھے‘تاج جمالی نے مشورہ دیا ہم خیر بخش مری کو واپس لے آتے ہیں‘ یہ بگٹیوں کو کنٹرول کر لیں گے‘ صدر غلام اسحاق خان کو یہ آئیڈیا پسند آیا‘ میرے افغان مجاہدین کے ساتھ ’’پشاور معاہدے‘‘ کی وجہ سے بہت آئیڈیل تعلقات تھے‘ میں نے مجاہدین کے تمام گروپوں سے وعدہ لیا‘ یہ مری قبیلے کے لوگوں کی واپسی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے جس کے بعد بلوچستان کے عمائدین سی 130 پر کابل گئے اور نواب صاحب کو خاندان سمیت واپس لے آئے‘ نواب کے بعد مری قبیلے کے لوگ آئے‘ وفاقی حکومت نے بھاری رقم اور کوئٹہ کے مضافات میں زمینیں دیں اور یہ لوگ یہاں آباد ہو گئے‘ یہ آج بھی وہیں آباد ہیں۔ میاں نواز شریف نے نواب صاحب کو عملی سیاست میں شمولیت کی دعوت دی لیکن نواب خیر بخش مری سوویت یونین کے خاتمے کی وجہ سے دل برداشتہ ہو چکے تھے لہٰذا یہ کراچی میں غیر سیاسی گھریلو زندگی گزارنے لگے تاہم ان کے بیٹے نواب زادہ چنگیز خان مری اور نواب زادہ گزین مری نے الیکشن لڑا اور یہ 1993ء سے 1997ء تک وزیر رہے۔
نواب خیر بخش مری کی واپسی‘ سوویت یونین کے خاتمے اور افغانستان میں کمیونسٹ دور کے بعد بلوچستان میں عملاً امن آ جانا چاہیے تھا لیکن نتائج اس کے برعکس نکلے‘ مری قبیلہ انگریز دور سے ریاست مخالف تھا‘ امن و امان اور ریاست کا ساتھ اسے سوٹ نہیں کرتا تھا‘ خیر بخش مری کے بیٹے بھی طویل عرصہ افغانستان میں رہے تھے‘ اس دوران انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہو گئے تھے‘ بھارت‘ روس اور بعدازاں اسرائیلی ایجنسیاں بھی ان سے رابطے میں تھیں‘ اس دوران چین بڑی اقتصادی طاقت بن گیا اور یہ گوادر میں دل چسپی لینے لگا‘ بلوچستان میں تانبے‘ سونے‘ تیل‘ گیس اور رئیرارتھ منرلز کے ذخائر نکلنے لگے‘ یہ وسائل پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے کافی تھے‘ افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت بننے سے خطے کی نظریاتی صورت حال تبدیل ہونے لگی‘ ایران میں1979ء میں انقلاب آیا اور یہ 1990ء کی دہائی میں سرحدوں سے باہر نکلنے لگا‘ خلیجی ممالک میں بے تحاشا دولت آئی اور ان کے ائیرپورٹس اور پورٹس مشرق اور مغرب کے سنگم بننے لگے‘ پاکستان نے 1998ء میں ایٹمی دھماکے بھی کر دیے جس کے بعد یہ دنیا کی پہلی اسلامک نیوکلیئر پاور بن گیا‘ یہ اگر اب ایٹمی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی طاقت بھی بن جاتا تو اسے روکنا ناممکن ہو جاتا بالخصوص یہ بھارت‘ اسرائیل اور عربوں کے کنٹرول سے باہر ہو جاتا اور یہ ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا لہٰذا یہاں سے ایک نئی گلوبل موومنٹ شروع ہو گئی اور بلوچستان اس کا دارالحکومت بنتا چلا گیا۔(جاری ہے)



















































