اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق صورتحال اب پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ تک محدود نہیں رہی بلکہ معاملہ قومی سلامتی تک جا پہنچا ہے۔پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال کے مطابق مختلف ذرائع سے ہونے والی گفتگو میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیصلہ سازوں کی توجہ اب صرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر نہیں بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کے معاملات پر بھی مرکوز ہے۔شہزاد اقبال نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایک اہم ذریعے نے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس فیصلے کی وجہ تیاریوں میں کمی کو قرار دینے سے اختلاف کیا۔ ان کے مطابق پارٹی کے کارکن متحرک ہیں اور لانگ مارچ کے لیے تیار تھے، تاہم قیادت حکومت کے خلاف طویل سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 5 اکتوبر کی تاریخ کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ عمران خان کی سالگرہ کا دن ہے، اسی لیے پی ٹی آئی کی جانب سے اس تاریخ کو علامتی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پروگرام میں پیش کیے گئے ذرائع کے دعوے کے مطابق فیصلہ سازوں کے نزدیک لانگ مارچ کا انعقاد یا اسے مؤخر کرنا اب بنیادی مسئلہ نہیں رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کرتی ہے یا مارچ کی تاریخ آگے بڑھاتی ہے، اصل معاملہ اس سے آگے نکل چکا ہے اور اب اسے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں پر دہشت گرد عناصر کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور ان کے بقول اس صورتحال کا تعلق صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ کیا جا چکا ہے اور موجودہ حکومت کے حوالے سے آئندہ دنوں میں بڑی پیش رفت متوقع ہے۔



















































