اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں،
جبکہ 24 تعلیمی اداروں میں کل تدریسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب راولپنڈی کے 48 اسکول بیرون اضلاع سے آنے والی پولیس فورس کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 20 سے زائد وفاقی تعلیمی ادارے ضلعی انتظامیہ اور وفاقی پولیس کے حوالے کیے گئے ہیں، جہاں پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے طلب کی گئی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے قیام کا انتظام کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض طالبات کے تعلیمی اداروں میں غیر اعلانیہ تعطیلات کردی گئی ہیں، جبکہ پولیس اہلکاروں کی آمد آج رات متوقع ہے۔ انتظامیہ نے مزید کچھ تعلیمی اداروں کو بھی متبادل انتظام کے طور پر محفوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
سیکیورٹی صورتحال کے باعث کل سے بند رہنے والے 24 اداروں کے علاوہ اسلام آباد کے دیگر تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ پولیس اہلکاروں کو ان اداروں میں رہائش فراہم کیے جانے کے باعث وہاں تعلیمی سرگرمیاں روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بند کیے جانے والے اداروں میں جی سکس، ایف سکس، ایف سیون اور جی سیون کے متعدد اسکول شامل ہیں، جبکہ ترنول، سنجانی، سہالہ اور راول ڈیم کے بعض تعلیمی ادارے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
دوسری جانب ریڈ زون میں واقع تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ والدین بھی اسکول بسوں کی روانگی سے متعلق صورتحال واضح نہ ہونے پر تذبذب کا شکار ہیں۔
ادھر راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور جماعت اسلامی کے دھرنے کے تناظر میں 48 اسکول بیرون اضلاع سے آنے والی پولیس فورس کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر یاسین بلوچ کے مطابق 21 ستمبر کو ضلع بھر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس فورس کو اسکولوں میں ٹھہرایا گیا تو اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں تعطیلات کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم بیرون اضلاع سے پولیس فورس پہنچنے کی صورت میں 48 اسکول مکمل طور پر پولیس کے حوالے کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق 22 ستمبر بروز منگل سے شہر کے 48 اسکول پولیس فورس کے استعمال میں دیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے بھی ممکنہ احتجاج کے باعث تعلیمی اداروں میں تعطیلات کیے جانے کی مخالفت کردی ہے۔



















































