کوہاٹ (این این آئی)خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پشاور روڈ پر پرانی پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے،
زخمیوں میںبعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 6 دہشت گرد بھی مارے گئے۔تفصیلات کے مطابق کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ، زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا ۔پولیس کے مطابق دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا جس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی۔دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ۔سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید ہوئے، 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے تھے جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں خودکش بمبار اور اسنائپر شامل تھے، دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائن کے گیٹ سے ٹکرائی گئی جس کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی۔آئی جی پی نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں، دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے،دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔
دریں اثناء صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔وزیرِ اعلی خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لے کر پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور ضروری طبی سہولتوں کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔



















































