جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

datetime 10  ستمبر‬‮  2026

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ سی پرانی دکان تھی جس کے دروازے پر لوہے کی موٹی گرل تھی‘ وہاں شام کے وقت بہت بھیڑ ہوتی تھی‘

لوگ سارا دن کام کر کے پیسے اکٹھے کرتے تھے اور پھر شراب کی دکان کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے‘ ہم بچوں کو مائیں شام کے وقت باہر نہیں نکلنے دیتی تھیں‘ شراب بیچنے والے کا رنگ کالا سیاہ اور آنکھیں لال اور ابلی ہوئی تھیں‘ اس کی آواز بھی بھدی تھی‘ لوگ اسے ’’چوہڑا‘‘ کہتے تھے اور اس سے ملنے ملانے سے پرہیز کرتے تھے‘ وہ عصر کے بعد آتا تھا‘ چپ چاپ دکان کا شٹر اوپر کرتا تھا اور اندر داخل ہو جاتاتھا‘ دکان کے مرکزی دروازے پر چھوٹی سی کھڑکی تھی جس سے وہ پیسے وصول کر کے شراب کی بوتل باہر لڑھکا دیتا تھا‘ شراب کی بوتل چپٹی ہوتی تھی اور اس میں سرخ اور بعض اوقات برائون رنگ کا محلول ہوتا تھا‘ اس زمانے میں سونف کی شراب آتی تھی‘ اس سے سونف کی خوشبو آتی تھی جب کہ ہم نے مختلف لوگوں کے منہ سے برانڈی (شرابی اسے بلانڈی کہتے تھے) کا لفظ بھی سنا‘

اس زمانے میں شاید پاکستان میں وائین نہیں ہوتی تھی لہٰذا کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا تھا تاہم وہسکی اور سپرٹ کا لفظ عام تھا‘ سپرٹ شاید کوئی دیسی نسخہ تھا جو بہت سستا ملتا تھا‘ وہ پابندی کے دور میں بھی دستیاب رہا‘ اسے بڑے بازار میں ’’ڈاکٹر بھٹی‘‘ بیچتا تھا‘ پولیس آئے روز اس کے کلینک اور گھر پر ریڈ کرتی رہتی تھی‘ ڈاکٹر بھٹی کمپائونڈر(کمپوڈر) تھا‘ اس زمانے میں کمپائونڈر بھی ڈاکٹر کہلاتے تھے‘ بہرحال ہماری گلی شراب خانے کی وجہ سے خاصی بدنام تھی‘ شراب کا دھندہ رات تک چلتا رہتا تھا‘ میں صبح دودھ لینے جاتا تھا تو میں اکثر شرابیوں کو نالیوں میں گرے دیکھتا تھا اور ان پر کتے ’’موت‘‘ رہے ہوتے تھے‘ وہ ایک عبرت ناک منظر ہوتا تھا‘ وہ نقشہ میرے ذہن میں بیٹھ گیا اور شاید میں اس کی وجہ سے زندگی میں شراب سے بچا رہا ورنہ میرے بے شمار کولیگز ہمہ وقت شرابی تھے‘ میں ان میں اٹھتا بیٹھتا تھا لیکن میں شراب سے محفوظ رہا‘ مجھے سگریٹ سے بھی پوری زندگی نفرت رہی‘ اس کی وجہ تمباکو کی بو تھی‘ ہمارے سارے بزرگ حقہ اور سگریٹ پیتے تھے‘ ان سے ایک ناگوار سی بو آتی رہتی تھی‘ دوسرا وہ تمباکو کے عادی ہو چکے تھے‘ سگریٹ اور حقے کے بغیر ان کی رات گزرتی تھی اور نہ دن‘ وہ کہیں جانے سے قبل حقے کے بارے میں پوچھتے تھے‘ حقہ تیار کرنا ایک تکنیکی اور مشکل کام ہوتا تھا‘ مجھے اس سارے پراسیس سے چڑ ہو گئی اور میں اس سے بھی بچا رہا‘ میں صحافت میں آیا تو میرے کولیگز میرے بارے میں تبصرہ کرتے تھے ’’تم شراب پیتے ہو اور نہ سگریٹ‘ جواء بھی نہیں کھیلتے تم پھر اس پیشے میں امب (آم) لینے آئے ہو!‘‘ میں ہنس کر ٹال دیتا تھا‘ ہمارے زمانے میں افیون ایک نارمل سا نشہ تھا‘ یہ حکیموں اور پنساریوں کی دکانوں سے ملتی تھی‘ لوگ اس کی گولی دانتوں تلے رکھ لیتے تھے یا پھر مختلف چیزوں میں گھول کر پی لیتے تھے‘ وہ بے انتہا کڑوی اور تارکول کی طرح سیاہ ہوتی تھی‘ افیون کی لت میں مبتلا لوگ سارا سارا دن جھومتے رہتے تھے‘ ہمارا ایک ورکر افیون کھاتا تھا‘ میں نے اس سے ایک دن لے کر منہ میں رکھ لی‘ میرے سارے طبق روشن ہو گئے‘ منہ کا ذائقہ بے انتہا خراب ہو گیا اور میں دیر تک تھوکتا رہا لیکن اس کے باوجود میری آنکھوں کے سامنے ستارے ٹمٹمانے لگے‘ میں اس شام سویا اور والدہ نے اگلی صبح مجھے تھپڑ مار مار کر اٹھایا‘ میں سکول میں بھی غنودگی کے عالم میں رہا اور استاد سے ٹھیک ٹھاک مار کھائی لیکن عجیب بات یہ تھی مجھے پہلی مرتبہ استاد کی گالیاں‘ جھڑکیاں اور مار بری نہیں لگی‘ مجھے اس تجربے سے معلوم ہوا نشہ کس قدر خوف ناک چیز ہوتی ہے‘ یہ انسان کی خودداری‘ عزت نفس اور اچھائی برائی دونوں کی حس چھین لیتا ہے‘ اللہ نے کرم کیا میں نے یہ تجربہ زندگی میں پھر کبھی دوبارہ نہیں دہرایا‘ ہمارے زمانے میں لوگ جگہ جگہ بھنگ گھوٹتے رہتے تھے‘ یہ گرمیوں کا مشروب تھا اور بسوں کے اڈوں سے بھی ملتا تھا‘ لوگ اسے ’’سردائی‘‘ کہتے تھے‘ بھنگ پتھر کے برتن میں لکڑی کے ڈنڈے سے گھوٹی جاتی تھی جس پر گھنگرو بندھے ہوتے تھے‘ اس کی آواز دور سے آتی تھی‘ لوگ سارا سارا دن بھنگ گھوٹتے اور اس میں چینی اور گڑملاتے رہتے‘ لوگ اسے پی کر سارا سارا دن مست رہتے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں شراب پر پابندی لگا دی‘ اس شام ہماری مسجد کے لوگ مغرب کی نماز کے بعد باہر نکلے‘ مولوی صاحب کی معیت میں سیدھے شراب خانے گئے اور دکان پر حملہ کر دیا‘ شراب فروش ’’چوہڑا‘‘ دکان چھوڑ کر بھاگ گیا‘ لوگوں نے شراب کی بوتلیں نکالیں اور نالی کے ساتھ توڑتے چلے گئے جس کے نتیجے میں پوری گلی میں ناگوار سی بو پھیل گئی‘ وہ بو کئی دنوں تک موجود رہی‘ لوگوں نے اس کے بعد دکان کو آگ لگا دی‘ دکان جل گئی لیکن رات گئے آگ پھیلنے لگی‘ لوگ پانی کے پیپے اور بالٹیاں لے کر نکلے اور بڑی مشکل سے آگ بجھائی اگر وہ نہ بجھتی تو شاید پورا محلہ جل کر راکھ ہو جاتا‘ ہمیں اگلے دن پتا چلا دکان کا اصل مالک کوئی اور تھا‘ چوہڑا اس کا ملازم تھا‘مالک اپنی پراپرٹی کے جائزے کے لیے آیا اور دکان کی حالت دیکھ کر دیر تک اداس اور غم زدہ کھڑا رہا‘ لوگ اسے ٹھیکے دار کہہ رہے تھے‘ میں نے ٹھیکے دار کا لفظ پہلی بار سنا تھا‘ وہ دکان بعدازاں بک گئی اور وہ جس مکان کا حصہ تھی اس نے اسے بیٹھک بنا لیا‘ شراب پر پابندی کے بعد شراب نوش ’’ڈاکٹر بھٹی‘‘ کی دکان پر شفٹ ہو گئے اور وہ انہیں سپرٹ اور جعلی شراب بیچ کر دونوں ہاتھوں سے رقم سمیٹنے لگا۔ سینما پر بھی شراب بکتی تھی‘ وہ بھی جعلی ہوتی تھی اور ’’بلیک‘‘ کہلاتی تھی‘ لوگ اس شراب کے ہاتھوں بری طرح بیمار ہونے لگے‘ میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو خون کی الٹیاں کرتے دیکھا‘ شراب بیچنے والوں نے اس کا حل چرس اور ہیروئن کی شکل میں نکالا‘ میں چھٹی جماعت میں تھا جب میں نے لوگوں کو چرس پیتے دیکھا‘ یہ بھی افیون کی طرح سیاہ رنگ کی ہوتی تھی‘ چرسی اسے ماچس کی تیلی میں پرو کر پہلے اسے جلاتے تھے پھر سگریٹ سے تمباکو نکال کر ہتھیلی پر رکھتے تھے‘ اس میں جلی ہوئی چرس کو اچھی طرح مکس کرتے تھے ‘ پھر اسے دوبارہ خالی سگریٹ میں بھر کر اس کے سرے کو آگ لگاتے تھے اور آخر میں مزے سے پیتے تھے‘ وہ چرس کا پہلا کش لگانے کے بعد آنکھیں بند کر لیتے تھے‘ اس لمحے ان کے چہرے پر بے انتہا خوشی اور اطمینان ہوتا تھا‘ انت سکون‘ وہ لوگ سگریٹ جلانے سے قبل اسے عقیدت سے بوسا بھی دیتے تھے‘ چرسیوں کی شخصیت میں دو چیزیں نمایاں تھیں‘ ایک وہ شکل سے ملنگ دکھائی دیتے تھے‘ لاتعلقی اور گندگی ان کی ذات کا حصہ ہوتی تھی‘ وہ نہانے دھونے اور صاف ستھرے کپڑے پہننے سے پرہیز کرتے تھے اور دوسرا وہ زندگی کی دوڑ میں سست ہو جاتے تھے‘ وہ چلتے پھرتے اور کام کرتے ہوئے سوئے سوئے محسوس ہوتے تھے‘ میرے بچپن میں چرس عام ہو گئی اور ہر دوسرا یا تیسرا شخص چرس پیتا دکھائی دینے لگا‘ اسے اس زمانے میں نشہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ چرسی اسے ’’بوٹی‘‘ کہتے تھے‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1983-84ء میں ہیروئن آ گئی اور زیادہ تر چرسی اس پر شفٹ ہو گئے‘

یہ بھی شہر میں عام دستیاب تھی‘ میں نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں لوگوں کو ہیروئن کا نشئی بنتے اور پھر پورے خاندان سمیت تباہ ہوتے دیکھا‘ شراب‘ افیون اور چرس بڑے بوڑھے لوگوں کے نشے تھے لیکن ہیروئن نوجوانوں سے لے کر بوڑھوں تک سب کا نشہ بن گئی‘ خاندان کے خاندان برباد ہو گئے‘ ہماری گلی میں ایک خاندان تھا‘ باپ دیہاڑی دار مزدور تھا جب کہ بچے سکول جاتے تھے‘ بڑا بیٹا سکول جاتے جاتے ہیروئن کا شکار ہو گیا‘ باپ بیٹے کو بچاتے بچاتے خود بھی ہیروئن کی لت میں مبتلا ہو گیا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے اس کی بیوی کو خاوند اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گھر لاتے دیکھا‘ وہ دونوں اس کے ساتھ ساتھ گھسیٹ رہے ہوتے تھے‘ وہ بے چاری لوگوں کے گھروں میں کام پر مجبور ہو گئی‘ سارا سارا دن لوگوں کے فرش اور کپڑے دھوتی تھی‘ شام کے وقت خاوند اور بیٹے کو پکڑ کر لاتی تھی اور پھر رات گئے وہ دونوں مل کر اسے مارتے تھے اور وہ اونچی آواز میں چیختی چلاتی رہتی تھی‘ اس کی دو بیٹیاں تھیں‘ باپ اور بھائی نے نشہ پانی کے لیے انہیں بیچنا شروع کر دیا‘ محلے والوں نے یہ دیکھ کر انہیں محلے سے نکال دیا‘ خاتون بے چاری امداد کے لیے میری والدہ کے پاس آتی رہتی تھی‘ ماں اسے پیسے اور کھانے کا سامان صرف اس شرط پر دیتی تھی تم پہلے نہائو گی‘ میرے کپڑے پہنو گی اور میرے سامنے کھانا کھائو گی‘میں تمہیں پھر پیسے دوں گی‘

اس بے چاری کے کپڑے بدبودار اور گندے ہوتے تھے اور اسے نہائے دھوئے ہوئے دس دس دن ہو جاتے تھے‘ والدہ اسے اپنی نگرانی میں کھانا بھی کھلاتی تھی کیوں کہ وہ دو دو دن کی بھوکی ہوتی تھی‘ وہ خاندان بعدازاں دوسرے نشئی خاندانوں کی طرح زندگی کے دھارے میں بہہ کر غائب ہو گیا لیکن میرے حافظے میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا‘ لوگ اپنے نشئی بچوں کو گھروں میں زنجیروں سے بھی باندھ دیتے تھے‘ نشئی چیخیں مارتے تھے‘ اپنی بہنوں اور مائوں کی منتیں کرتے تھے اور آخر میں دیواروں سے ٹکریں مار کر خود کو زخمی کر لیتے تھے‘ یہ منظر دیکھ کر ان کی مائیں اور بہنیں دھاڑیں مار مار کر روتی تھیںاور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتی تھیں‘ اللہ کو اگر کسی پر رحم آ جاتا تھا تو ان کا بھائی یا بیٹاجلد مر کھپ جاتا تھا جس کے بعد ان کی اذیت کے دن کم ہو جاتے تھے ورنہ وہ خاندان روز جیتا اور روز مرتا تھا‘ میں نے سینکڑوں بار جوان بچوں کو زنجیروں سے بندھا اور دیواروں سے سرمار کر زخمی ہوتے دیکھا‘ ان مناظر نے میرا شعور بری طرح زخمی کر دیا‘ میں آج بھی جب وہ زمانہ یاد کرتاہوں تو میرے جسم میں کپکپی طاری ہو جاتی ہے‘ وہ لوگ جنہوں نے اپنے تھوڑ سے فائدے کے لیے اس ملک میں ہیروئن کلچر پروان چڑھایا تھا وہ نہ جانے کون تھے اور اللہ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہو گا‘ میں نہیں جانتا لیکن وہ ناقابل رحم تھے۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…