اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم نے آئندہ پانچ برس کے لیے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی ہے،
جس کے بعد اس پالیسی پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مشاورت کا مرحلہ شروع ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی منظوری حاصل ہونے کے بعد نئی آٹو پالیسی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی کو حتمی قانونی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی سے سپلیمنٹری فنانس بل کے ذریعے اس کی منظوری بھی لی جائے گی۔نئی پالیسی میں مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے آٹو پارٹس کے لیے مختلف مراعات دینے کی تجویز شامل ہے۔ حکومت نے آٹو موبائل شعبے میں لوکلائزیشن بڑھانے اور مقامی صنعت کو مزید مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پالیسی کے تحت آٹو کمپنیوں کے لیے گاڑیوں کی برآمد کے اہداف بھی مقرر کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی آٹو انڈسٹری کو بین الاقوامی مارکیٹ سے جوڑنا اور گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔اس کے علاوہ نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور پیداوار کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ حکومت آٹو سیکٹر کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار، لوکلائزیشن اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے اقدامات کرے گی۔



















































