بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا بڑا اقدام، پنشنرز کے لیے نیا ڈیجیٹل پنشن نظام متعارف

datetime 9  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پنشن کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نیا ڈیجیٹل پنشن سسٹم متعارف کرا دیا ہے،

جس کے بعد پنشنرز کو بینک جا کر بائیو میٹرک تصدیق کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔نئے طریقہ کار کے مطابق ہر پنشنر کو ہر 6 ماہ بعد نادرا ایپ کے ذریعے اپنی زندگی کی تصدیق مکمل کرنا ہوگی۔ وزارت خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن اور ضروری دستاویزات بھی جاری کردی ہیں۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے بعد کاغذی کارروائی اور روایتی تصدیقی طریقہ کار ختم کردیا گیا ہے، جبکہ پنشن کی رقم براہِ راست متعلقہ پنشنر کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔حکام کے مطابق عمر رسیدہ پنشنرز کو ڈیجیٹل تصدیق میں پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر ان کے لیے زندگی کی تصدیق کا متبادل طریقہ بھی دستیاب ہوگا۔نئے نظام میں بینکوں کی ذمہ داری صرف پنشن کی ادائیگی تک محدود ہوگی۔ انہیں پنشنرز کی بائیو میٹرک تصدیق یا زندگی کے ثبوت سے متعلق معلومات جمع کرنے کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق نادرا کا ڈیجیٹل نظام کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی) کے نظام سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اس رابطے کے ذریعے پنشنر کی ڈیجیٹل لائف ویریفکیشن براہِ راست متعلقہ اداروں کو موصول ہوگی۔یہ نیا ڈیجیٹل پنشن نظام وفاقی حکومت کے تمام سول ملازمین پر نافذ ہوگا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد پنشن کی ادائیگی اور تصدیق کے عمل کو آسان، شفاف اور جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت لانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…