بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

حسن علی کی اہلیہ کی پراسرار پوسٹ، کرکٹر کے مبینہ افیئر کی افواہیں گرم

datetime 9  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستانی کرکٹر حسن علی کی اہلیہ سامعہ خان کی ایک مبہم سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں نے جنم لے لیا ہے۔

شادی شدہ مردوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پر تنقید سے متعلق پوسٹ کو بعض صارفین نے حسن علی کی نجی زندگی سے جوڑنا شروع کردیا ہے۔سامعہ خان نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ان خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر بچوں والے شادی شدہ مردوں کے ساتھ مالی فائدے یا مستقبل میں شادی کی امید پر تعلقات قائم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے، تاہم اپنی پوسٹ میں کسی شخص کا نام واضح طور پر نہیں لیا۔معاملہ اس وقت مزید زیرِ بحث آیا جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سامعہ خان نے اپنے موبائل فون سے حسن علی کے ساتھ موجود بعض تصاویر بھی ہٹا دی ہیں۔ بتایا گیا کہ انہوں نے کچھ وقت کے لیے حسن علی کو انسٹاگرام پر اَن فالو بھی کیا، تاہم بعد میں دوبارہ فالو کرلیا۔بعد ازاں سامعہ خان کی جانب سے وہ انسٹاگرام اسٹوریز بھی حذف کردی گئیں جن کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں شروع ہوئی تھیں۔حسن علی اور سامعہ خان کی شادی کو تقریباً پانچ سال مکمل ہوچکے ہیں اور دونوں کے تین بچے ہیں۔ ان کی بیٹیوں کے نام ہیلینا اور ہیزل جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کا نام حمدان بتایا گیا ہے۔

چند روز قبل ہی حسن علی اور ان کا خاندان مری اور نتھیا گلی میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا، جہاں فیملی ٹرپ کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھیں۔ ان تصاویر میں خاندان کو خوشگوار انداز میں وقت گزارتے دیکھا گیا تھا۔دوسری جانب سامعہ خان کی پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین کی آرا بھی مختلف ہیں۔ بعض صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی دوسری خاتون سے تعلق قائم کرتا ہے تو اس معاملے کی ذمہ داری صرف دوسری خاتون پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ شوہر بھی برابر کا ذمہ دار ہوتا ہے۔کچھ صارفین نے سامعہ خان کو مشورہ دیا کہ دوسری خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے شوہر سے بھی اس بارے میں وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔ بعض تبصروں میں دیگر کرکٹرز کے مبینہ طور پر خواتین سے فلرٹ کرنے کے رویوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔تاہم اب تک حسن علی یا سامعہ خان کی جانب سے کسی مبینہ افیئر یا بے وفائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…