کراچی (این این آئی) صوبہ سندھ کے بلدیاتی اداروں میں فنانس رولز کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث 70 فیصد سے زائد اداروں کے ملازمین کو پرانی تنخواہیں اور پنشن ادا کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
اس حوالے سے اعلیٰ حکام کے نوٹس لینے پر اسٹیٹ بینک اور محکمہ خزانہ کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ سے رپورٹ طلب کی گئی۔ ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ سندھ عبدالوحید شیخ نے متعلقہ آڈٹ افسران کو تحریری ہدایات جاری کیں کہ ملازمین کو مکمل اور اضافہ شدہ تنخواہیں اور پنشن ادا کی جائیں۔تاہم بعض بلدیاتی اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا اور رواں ماہ بھی پرانی تنخواہیں اور پنشن جاری کردی گئی۔اس صورتحال پر آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن سندھ کے صوبائی صدر سید ذوالفقار شاہ اور جنرل سیکریٹری محمد اکرم راجپوت نے متعلقہ حکام سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔
سید ذوالفقار شاہ نے ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ سندھ عبدالوحید شیخ سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔عبدالوحید شیخ نے یقین دلایا کہ فنانس رولز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے فیڈریشن کی معاونت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام بلدیاتی اداروں کے آڈٹ افسران سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے کہ کن اداروں نے اضافہ شدہ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کی ہے، رپورٹ موصول ہونے کے بعد قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر یونین رہنما عباس احمد بھی موجود تھے۔



















































