اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

datetime 25  اگست‬‮  2026

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع میں ڈاک خانہ اور تھانے کی قدیم عمارتیں تھیں‘ لالہ موسیٰ شیر شاہ سوری کے زمانے میں گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) پر بنایا گیا تھا‘ سوری نے ہر دس کوس (30 کلومیٹر) کے فاصلے پر نیا شہر آباد کیا تھا جس میں چھوٹا سا قلعہ بھی ہوتا تھا‘قلعے میں سرکاری اہلکار اور ڈاک کا عملہ رہتا تھا‘ لالہ موسیٰ بھی ان شہروں میں شامل تھا‘ شیر شاہ سوری اور مغلوں نے نئے تعمیر شدہ شہروں کے دائیں بائیں گجر قبائل آباد کرا دیے تھے‘ گجر جارجیا‘ داغستان‘ چیچنیا اور ترکیہ سے ہندوستان آئے تھے‘ یہ نسلاً جنگجو تھے‘ لڑائی اور وفاداری ان کی خصلت تھی چناں چہ انہیں جان بوجھ کر جی ٹی روڈ کے دائیں بائیں آباد کیا گیا تھا تاکہ یہ بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے رہیں اور ریاست کے بے لوث وفادار بھی رہیں‘ نفاق گجروں کی سرشت ہے‘ یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے ‘

یہ کبھی اکٹھے نہیں ہوتے لہٰذا یہ کسی بھی زمانے میں ریاست کے لیے چیلنج نہیں بنے‘ ہمیشہ ریاست کے وفادار رہے‘ یہ نسلاً سرخ وسپید‘ لمبے تڑنگے اور مضبوط کاٹھی کے لوگ تھے لیکن ہندوستان کی فضا اور لوکل عورتوں سے شادیوں نے ان کے رنگ پکے کر دیے مگر آج بھی ان کا پانچواں یا چھٹا بچہ سرخ و سپید ہوتا ہے جو ثابت کرتا ہے ابھی تک ان میں جارجین ڈی این اے موجود ہے‘ انگریز کے دور تک لالہ موسیٰ کا قلعہ موجود تھا‘ گورے نے اس میں پولیس سٹیشن بنا دیا‘ ہماری گلی پولیس سٹیشن سے سٹارٹ ہوتی تھی‘ ڈاک خانہ تھانے کی بغل میں تھا‘ وہ انگریز دور کی پرانی عمارت تھی‘ سرخ اینٹیں‘ اونچی چھت‘ لمبے پنکھے اور پارسل پیک کرنے کی سرخ لاک کی خوشبو یہ سب آج تک میرے حافظے میں محفوظ ہیں‘ بسوں کا اڈہ تھانے کے سامنے تھا‘ اس زمانے میں جی ٹی روڈ سنگل ہوتی تھی اور اس پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی‘ جب دور سے کوئی گاڑی نظر آتی تھی تو لوگ اونچی آواز میں اعلان کرتے تھے ”اوئے گڈی آئی‘ گڈی آئی“ اور ہماری گلی کے لوگ بھی دوڑ کر گاڑی کی زیارت کے لیے سڑک پر پہنچ جاتے تھے اور دور سے اس کی طرف ہاتھ ہلانے لگتے تھے‘ بعض اوقات گاڑی میں سوار لوگ بھی کھڑکیاں کھول کر ہاتھ ہلانے لگتے تھے۔

اس زمانے میں تفتیش کا صرف ایک ہی طریقہ ہوتا تھا‘ ملزم کو ننگا کر کے چھتر مارنا یا الٹا لٹکا دینا‘ ہم تھانے کے قریب سے گزرتے ہوئے اکثر اوقات ملزموں کو الٹا لٹکا ہوا یا بڑی بڑی مونچھوں والے اہلکاروں کو ان کی ننگی پیٹھوں پر چھتر برساتے دیکھتے تھے‘ ملزموں کی گریہ و زاری کی آوازیں ہمارے گھر تک آتی تھیں‘تھانے کا چھتر چمڑے کا لمبا ٹکڑا تھا جسے نرم اور ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سارا دن سرسوں کے تیل میں رکھا جاتا تھا‘ تھانے کے ساتھ چھوٹی سی مسجد تھی‘ یہ ڈاک خانے والی مسجد کہلاتی تھی‘ اس کے ساتھ چھپر مارکیٹ ہوتی تھی‘ وہ پوری مارکیٹ عارضی کھوکھوں اور ٹین کی چھتوں سے بنی تھی‘ اس میں کھیتی باڑی سے متعلق مختلف اشیاءبکتی تھیں‘ اس کے ساتھ سبزی کی دکانیں تھیں‘ یہ سبز منڈی کہلاتی تھی‘ مسجد کی بغل میں میرے والد کے ایک دوست نے چھوٹا سا ہوٹل بنا لیا‘ یہ جی ٹی روڈ پر واحد ہوٹل تھا‘ اس کی دال بہت مشہور ہوئی‘ یہ بعدازاں ”میاں جی دی دال“ کے نام سے برینڈ بن گیا‘ وہ مدت بعد جی ٹی روڈ پر آگئے‘ آج بھی میاں جی کے بیٹے دال کا ریستوران چلا رہے ہیں اور پوری دنیا میں مشہور ہیں‘ میاں جی اور میرے والد کی روزانہ ملاقات ہوتی تھی لیکن والد کیوں کہ بازاری کھانے کے سخت خلاف تھے چناں چہ انہوں نے پوری زندگی میاں جی کی دال نہیں کھائی‘ میاں صاحب پوری زندگی انہیں یہ کہہ کر قائل کرتے رہے ”چودھری چکھ تے سہی“ لیکن والد نے دال چکھنے کی قسم نہیں توڑی۔

لالہ موسیٰ میں 1880ءمیں ریلوے لائین بچھی اور اسے جنکشن کا درجہ دیا گیا‘ اس زمانے میں ریلوے کا زیادہ تر سٹاف انگریز ہوتا تھا‘ ریلوے لائین اور سٹیشن کے ساتھ انگریزوں کے زمانے کی ریلوے کالونی تھی جس میں سوئمنگ پولز اور کلب تک ہوتا تھا‘ وہاں گوروں کا قبرستان اور چرچ بھی تھا‘ ہمارے زمانے میں گورے نہیں تھے‘ کالونی کی حالت بھی خراب ہو چکی تھی‘ سوئمنگ پول چھپڑ بن چکا تھا تاہم چرچ اور گوروں کا قبرستان موجود تھا‘ قبریں صاف ستھری تھیں‘ ان پر کراس کے نشان بھی تھے اور گورے اور گوریوں کے نام بھی لکھے تھے لیکن پھر یہ قبریں بھی غائب ہو گئیں‘ جی ٹی روڈ اور ریلوے سٹیشن کے درمیان ریلوے کی وسیع زمین تھی‘ یہ ”پڑاﺅ“ کہلاتی تھی‘ یہ جگہ شیرشاہ سوری کے زمانے سے فوجوں کے پڑاﺅ کے لیے مختص تھی‘ انگریز نے اسے ریلوے کی ملکیت بنا دیا‘ اس زمانے میں وہاں فصلیں اگائی جاتی تھیں‘ وہ علاقہ ویران تھا اور اس سے گزرنا تک محال تھا لیکن پھر اسے نیلام کر دیا گیا اور وہاں گھر اور دکانیں بن گئیں یوں پڑاﺅ کا وجود ختم ہو گیا‘ 1970ءکے شروع میںصرف ریلوے سٹیشن پر ٹیلی فون ہوتا تھا‘ وہ سیاہ رنگ کا فون تھا جو ہفتے میں ایک آدھ بار بجتا تھا اور سٹیشن ماسٹر سر پر کیپ رکھ کر اور کھڑے ہو کر اسے سنتا تھا‘

میں نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا‘ بعدازاں 1974ءمیں لالہ موسیٰ میں پہلا ایکسچینج لگا‘ یہ ہماری گلی میں ڈاک خانے کی پشت پر تھا‘ اس کا عملہ سیالکوٹ سے آیا تھا اور ایکسچینج کے اوپر رہتا تھا‘ وہ بھی پرانی عمارت تھی‘ اس پوری گلی میں صرف ہماری دکان ہوتی تھی جبکہ دائیں بائیں مکان تھے‘ والد صاحب مہمان نواز تھے‘ وہ میرے ہاتھ ایکسچینج کے عملے کو کھانا بھجوا دیتے تھے‘ میں دن میں دو بار ایکسچینج جاتا تھا لہٰذا میں نے اپنی آنکھوں سے ٹیلی فون کا سسٹم لگتے اور چلتے دیکھا‘ ایکسچینج ایک میز تھی جس پر درجنوں ساکٹس اور پلگز لگے تھے‘ میز پر ایک وقت میں دو آپریٹر بیٹھتے تھے‘ ان کے سروں پر ہیڈفون لگے رہتے تھے‘ وہ ہیلو کہہ کر فون سنتے‘ ایک پلگ دوسری ساکٹ میں فکس کرتے اور کہتے ”ہولڈ کیجیے“ اور اس کے بعد ”بات کیجیے“ کہہ کر دوسری کال سننے لگتے۔ کمرے میں بار بار فون کی گھنٹی بجتی تھی‘ صارفین کے پاس ایک اور سہولت بھی تھی‘ اسے سپیشل کال کہا جاتا تھا‘ اس میں صارف دوسری طرف موجود شخص کا نام بتاتا تھا جس کے بعد آپریٹر اس کی صرف اسی سے بات کراتا تھا‘اس کال کا ریٹ زیادہ ہوتا تھا‘

اس کال میں آپریٹر پلگ ساکٹ میں لگا کر کہتا تھا آپ سے فلاں صاحب بات کرنا چاہتے ہیں کیا میں کال تھرو کردوں؟ دوسری طرف سے ہاں کے بعد وہ کال تھرو کر دیتا تھا‘ وہ ایک دل چسپ منظر ہوتا تھا اور میں یہ دن میں دو بار دیکھتا تھا‘ آپریٹر پلگ کو ”کلی“ کہتے تھے‘ یہ چار نمبر کی کلی دس نمبر پلگ میں لگا کر دوسرے آپریٹر سے کہتے تھے لائین مصروف ہے‘ کال نہ لینا‘ اس دوران چار اور دس نمبر کی لائیٹ جلتی بجتی رہتی تھی‘ ایکسچینج کا انچارج ایک دن میرے والد کے پاس آیا اور ان سے کہا ”آپ ٹیلی فون کیوں نہیں لگوا لیتے؟ “ میرے والد نے پوچھا ”مجھے اس کا کیا فائدہ ہو گا؟“ انچارج نے بتایا ”فون صرف بڑے اور امیر لوگوں کے پاس ہوتے ہیں‘ اس سے آپ کا سٹیٹس بڑھ جائے گا‘ میرے والد نے سٹیٹس کا لفظ پہلی بار سنا تھا‘ انہوں نے پوچھا ”سٹیٹس کیا ہوتا ہے؟ انچارج انہیں دیر تک سمجھاتا رہا‘ والد کوبالکل سمجھ نہیں آیا لیکن میں نے دو لفظ پکڑ لیے امیر اور اونچا بندہ اور میں باقی زندگی اونچائی اور امارت کو سٹیٹس سمجھتا رہا‘ بہرحال قصہ مختصر انچارج کے کہنے پر والد نے ٹیلی فون لگوا لیا‘ یہ سرکاری فونز کے بعد لالہ موسیٰ میں پہلا سویلین نمبر تھا ‘ والد نے اس کی نمائش کے لیے باقاعدہ وزیٹنگ کارڈ چھپوائے جن پر سرخ رنگ میں بڑا سا فون نمبر لکھا تھا‘ ساتھ فون کی تصویر بھی بنی ہوئی تھی‘ ہمارے فون کا نمبر گیارہ تھا‘ ایکسچینج کے لوگ اسے ڈبل ون کہتے تھے‘

فون کے لیے ایکسچینج سے ہماری دکان تک دیواروں اور گھروں کے ساتھ ساتھ سیاہ رنگ کی تار لگائی گئی تھی‘ اس زمانے میں فون کی تار سخت ہوتی تھی‘ وہ دہری نہیں ہوتی تھی اور دیواروں کے ساتھ ساتھ لگائی جاتی تھی‘ ٹیلی فون سیٹ سفید رنگ کا ہوتا تھا جس پر ڈائل یا بٹن نہیں تھے‘ ہم فون اٹھاتے تھے تو ایکسچینج میں ڈبل ون کی لائیٹ آن ہو جاتی تھی جس کے تھوڑی دیر بعد آپریٹر کی آواز آتی تھی‘ ہیلو‘ ہم اسے مطلوبہ نمبر بتاتے تھے‘ وہ ہولڈکراتا تھا اور ”کلی“ مطلوبہ نمبر کی ساکٹ میں لگا کر بات کرا دیتا تھا‘ فون بہت مہنگا ہوتا تھا‘اس کا بل گفتگو کی مدت کے مطابق ہوتا تھا چناں چہ لوگ ایک منٹ کے اندر اندر بات مکمل کرتے تھے‘ دوسرے شہروں میں بات کرنے کے لیے کال بک کرانا پڑتی تھی‘ اسے ٹرنک کال کہا جاتا تھا‘ ٹرنک کال بک کرانے کے بعد سارا سارا دن انتظار کرنا پڑتا تھا‘ آپریٹرز اکثر اوقات ٹرنک کال ملانے سے پہلے کال کر کے بتا دیتے تھے آپ کی کال ملنے کا وقت ہو گیا ہے‘ آپ تیار ہو جائیں‘ آپریٹر کال کرنے اور وصول کرنے والے دونوں کا نام بھی لکھتا تھا اور کال سے پہلے دونوں کو ایک دوسرے کا نام بھی بتاتا تھا‘ کالز کے درمیان لائنیں مل جاتی تھیں لہٰذا ایک کی بات دوسرے اور دوسرے کی بات تیسرے لوگ بھی سنتے تھے اور بعض اوقات جواب بھی دے دیتے تھے جس سے صورت حال مزاحیہ ہو جاتی تھی‘ میرے سامنے ڈائل اور پھر بٹن والا سیٹ آیا‘ ان سیٹوں کے اوپر ”ٹی اینڈ ٹی“ لکھا ہوتا تھا‘

سیٹ ٹیکسلا کے قریب ہری پور کے علاقے میں سرکاری فیکٹری میں بنتے تھے اور یہ صرف ٹیلی فون کے محکمے کے پاس دستیاب ہوتے تھے‘ مارکیٹ میں فون سیٹ بیچنا جرم ہوتا تھا‘ فون کی آواز اونچی اور گرج دار ہوتی تھی‘ اس کی چنگاڑ پورا محلہ سنتا تھا‘ ابتدائی سیٹوں کے اندر باقاعدہ لوہے کی گھنٹی ہوتی تھی جس پر ضرب لگتی تھی اور اس سے آواز پیدا ہوتی تھی‘ الیکٹرانک گھنٹی یا سپیکر پش بٹن کے سیٹوں سے سٹارٹ ہوئی‘ ہماری دکان گھر کی بیٹھک میں تھی چناں چہ ہمیں رات کے وقت بھی گھنٹی کے بعد دکان کھول کر فون سننا پڑتا تھا‘ ہم ابتدائی دنوں میں سارا سارا دن فون سامنے رکھ کر بیٹھے رہتے تھے لیکن ہمیں کوئی کال نہیں آتی تھی‘ والد یہ چیک کرنے کے لیے کہ آیا فون کی گھنٹی ٹھیک ہے‘ مجھے دن میں ایک دو مرتبہ ایکسچینج بھجواتے تھے اور میں آپریٹر سے فرمائش کرتا تھا چاچا جی پلیز ڈبل ون کی گھنٹی بجا دیں‘ آپریٹر کلی ڈبل ون کی ساکٹ میں لگا دیتا تھا جس سے ہمارے فون کی گھنٹی بجتی تھی‘ والد تین چار منٹ تک مزے سے فون کی گھنٹی سنتے تھے اور پھر ریسیور اٹھا کر زور سے ”ہالو“ کہتے تھے‘ ہیلو کی آواز بعض اوقات ایکسچینج تک آ جاتی تھی‘ فون کی گھنٹی کی آواز سن کر راہ گیر بھی رک جاتے تھے اور منہ کھول کر میرے والد کو فون پر بات کرتے دیکھتے تھے‘ یہ ہماری روزانہ کی تفریح تھی‘ آخر میں آپریٹر نے مجھ پر ترس کھا کر والد سے کہا ”آپ بچے کو نہ بھجوایا کریں‘ میں روز دو تین مرتبہ آپ کے فون کی گھنٹی بجا دیا کروں گا‘ والد مان گئے اور یوں میرا ایکسچینج میں آنا جانا بند ہوگیا‘ آپریٹر بات کا پکا نکلا‘ وہ روز دو تین مرتبہ گھنٹی بجا کر والد صاحب کو فون کی صحت کا یقین دلا دیتا ‘

والد نے فون کی حفاظت کے لیے لکڑی کا ڈبا بنوا لیا تھا جس پر چائنا کا پیتل کا چھوٹا سا تالہ لگا ہوا تھا‘ والد اس کی چابی ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے تھے‘ ہمارا فون بہت جلد پورے شہر میں مشہور ہو گیا چناں چہ آدھے شہر نے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو ہمارا نمبر دے دیا اور یوں ہم سارا دن مختلف لوگوں کو گھروں سے بلا کر ان کی ان کے عزیزوں سے بات کراتے رہتے‘ یہ معاملہ بعض اوقات رات تک پھیل جاتا‘ ہم شروع میں اسے انجوائے کرتے تھے لیکن پھر بے زار ہو گئے اور آخر میں والد فون کا ہینڈل سائیڈ پر رکھ کر سوتے تھے (جاری ہے)۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…