اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں فوجی افسر کی مبینہ فائرنگ کے واقعے پر تجزیہ کار اور اینکرپرسن رائے ثاقب کھرل نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں رائے ثاقب کھرل نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج یا کسی بھی صورتحال کے دوران وردی میں ہو یا سادہ لباس میں، اسلحہ نکالنا اور فائرنگ کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کے سامنے اس نوعیت کا جارحانہ رویہ نہ صرف تشویش ناک بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ افسر کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص میں غصے پر قابو پانے اور برداشت کی صلاحیت اتنی کم ہو تو پھر وہ اتنے عرصے تک اہم ذمہ داریوں پر کیسے کام کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار منصب پر موجود کسی فرد سے زیادہ محتاط اور متوازن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
رائے ثاقب کھرل نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کریں گے اور اگر ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
دوسری جانب معروف صحافی حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک مقامی یونیورسٹی میں ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون نے متعلقہ افسر کو فون کرکے یونیورسٹی بلایا، جس کے بعد وہاں تنازع پیدا ہوا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ عسکری ادارے نے افسر کو تحویل میں لے کر معاملے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ تحقیقات میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی اور تادیبی کارروائی متوقع ہے۔
صحافی طارق متین کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے پر معلوم ہوا کہ افسر کے ہمراہ موجود خاتون اسی ادارے سے وابستہ ہیں اور ان کا ایک اسٹاف ممبر کے ساتھ پہلے سے تنازع چل رہا تھا، جو بعد میں شدت اختیار کرگیا۔
ان کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر افسر کو فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ایک موقع پر گولی چلانے کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔ طارق متین کا کہنا تھا کہ اگر اس موقع پر گولی چل جاتی تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی ضوابط کے تحت عوامی مقام پر اس انداز میں اسلحے کا استعمال قابلِ قبول نہیں، اسی لیے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ ایک سابق فوجی افسر نے بھی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہوئے تو افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہوسکتی ہے۔
فوجی یونیفارم یاپولیس کا یونیفارم تو بہت دور کی بات یونیورسٹی کے بچوں کے احتجاج میں کوئی سادہ کپڑوں میں بھی پستول نکالتا اور فائرنگ کرتا تو اس سے بڑی حماقت ہو ہی نہیں سکتی کوئی۔ اتنا غصہ آتا ہے تو ایسا بندا سروس میں اتنا وقت کیسے نکال گیا؟ امید ہے میرٹ ہو گا!
— Rai Saqib Wazir Kharal (@iRaiSaqib) August 24, 2026



















































