اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ ناخوشگوار واقعے کا عسکری ادارے نے نوٹس لے لیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث فوجی افسر کو تحویل میں لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ایک قریبی عزیزہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔ خاتون نے واقعے کے بعد متعلقہ افسر کو فون کرکے یونیورسٹی بلایا، جس کے بعد وہاں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی۔
حامد میر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ عسکری ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ معاملے کی حقائق پر مبنی تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے، جبکہ فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں افسر کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب صحافی طارق متین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے پر تصدیق ہوئی کہ افسر کے ہمراہ موجود خاتون ادارے سے وابستہ ہیں اور ان کا ایک اسٹاف ممبر کے ساتھ تنازع کافی عرصے سے چلا آرہا تھا، جو اس روز شدت اختیار کرگیا۔
طارق متین کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر افسر کی جانب سے فائرنگ کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے، تاہم ابتدائی طور پر گولی نہیں چل سکی، جس کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی فائرنگ کامیاب ہوجاتی تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی تھی۔
صحافی کے مطابق فوجی ضابطوں کے تحت عوامی مقامات پر اس نوعیت کے انداز میں اسلحہ لے کر چلنا قابلِ قبول نہیں، اسی لیے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ایک سابق فوجی افسر نے بھی معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات تحقیقات میں ثابت ہوگئے تو ملوث افسر کے لیے ملازمت برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے ماضی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک میجر کی جانب سے بچے پر تشدد کے معاملے میں بھی سخت محکمانہ کارروائی کی گئی تھی۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی pic.twitter.com/Hzq6vPFjOz
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 24, 2026



















































