پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ، عسکری ادارے نے ملوث فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ ناخوشگوار واقعے کا عسکری ادارے نے نوٹس لے لیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث فوجی افسر کو تحویل میں لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ایک قریبی عزیزہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔ خاتون نے واقعے کے بعد متعلقہ افسر کو فون کرکے یونیورسٹی بلایا، جس کے بعد وہاں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی۔

حامد میر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ عسکری ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ معاملے کی حقائق پر مبنی تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے، جبکہ فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں افسر کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب صحافی طارق متین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے پر تصدیق ہوئی کہ افسر کے ہمراہ موجود خاتون ادارے سے وابستہ ہیں اور ان کا ایک اسٹاف ممبر کے ساتھ تنازع کافی عرصے سے چلا آرہا تھا، جو اس روز شدت اختیار کرگیا۔

طارق متین کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر افسر کی جانب سے فائرنگ کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے، تاہم ابتدائی طور پر گولی نہیں چل سکی، جس کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی فائرنگ کامیاب ہوجاتی تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی تھی۔

صحافی کے مطابق فوجی ضابطوں کے تحت عوامی مقامات پر اس نوعیت کے انداز میں اسلحہ لے کر چلنا قابلِ قبول نہیں، اسی لیے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ایک سابق فوجی افسر نے بھی معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات تحقیقات میں ثابت ہوگئے تو ملوث افسر کے لیے ملازمت برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے ماضی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک میجر کی جانب سے بچے پر تشدد کے معاملے میں بھی سخت محکمانہ کارروائی کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…