کراچی(این این آئی) امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور ایرانی تومان تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 2 لاکھ ایرانی تومان سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث ملک میں مہنگائی کا دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ سالانہ مہنگائی کی شرح 61.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 128.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ایرانی کرنسی کی قدر میں حالیہ کمی کو نئی امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیا کی خریداری مزید مشکل ہوگئی ہے،
جبکہ مہنگائی نے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی شہری اس وقت متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی، روزگار اور معاش سے متعلق مشکلات پر قابو پانے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کررہی ہے، تاکہ شہری عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔اقتصادی ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی کی مسلسل گرتی قدر، بلند مہنگائی اور بیرونی پابندیاں ملکی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکی ہیں، جبکہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔



















































