جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’شہزادی ڈیانا کی موت کیسے ہوئی‘‘ آنجہانی کے بھائی کا 30 سال بعد حقیقت سے پردہ اٹھانے کا اعلان

datetime 21  اگست‬‮  2026 |

لندن(این این آئی)برطانوی شاہی خاندان کی آنجہانی بہو، پرنسس لیڈی ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر نے اپنی بہن کی زندگی اور موت سے متعلق حقائق اپنے نقط نظر سے بیان کرنے کے لیے نئی کتاب لکھنے کا اعلان کیا ہے۔

کتاب سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر برطانیہ اور دیگر ممالک میں 22 ستمبر کو شائع ہوگی اور اس کا 12 زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔پبلشر پینگوئن رینڈم ہاس کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چارلس ارل(برطانوی رئیس)اسپینسر نے اپنی بہن کے بارے میں تفصیل سے اور کھل کر گفتگو کی ہے۔کتاب میں شہزادی ڈیانا کی زندگی اور 1997 میں پیرس میں پیش آنے والے کار حادثے میں ڈیانا کی ہلاکت کے بعد گزرنے والے المناک ہفتے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔چارلس اسپینسر کا کہنا تھاکہ ڈیانا کی موت کی 30ویں برسی قریب آنے کے باعث مجھے ایک بار پھر اپنی بہن سے متعلق انٹرویوز کی متعدد درخواستیں موصول ہو رہی تھیں،

اس صورتِ حال نے مجھے اپنی یادیں اور خیالات مستقل طور پر قلم بند کرنے پر آمادہ کیا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ کئی ایسی آرا بھی حقیقت سمجھ لی گئیں جو درست نہیں۔اسپینسر نے کہا کہ میں اپنی بہن کی جانب سے بات کرنا چاہتا ہوں اور ڈیانا کو مثبت انداز میں یاد کرنا چاہتا ہوں، میرا مقصد قارئین کو ڈیانا کی شخصیت کا وہ پہلو دکھانا ہے جس میں میری بہن محبت، کشش، خود اعتمادی کی کمی اور بھرپور زندگی گزارنے کا جذبہ رکھنے والی منفرد شخصیت تھی۔واضح رہے کہ شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد ان کے بھائی نے ویسٹ منسٹر ایبی میں ہونے والی آخری رسومات کے دوران جذباتی خطاب کیا تھا اور ان کے دونوں بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی ہمیشہ دیکھ بھال کرنے کا عہد کیا تھا۔30 برس بعد شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان تعلقات میں شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، ڈیانا کے سابق شوہر اب برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم ہیں اور ان کی اہلیہ ملکہ کمیلا ہیں۔62 سالہ چارلس اسپینسر دونوں شہزادوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہزادہ ہیری، ان کی اہلیہ میگھن اور ان کے دونوں بچے جولائی کے آغاز میں اسپینسر کے آبائی گھر آل تھورپ گئے تھے جہاں انہوں نے ڈیانا کی قبر کا دورہ بھی کیا تھا۔اسپینسر کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ کتاب ڈیانا کو یاد رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو بھی متاثر کرے جو میری بہن کے عروج کے دور کو یاد نہیں رکھتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…