مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام یابی میں ماسٹروں کے ڈنڈوں‘ چھتروں ا ور ’’مرغ بانی‘‘ کا بہت ہاتھ تھا‘ استاد کے ہاتھ میں ڈنڈا انگریز نے پکڑایا تھا‘
اس کے دو مقصد تھے‘ پہلا مقصد بچوں کے دل میں شروع دن سے حکومت یا سرکار کا خوف بٹھانا تھا‘ نمبر دار‘ استاد‘ ڈاکیا اور کانسٹیبل چاروں اس دور میں سرکار کی پہلی علامت ہوتے تھے‘ حکومت جان بوجھ کر ان عہدوں پر سخت مزاج اور تنومند لوگ تعینات کرتی تھی‘ یہ لوگ ظالم بھی ہوتے تھے چناں چہ ان کی وجہ سے عوام میں حکومت کا دبدبہ قائم ہو جاتا تھا اور لوگ آگے چل کر انگریز کے سامنے سر نہیں اٹھاتے تھے ورنہ چند ہزار انگریزوں کو کروڑوں ہندوستانی کاٹ کر کھا جاتے‘ دوسرا مقصد‘ کم زور‘ نالائق اور غیرسنجیدہ طالب علم استاد کی مار کی وجہ سے بچپن میں ہی سکول سے بھاگ جاتے تھے‘ گورے انہیں ٹریش (کچرا) کہتے تھے‘ سکولوں میں پیچھے ایسے طالب علم رہ جاتے جن میں برداشت اور زندگی کی مار سہنے کا حوصلہ ہوتا تھا‘ ان بچوں کے مزاج میں تسلسل‘ نظم وضبط اور ٹک کر بیٹھنے کا مادہ بھی ہوتا تھا اور یہ عادتیں زندگی میں کام یابی کے لیے اہم ہیں چناں چہ جو طالب علم استاد کی مار کے باوجود سکول میں ٹک جاتے تھے وہ آگے چل کر زندگی میں بہت ترقی کرتے تھے‘ 1990ء کی دہائی تک سی ایس ایس اور فوج میں کمیشن لینے والے نوے فیصد نوجوان اسی ’’کیٹگری‘‘میں شامل ہوتے تھے‘ یہ کیوں کہ بچپن میں استاد کی مار اور بے عزتی سہہ چکے ہوتے تھے چناں چہ ان کے لیے آگے چل کر زندگی کے زیادہ تر امتحانات آسان ثابت ہوتے تھے۔
ہمارے زمانے میں کتاب اور تختی کے بعد سلیٹ تعلیم کا تیسرا بڑاسورس تھا‘ سلیٹ جستی لوہے کی چھوٹی سی چوکور پلیٹ ہوتی تھی جس پر مشین کے ذریعے کھردرا سیاہ پینٹ کر دیا جاتا تھا‘ ہم اس پر چاک اور کچے سنگ مرمر کے ٹکڑوں سے لکھتے تھے‘ سنگ مرمر کے چھوٹے ٹکڑے سلیٹی کہلاتے تھے اور یہ بھی کتابوں کی دکانوں سے ملتے تھے‘ ہم پوری ڈبی خرید لیتے تھے جس میں بیس باریک سلاخیں ہوتی تھیں‘ سلیٹ ریاضی کے لیے استعمال ہوتی تھی‘ اس پر لکھنا آسان تھا لیکن اسے صاف کرنا مشکل‘ ہم سب سلیٹ کو تھوک سے صاف کرتے تھے‘ سلیٹ پر تھوک کر اسے ہاتھ سے رگڑتے تھے یا پھر اس نیک کام کے لیے قمیض کا کف استعمال کیا کرتے تھے‘ سلیٹ کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں سے تھوک کی بو آتی رہتی تھی چناں چہ ہم جب گھر جاتے تھے تو ہماری مائیں سب سے پہلے ہمارے ہاتھ اور منہ دھلاتی تھیں‘ کھانے کو ہاتھ لگانے سے پہلے بھی ہاتھ دھونا ضروری تھا‘ ہماری عمر کے لوگ آج بھی ہاتھ دھوئے بغیر کھانا نہیں کھاتے‘ یہ بچپن کی ٹریننگ اور سلیٹ کی مہربانی تھی‘ ہم لوگ آج بھی اپنے ہاتھ سونگھتے رہتے ہیں‘ یہ بھی سلیٹ کی باقیات ہیں‘ ہماری زندگی میں چھٹی جماعت کے بعد انگریزی کاپی‘ رجسٹر اور گائیڈز آ گئیں‘ اس زمانے میں اردو‘ انگریزی اور میتھ (ریاضی) کے لیے الگ الگ کاپیاں ہوتی تھیں‘
انگریزی لکھنے کے لیے ایسی کاپی آتی تھی جس میں چار چار لائنیں ہوتی تھیں‘ یہ لائنیں بڑے اور چھوٹے حروف (کیپیٹل اور سمال) میں تمیز کے لیے ہوتی تھیں‘مجھے پوری زندگی استادوں نے پنجابی میں انگریزی پڑھائی لہٰذا میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اپنے پنجابی لہجے کو انگریزی نہیں بنا سکا‘ میں نے اب کوشش بھی بند کر دی ہے۔ رجسٹر میں ہم ہوم ورک کرتے تھے اور نوٹس لیتے تھے جب کہ گائیڈ میں بورڈ کے پرانے پیپرز‘ امتحانات کا پیٹرن اور مشکل سبق آسان الفاظ میں بیان کیے جاتے تھے‘ ان میں اہم سوالوں کے جواب کے ساتھ ہاتھ کی تصویر بنی ہوتی تھی‘ یہ گائیڈ امتحانات کے دوران نقل کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی‘ طالب علم انہیں ورق در ورق کھول کر کپڑوں کے مختلف حصوں میں چھپا لیتے تھے اور پھر ایگزامینر کی آنکھ بچا کر متعلقہ ورق نکال کر اسے پیپر پر نقل کر دیتے تھے‘ بعض نالائق طالب علم ہاتھ کا نشان بھی کاپی کر دیتے تھے اور یوں پکڑے جاتے تھے تاہم مار میٹرک تک پڑتی تھی‘ کالج میں پہنچ کر ذرا سا سکھ کا سانس آتا تھا‘ اسی لیے زیادہ تر لڑکے کالج پہنچ کر خراب ہو جاتے تھے‘ سکول بورنگ اور مشکل تھا چناں چہ جوں ہی چھٹی کی گھنٹی بجتی تھی تو پورا سکول خوشی سے چیخ اٹھتا تھا اور باڑے سے نکلے جانوروں کی طرح چھلانگیں لگاتا ہوا گیٹ سے باہر آتا تھا‘ طالب علموں کا سیلاب ٹریفک تک کی پرواہ نہیں کرتا تھا‘ طالب علموں کی خوشی چھٹیوں کے دنوں میں دیدنی ہوتی تھی اور جس دن جس کی سبق سنانے کی باری ہوتی تھی وہ صبح اس کے لیے قیامت ہوتی تھی‘ ہم سب اس صبح پیٹ پکڑ کر شدید درد کی ایکٹنگ کرتے تھے لیکن ہمارے والدین اس کے باوجود ہمیں سکول چھوڑ کر آتے تھے اور ہمیں سبق سنانے کے پھانسی گھاٹ سے بھی گزرنا پڑتا تھا‘ اس زمانے کا پورا نظام تعلیم رٹے پر بیس کرتا تھا‘ ہم طوطے کی طرح ہل ہل کر یاد کرتے تھے لیکن اس کے باوجود کمرہ امتحان میں پہنچ کر سب کچھ بھول جاتے تھے چناں چہ ہال میں ہر طالب علم دوسرے طالب علم سے ’’اوئے پہلی لائین تو بتانا‘‘ کی سرگوشی ضرور کرتا تھا اگر کسی جانب سے پہلی لائین دہرا دی جاتی تھی تو باقی سارا چیپٹر فوراً یاد آ جاتا تھا‘ اس غلط نظام کا یہ نتیجہ نکلتا تھا ہم فرسٹ کلاس میں پاس ہو جاتے تھے لیکن ہمیں کسی بھی سبجیکٹ کی الف ب نہیں آتی تھی لہٰذا عملی زندگی میں پہنچ کر ہمارے پاس صرف ڈگری تھی‘ صلاحیت اور مہارت نہیں اور ہمیں سب کچھ صفر سے سیکھنا پڑا‘ اس زمانے میں سیاہ اور گرے رنگ کا ملیشیا کپڑا آتا تھا‘ یہ سوتی کپڑا تھا‘ یہ ہمارا یونیفارم تھا‘ پولیس اور فوج کی وردی میں بھی یہی استعمال ہوتا تھا چناںچہ زیادہ تر ٹیکسٹائل ملیں یہ ضرور بناتی تھیں‘ 1990ء کی دہائی میں جب پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہوئی تو بچوں کی اس کھردے اور ناقابل برداشت کپڑے سے جان چھوٹی‘مائیں بھی اسے دھو اور استری کر کے تھک جاتی تھیں‘ ہم اس زمانے میں سر پر سرسوں کا تیل ضرور لگاتے تھے چناں چہ سب کے سر چپڑے ہوتے تھے‘ گھر کے ہر سرہانے پر بھی تیل کے داغ ہوتے تھے‘ میری ماں میرے سر میں مکھن بھی مل دیتی تھی جب کہ والد صاحب ہمارے سروں میں دہی ڈال کر نہلا دیتے تھے‘ اس سے سارا دن سر سے بو آتی رہتی تھی اور خارش بھی ہوتی تھی‘ اس کا یہ نتیجہ نکلا مجھے سرسوں کے تیل‘ دہی اور مکھن سے نفرت ہو گئی‘ میں آج بھی جب انہیں دیکھتا ہوں تو میرا جی متلانے لگتا ہے۔
ہمارے بچپن میں تین قسم کے صابن ہوتے تھے‘ گائے سوپ‘ یہ کپڑے دھونے کے لیے استعمال ہوتا تھا‘ اس میں وافر مقدار میں کاسٹک سوڈا ہوتا تھا جس کی وجہ سے عورتوں کے ہاتھ کھردرے ہو جاتے تھے‘عورتیں گھر پر دیسی صابن بھی بناتی تھیں‘ یہ سیاہ رنگ کا بدبودار ہوتا تھا‘دکانوں سے بھی دیسی صابن ملتا تھا‘ یہ کاٹ اور تول کر بیچا جاتا تھا‘ عورتیں بعض اوقات اس سے نہا بھی لیتی تھیں‘ مرد لائف بوائے سے نہاتے تھے‘ یہ سرخ رنگ کا صابن ہوتا تھا جسے پورے جسم پر رگڑنا پڑتاتھا‘اسے کمر تک پہنچانا مشکل ہوتا تھا لہٰذا لوگ کمر پر صابن لگانے کے لیے دوسروں کی مدد لیتے تھے‘ میں خود بچپن میں اپنے بزرگوں اور بڑی عمر کے بچوں کی کمر پر صابن لگاتا رہا‘ یہ کام عموماً آنکھیں بند کر کے کیا جاتا تھا یا غسل خانے کے باہر کھڑے ہو کر سرانجام دیا جاتا تھا‘ صابن لگانے والے کا صرف ہاتھ اندر جاتا تھا‘ عورتیں بھی اس کے لیے ایک دوسرے کی مدد لیتی تھیں‘ عورتوں کے لیے لکس صابن ہوتا تھا‘ یہ نرم اور ملائم ہوتا تھا‘ مرد اس کا استعمال توہین سمجھتے تھے‘ یہ دکانوں سے خریدتے وقت بھی اس کا آرڈر سرگوشی میں دیتے تھے اور کاغذ کے لفافے میں چھپا کر گھر لے جاتے تھے‘ جسم کی بدبو دور کرنے کے لیے ٹیلکم پائوڈر آتا تھا‘ یہ ہم گردن پر بھی چھڑکتے تھے‘ بغلوں میں بھی لگاتے تھے اور سینہ بھی اس سے سفید کر کے گھرسے نکلتے تھے‘ عورتیں اسے منہ پر لگا لیتی تھیں‘ پرفیوم کے نام پر عطر آتا تھا‘ مرد روئی کا چھوٹا سا ٹکڑا عطر میں ڈبو کر کان کے سوراخ میں رکھ لیتے تھے اور عورتیں اسے کلائی پر مل لیتی تھیں‘ ٹوتھ پیسٹ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا لہٰذا دانت صاف کرنے کے لیے تین طریقے تھے‘ مسواک‘ سارے مرد مسواک کرتے تھے جب کہ عورتیں اخروٹ کے تنے کا چھلکا دانتوں پر رگڑتی تھیں جس سے دانت بھی چمک جاتے تھے اور ہونٹ بھی سرخ ہو جاتے تھے‘
یہ ’’سکڑا‘‘ کہلاتا تھا‘ منیاری کی دکانوں کے سامنے لٹکا ہوتا تھا اور ناپ کر ملتا تھا‘ بچے ہتھیلی پر سرسوں کا تیل ڈالتے تھے اور اس میں سفید نمک ملا کر پیسٹ بناتے تھے اور اسے انگلی پر لگا کر دانتوں پر رگڑتے تھے‘ اس سے دانت صاف ہو جاتے تھے اور بازار سے منجن ملتا تھا‘ یہ کراچی کی کوئی کمپنی بناتی تھی‘ اس کا نام ’’ڈینٹانک‘‘ ہوتا تھا‘ یہ پلاسٹک کی ڈبی میں آتا تھا جس کے اوپر کارٹون بنا ہوتا تھا‘ اس میں مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ چونا ہوتا تھا‘ ہم شروع میں اسے انگلی کے ساتھ دانتوں پر رگڑتے تھے لیکن پھر ٹوتھ برش آ گئے اور ہم ان پر منجن لگا کر دانت صاف کرنے لگے‘ منجن لگانے کے لیے پہلے ہتھیلی گیلی کی جاتی تھی‘ پھر اس پر منجن کا پائوڈر چھڑکا جاتا تھا اور آخر میں برش کے ریشوں سے پائوڈر اکٹھا کر دانتوں پر رگڑنے لگتے تھے‘ یہ پریکٹس اس وقت تک جاری رہتی تھی جب تک ہتھیلی کا پائوڈر ختم نہیں ہو جاتا تھا‘ عورتیں رنگ گورا کرنے کے لیے ’’تبت سنو‘‘ کریم استعمال کرتی تھیں‘ یہ شیشے کی چھوٹی سی ڈبی میں آتی تھی‘ ملائی کی طرح سفید ہوتی تھی اور اس سے گلاب کی خوشبو آتی تھی‘ عورتیں اسے چہرے پر لگا کر رگڑتی تھیں اور یہ چہرے کی میل اور ’’ڈیڈ سکن‘‘ اتار دیتی تھی جس کے بعد چہرہ صاف ستھرا ہوجاتا تھا۔اس زمانے میں آنکھوں میں سرمہ اور کاجل لگایا جاتا تھا‘ سرمے کا سیاہ پتھر پنساریوں کی دکانوں سے ملتا تھا جسے گھر کی بزرگ عورتیں پتھر کے ’’کھرل‘‘ میں پتھر کے دستے کے ساتھ رگڑتی رہتی تھیں‘ یہ برکت کے لیے اس میں آب زم زم اور عرق گلاب بھی ڈال دیتی تھیں‘ سرمہ جب باریک ہو جاتا تھا تو اسے لوہے کی سرمے دانی میں ڈال دیا جاتا تھا‘ سرمے دانی میں لوہے کی سلائی ہوتی تھی جس کی دستی پر پھلجھڑی سی بنی ہوتی تھی‘
پھلجھڑی گھمانے سے سرمے دانی کھلتی اور بند ہوتی تھی‘ بزرگ عورتیں سلائی کو زبان پر پھیر کر اسے گیلا کرتی تھیں اور پھر سرمے دانی میں رکھ کر دونوں کو خوب ہلاتی تھیں اور جب سلائی (ہم اسے ’’سرمچو‘‘ کہتے تھے) پر سرمے کی تہہ چڑھ جاتی تھی تو یہ ہم بچوں کی آنکھیں کھول کر سرمچو ان میں پھیر دیتی تھی جس کے بعد ہماری آنکھوں کے کنارے سیاہ ہو جاتے تھے‘ آنکھوں کی دونوں سائیڈز پرسرمے کی دمیں بھی بنائی جاتی تھیں‘ پنجابی زبان ھیں اسے ’’بھونڈا‘‘ کہا جاتا تھا‘ سرمہ عموماً لڑکیاں اور عورتیں لگاتی تھیں لیکن یہ لڑکوں کو بھی لگایا جاتا تھا جن کا بعدازاں بہت مذاق اڑایا جاتا تھا‘ بزرگ عورتیں اور مرد صبح شام دو وقت سرمہ لگاتے تھے‘ ان کا خیال تھا یہ آنکھوں کی بینائی کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے‘ کراچی سے ’’ہاشمی سرمہ‘‘ بھی آتا تھا‘ یہ دو تین سو سال پرانی کمپنی تھی اور مختلف قسم کے سرمے بناتی تھی‘ حکیم کالے اور سفید موتیے کے مریضوں کو یہ سرمہ تجویز کیا کرتے تھے اور عجیب بات یہ تھی ان سرموں سے واقعی آنکھیں چمک دار اور صحت مند رہتی تھیںاور شادی شدہ عورتیں کاجل لگاتی تھیں‘ یہ دیے کی کاربن ہوتا تھا‘ کاجل بازار سے بھی ملتا تھا‘ عورتیں چھوٹی انگلی کے ناخن پر کاجل لگا کر اپنی آنکھیں سیاہ اور بادام کی طرح لمبی بنا لیتی تھیں‘ یہ اس زمانے کا کل میک اپ ہوتا تھا۔
پانی کا بندوبست دستی نلکے کے ذریعے ہوتا تھا‘ زیادہ تر گھروں میں دستی نلکے تھے‘ پانی نکالنا‘ کولروں اور گھڑوں میں بھرنا اورچھت تک پہنچانا عورتوں اور بچوں کا کام ہوتا تھا‘ راتوں کو گھڑے چھت پر رکھے جاتے تھے‘ اس سے پانی ٹھنڈا ہو جاتا تھا‘ غسل بھی نلکے کے نیچے کیا جاتا تھا‘ ہمارے والد ہمیں روز گرمیاں ہوں یا سردیاں لنگوٹ بندھوا کر نلکے کے نیچے نہلاتے تھے جس سے ہمیں غسل کی عادت پڑ گئی‘ عورتیں نلکے کے سامنے چارپائی رکھ کر رات کے وقت نہاتی تھیں‘ موٹروں کا زمانہ آیا تو پانی کی سپلائی آسان ہو گئی اور گھروں میں واش رومز بننے لگے‘ اس زمانے میں پانی صاف ستھرا ہوتا تھا‘ سارا ملک نلکے کا پانی پیتا تھا‘ میں نے منرل واٹر پہلی بار 1992ء میں لاہور میں دیکھا‘ یہ اس دور میں باہر سے آتا تھا اور میڈیکل سٹوروں سے ملتا تھا‘ میں نے چند ماہ ادیب جاودانی کے میگزین ’’مون ڈائجسٹ‘‘ میں بھی کام کیا تھا‘ مرحوم کا رنگ سیاہ تھا لیکن وہ سفید شوز کے ساتھ سفید سوٹ پہنتے تھے اور منرل واٹر پیتے تھے‘ میں ایک دن ان کی غیر موجودگی میں ان کا پانی غٹک گیا لیکن مجھے اس میں اور نلکے کے پانی میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا لیکن میں آج نلکے کا پانی نہیں پی سکتا‘ ہماری گلی میں دو سرکاری نلکے بھی تھے‘ یہ گلی کے دونوں سروں پر تھے اور انگریز دور سے چل رہے تھے جن لوگوں کے گھروں میں نلکا نہیں تھا‘ ان کی لڑکیاں یہاں سے پانی بھر کر لے جاتی تھیں جب کہ راہ گیر اور مسافر بھی نلکے سے منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے‘ ہمارے زمانے میں واش روم یا ٹوائلٹ کا نظام بہت غلیظ تھا‘ گھروں کی چھتوں پر لیٹرین ہوتی تھی جس میں ایک یا دو خانے بنے ہوتے تھے‘ یہ اینٹوں کے پلیٹ فارم ہوتے تھے جو فرش سے ایک یا ڈیڑھ فٹ اونچے ہوتے تھے‘ یہ لکڑی کے چولہوں جیسے ہوتے تھے (جاری ہے)۔



















































