جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان: پنجاب کا سست روی کا اعتراف

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی(آن لائن) نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سست روی کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے مقامی پولیس اور انتظامیہ کو انسداد دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کے لیے پیرا ملٹری فورسز کو بھی شامل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.خیال رہے کہ اپنے گذشتہ بیانات میں صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے کامیابیوں کا اعلان کرنے والی پنجاب حکومت نے ایک مراسلے میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ’یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نافذ کیے جانے والے نئے قانون کے حوالے سے معمولی کامیابی ہی حاصل ہوسکی ہے۔صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں اور ڈویڑنل پولیس چیف کو بھیجے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سویلین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر فعال کردار ادا نہیں کرسکے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی سست ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ڈویژ نل پولیس چیف اور کمشنرز، مقامی رکن قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مدد حاصل کریں اور انھیں نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے ان کے حساس کردار کا احساس دلائیں۔پنجاب حکومت کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ سے اب تک انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 47،123 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 51،493 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے.گرفتار افراد میں سے 4،376 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ 609 افراد کو بری کردیا گیا اور 34،075 مقدمات تعطل کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ رواں ہفتے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں فوج نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سول اداروں کی عدم معاونت پر خبر دار کیا تھا۔ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ مدارس کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی اور ا±ن کی مالی معاونت کے ذرائع کی معلومات کا حصول انتہائی سست روی کا شکار ہے۔خیال رہے کہ مدارس کی بیرونی امداد کے حوالے سے معلومات جمع کرنا حکومت کے لیے انتہائی مشکلات کا باعث بن رہا ہے کیونکہ مقامی سول انتظامیہ کے پاس ایسی معلومات جمع کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع کو بند اور کالعدم تنظیموں کے مختلف ناموں سے آپریٹ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں سست روی بھی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے جبکہ ضلعی پولیس سے کاو¿نٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مقدمات کی منتقلی بھی تعطل کا شکار ہے۔مزید یہ کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا جبکہ سیکیورٹی ایجنسیز کا ماننا ہے کہ حکومت نے لاو¿ڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…