جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان: پنجاب کا سست روی کا اعتراف

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی(آن لائن) نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سست روی کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے مقامی پولیس اور انتظامیہ کو انسداد دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کے لیے پیرا ملٹری فورسز کو بھی شامل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.خیال رہے کہ اپنے گذشتہ بیانات میں صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے کامیابیوں کا اعلان کرنے والی پنجاب حکومت نے ایک مراسلے میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ’یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نافذ کیے جانے والے نئے قانون کے حوالے سے معمولی کامیابی ہی حاصل ہوسکی ہے۔صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں اور ڈویڑنل پولیس چیف کو بھیجے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سویلین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر فعال کردار ادا نہیں کرسکے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی سست ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ڈویژ نل پولیس چیف اور کمشنرز، مقامی رکن قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مدد حاصل کریں اور انھیں نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے ان کے حساس کردار کا احساس دلائیں۔پنجاب حکومت کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ سے اب تک انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 47،123 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 51،493 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے.گرفتار افراد میں سے 4،376 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ 609 افراد کو بری کردیا گیا اور 34،075 مقدمات تعطل کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ رواں ہفتے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں فوج نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سول اداروں کی عدم معاونت پر خبر دار کیا تھا۔ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ مدارس کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی اور ا±ن کی مالی معاونت کے ذرائع کی معلومات کا حصول انتہائی سست روی کا شکار ہے۔خیال رہے کہ مدارس کی بیرونی امداد کے حوالے سے معلومات جمع کرنا حکومت کے لیے انتہائی مشکلات کا باعث بن رہا ہے کیونکہ مقامی سول انتظامیہ کے پاس ایسی معلومات جمع کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع کو بند اور کالعدم تنظیموں کے مختلف ناموں سے آپریٹ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں سست روی بھی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے جبکہ ضلعی پولیس سے کاو¿نٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مقدمات کی منتقلی بھی تعطل کا شکار ہے۔مزید یہ کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا جبکہ سیکیورٹی ایجنسیز کا ماننا ہے کہ حکومت نے لاو¿ڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…