پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے 6ماہ میں 376ار ب مالیت کے نوٹ چھاپ دیئے

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہو(نیوزڈیسک)حکومت نے بینکوں سے قرضے لینے کا ریکارڈ تو بنایا ہی تھا ،، نوٹ چھاپنے کے بھی اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑدئیے ہیں،، ہر ہفتے اوسطًا 23 ارب 48 کروڑ روپے مالیت کے نئے نوٹ جاری کیے جا رہے ہیں،،نوٹوں کی بھرمار نے مہنگائی کی نئی لہرپیدا کی ہے ۔رواں مالی سال کے پہلے 16 ہفتوں کے دوران حکومت نے تقریبا 376 ارب روپے مالیت کے نئے نوٹ جاری کیے ہیں،، جس کے بعد ملک میں زیر گردش نوٹوں کا مجموعی حجم ملکی تاریخ میں پہلی بار 31 کھرب 2 ارب 14 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ،، رواں مالی سال حکومت نے صرف سولہ ہفتوں میں جتنے نوٹ چھاپے ،، گزشتہ پورے مالی سال میں اتنے نوٹ جاری کیے گئے تھے،،نوٹ پرنوٹ چھاپنے کی پالیسی سے حکومت کی گاڑی توجیسے تیسے آگے بڑھ رہی ہے مگرغریب کا چولہا ٹھنڈا ہورہا ہے،،جس کے پاس جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنے کےلئے بھی وسائل کم پڑتے جارہے ہیں،،اندھا دھند نوٹ چھاپنے سے بنیادی ضرورت کی اشیا میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،،سرکاری رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران دال چنا کی قیمت میں 61فیصد اضافہ ہوا،دال ماش 43فیصد،دال مسور 10 فیصد اوردال مونگ 8 فیصد مہنگی ہوئی،،سرخ مرچ اورنمک کی قیمت بھی 6 فیصد اوپرگئی ،،اس دوران آٹے کی قیمت بھی بڑھتی رہی ایک طرف حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کے حصول کے لئے اندھا دھند اس کی شرائط پرعمل کررہی ہے ،،رواں مالی سال کے دوران اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت نئے نوٹ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اب تک کمرشل بینکوں سے 481 ارب 58 کروڑ روپے قرض بھی لے چکی ہے ،،،، قرض پرلی گئی اس رقم سےحکومت نے اسٹیٹ بینک سے لیاگیا قرض واپس کیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…