جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

لاہور،فیکٹری کی چھت گرگئی ،10افرادجاں بحق،درجنوں زخمی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور کے علاقے سندر انڈسڑیل ایریا میں شاپنگ بیگ بنانے والی فیکٹری کی عمارت گر گئی ،150سے زائد ملبے تلے دب گئے جبکہ فیکٹری کے مینیجر سمیت 10افراد کی لاشیں ملبے تلے سے نکال لی گئیں ، چار منزلہ فیکٹری زمین بوس ہو گئی ، حادثے کے بعد لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان سمیت دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا جبکہ اعلیٰ حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے سندر انڈسٹریل ایریا میں 4منزلہ فیکٹری کی عمارت کی تیسری منزل پر تعمیرات کا کام جاری تھا کہ اس دوران عمارت نیچے آگری جس کے نتیجے میں 150سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے، حادثے کے بعد علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور ملبے سے ابتدائی طور پر 10افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جن میں فیکٹری کا مینیجر بھی شامل ہے جبکہ ملبے سے نکالے گئے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، حادثے کے بعد لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم اس فیکٹری میں بیگ بنانے کا کام کیا جاتا ہے جس میں ایک شفٹ میں 100افراد کام کرتے ہیں تاہم عمارت کے ملبے تلے 150سے زائد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ فیکٹری کی عمارت منہدم ہونے پر ریسکیو کا کام انتہائی سست رہا اور مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارورائیوں میں مصروف ہوگئے جبکہ ملبے تلے دبے افراد مدد کے لیے پکارتے رہے۔حادثے کی اطلاع پر فیکٹری ورکرز کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے کے لئے موقع پر پہنچ گئے ۔جبکہ پولیس کی بھی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ دوسری جانب ترجمان ریسکیو 1122کے مطابق عمارت میں 250افراد موجود تھے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے تاہم ریسکیو کارروائیاں شروع کردی گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مزید وسائل بھی بروئے کار لائے جارہے ہیں۔حادثے کی اطلاع ملنے پر ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور امددادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ اس موقع پر ڈی سی او لاہور نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی جاں بحق اور زخمیوں کی حتمی تعداد بتائی جا سکتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اعلیٰ حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوںنے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کےلئے ہر ممکن وسائل بروے کار لائے جائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…