جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی / ریاض (نیوزڈیسک) پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انتہاءپسندی کےخلاف میکانزم کو نئی توانائی کےساتھ فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سعود ی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ سعودی عرب کیلئے ناقابل قبول ہوگا جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حرمین شریفین اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع اور تحفظ کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ سعودی عرب کے درمیان بدھ کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں کیں، جنرل راحیل شریف کی سعودی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ، دو طرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی مشترکہ عظیم تاریخ ہے اور دونوں ممالک کے عوام میں بھائی چارے کا گہرا جذبہ پایا جاتا ہے جو پائیدار شراکت داری میں تبدیل ہو رہاہے۔ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ اور سعودی فرمانروا نے کہا کہ علاقائی استحکام میں دونوں ممالک کا کردار نہایت اہم ہے اور امت مسلمہ کے حوالے سے بھی دونوں ممالک پر بھارتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حرمین شریفین اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور دفاع کیلئے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور انتہاءپسندی کے خاتمے کیلئے میکانزم کو نئی توانائی کےساتھ فعال کرنے پر اتفاق کیا ، سعودی فرمانروا اور ولی عہد نے پاک فوج کے سربراہ کو یقین دلایا کہ پاکستان کی سالمیت کو کسی بھی طرح کا خطرہ سعودی عرب کیلئے ناقابل قبول ہوگا ، سعودی عرب پاکستان میں امن اور استحکام کی حمایت کریگا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع نے کہا کہ وہ پاکستان اور پاک فوج کا نہایت احترام کرتے ہیں ، انہوں نے آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کی کامیابیوں کو بھی سراہا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون، انٹلیجنس شیئرنگ اور دہشت گردوں وانتہاءپسندوں کیلئے فنڈز کی ترسیل سمیت ہر طرح سے زمین تنگ کر دینے کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…