اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا.تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے منگل کو پشاور کی اپنی نیوز کانفرنس میں اپنی طلاق کے حوالے سے سوال کے جواب میں جس ناشائستگی کا مظاہرہ کیا ہے اور صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا ہے اس پر میڈیا کے حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ خان نے طلاق کے بعد سوچ سمجھ کر اپنی اولین نیوز کانفرنس کیلئے پشاور کا چنائو کیا تھا، جہاں ان کی پارٹی حکمراں ہے،سوشل میڈیا پر طلاق کے اسباب اور عمران خان کی سابق اہلیہ کے خلاف کردار کشی کی چلائی جارہی ہولناک مہم سے پیدا شدہ سوالات خان کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہیں گے جب تک وہ ان کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہیں دیتے۔ صحافتی حلقوں میں عمران خان کے رویئے پر شدید مزاحمت پائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے مزاج کے خلاف سوال کئے جانے پر فاشسٹ طریق کار اختیار کیا جس میں سوال کرنے والے صحافی کیلئے موجود دھمکی کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی سیاستدان جب عوامی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو معروف جمہوری اصولوں کے تحت اس کی کوئی شے نجی نہیں رہ جاتی، اس کا طرز زندگی ملکیت، دوسروں سے برتائو، تراش خراش، لباس، طعام و خوراک اور خاندان کے بارے میں جاننا عوام کا حق ٹھہرتا ہے۔ اس سلسلے میں جمہوری ممالک میں لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور آئے روز نت نئی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔روزنامہ جنگ کے سینئرتحقیقاتی صحافی محمدصالح ظافرکی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کررکھا ہو کہ وہ ملک کا وزیراعظم بنے گا، اگر وہ آج کسی خاتون سے اچانک شادی کرلے اور محض چالیس ہفتے بعد اسے توہین آمیز انداز میں طلاق دیدے جس کے ساتھ ہی اس کی سابقہ منکوحہ کے خلاف اس کے حامی سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلادیں تو اس کی دوسروں کو پہچاننے اور شناخت کرنے کے صلاحیتوں کے بارے میں لازماً شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اور طرح طرح کے سوالات اٹھیں گے۔ ان سوالات کا جواب کوئی دوسرا شخص نہیں خود اسے ہی دینا ہوگا۔ اس کے فیصلے اور ان کی بناوٹ اور شکست و ریخت سے ہی اس کی شخصیت کا سراغ ملے گا۔ عمران خان کی شادی ہرگز سادہ معاملہ نہیں تھا، دونوں لاکھوں کروڑوں افراد کے درمیان زیربحث آگئے۔ گھر گھر میں ان کے بارے میں تبصرے ہونے لگے اور ہر شخص یہ اندازے لگانے میں مصروف تھا کہ ادھیڑ عمری بلکہ بڑی عمر کی اس شادی کی پشت پر کونسے عوامل کارفرما ہیں پھر ان کے شب روز کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے مسلسل اطلاعات فراہم کی جاتی رہیں۔ شادی کا اعلان بڑے دھوم دھڑکے سے کیا گیا، ہر روز جوڑے کی نت نئی تصاویر جاری کی گئی، دونوں نے بار بار ذرائع ابلاغ اور ٹیلی ویژن پر آکر اہم قومی امور کےبارے میں خیال آرائی کی کبھی دونوں نے باہم تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور کبھی وہ الگ الگ پارٹی کے جلسوں سے مخاطب ہوتے رہے۔ ان کی شادی کے بعد تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی، ان تمام باتوں کے بعد دونوں میں اچانک طلاق کا اعلان ہونا ہر شخص کیلئے باعث استعجاب تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…