اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پانچ سموں کی اجازت سے متعلق پی ٹی اے حکام سے چوبیس گھنٹوں میں جواب طلب

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے پانچ سموں کی اجازت کے بارے میںپی ٹی اے حکام سے چوبیس گھنٹوں میں جواب طلب کیا ہے جبکہ عدالت نے بلوچستان بدامنی کیس بھی مذکورہ مقدمے کے ساتھ لگانے کا حکم دیا ہے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کو بتایا جائے کہ پانچ سموں کے اجراء کی اجازت کیوں دی گئی جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا ہے کہ کراچی میں ناخوشگوار واقعات میں موبائل فون سموں کو استعمال کیا گیا اس ایشو کو سپریم کورٹ نے سب سے پہلے اٹھایا ۔ غیر قانونی سموں کا استعمال اب بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے پانچ سموں کے اجراءبارے مقدمے کی سماعت کی اس دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اس بات کی وضاحت ہونی چاہئے کہ آخر پانچ سموںکا اجراءکس وجہ سے کیا جاتا ہے ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس اپنے موقف سے عدالت کو آگاہ کیا ۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کا معاملہ بلوچستان بدامنی کیس میں بھی زیر بحث رہا ہے اس کو بھی اس مقدمے کے ساتھ لگایا جائے عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج جمعرات تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…