کراچی ( نیوزڈیسک) ,پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اوررینجرزکے درمیان معاملات ٹھن گئے سیاسی حلقوں میں پھرہلچل مچ گئی۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان معاملات کے ٹھن جانے کا ایک اور معاملہ سامنا آگیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے انسدادہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں رینجرز کی مدعیت کے مقدمات میں پیروی کرنے والے 9پراسیکوٹرز کی تنخواہوں سے متعلق بجٹ کی سمری روک لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ پہلے مذکورہ پراسیکوٹرز کی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے۔ جسکے سبب پراسیکوٹرز کو جون کے بعد سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہو سکی ہے۔روزنامہ جنگ کراچی کے صحافی بلال احمد کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دلوانے کیلئے رینجرز کی سفارش پر2سال قبل 11پرا سیکوٹرز تعینات کیے گئے تھے۔ سینئر وکلا پر مشتمل پراسیکوٹر ٹیم صرف رینجرز کی مدعیت میں درج مقدمات میں سرکار کا دفاع کرتی ہے جبکہ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمات کیلئے دیگر پراسیکوٹرز تعینات ہیں۔ مذکورہ 11میں سے 2پراسیکوٹرز مستعفی ہو چکے ہیں جسکے بعد اب 9پراسیکوٹرز اپنے فرائص سرانجام دے رہے ہیں۔ ان پراسیکوٹر ز کو تنخواہیں جاری کرنے کیلئے ہوم ڈیپارنمنٹ بجٹ کی منظور ی کیلئے سمری وزیر اعلی کو ارسال کر تا ہے۔جسکی منظور ی کے بعد محکمہ فنانس تنخواہیں جاری کرتا ہے۔گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہوم ڈیپارنمنٹ نے سال 2015-2016کے بجٹ کی منظوری کیلئے سمری حکام بالا کو ارسال کی جیسے روک لیا گیا ہے۔ رینجرز کو خدمات دینے والے ایک سے زائد پراسیکوٹرز نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر سمری روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے جنگ کو بتایا کہ انہیں جون سے تنخواوں کی ادائیگی نہیں ہو سکی ہے۔ معلوم ہوا ہےکہ ہو م ڈیپارنمنٹ نے سمری وزیر اعلی کو ارسال کی تاہم حکام بالا نے سمری کی منظوری کے بجائے رینجرز کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں ان پراسیکوٹرز کی کارکردگی سے متعلق تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ سال کا بجٹ منظور ہونے کے بعد تنخواہیں بھی مل گئی تھیں۔ پراسیکوٹر ز ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز کی مدعیت میں درج مقدمات میں سزاوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں تنخواہیں روکنا ان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ پراسیکوٹر ز کے ایک ذرائع کے مطابق مذکورہ سمری کو روکے جانا، بااثر شخصیات کے خلاف کریشن کے مقدمات کے بعد سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان پیدا ہونے والے صورتحال ایک سبب ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکٹرئری صوبائی محکمہ داخلہ سندھ محمد وسیم نے رابطہ کرنے پر جنگ کو بتا یا کہ ان کے محکمے نے سمری حکام بالا کو ارسال کر دی ہے۔ جس کی منظور ی کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی سمری کی منظور ی کے بعد تنخواوں کا معاملہ حل ہو جائے گا۔
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اوررینجرزکے درمیان معاملات ٹھن گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
سکولوں میں داخلے کیلئے عمر کی نئی حد مقرر، والدین کی پریشانی میں اضافہ
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ
-
یو اے ای نے پاکستانی و بھارتیوں سمیت متعدد کرکٹرز کو شہریت دیدی
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ناقابل یقین ریکارڈ بنا ڈالا
-
سعودی عرب کا اعتراض، پاکستان نے سوڈان کیساتھ ڈیڑھ ارب ڈالرز کے ہتھیاروں اور لڑاکا طیاروں کی ڈیل مؤخ...
-
اسلام آباد،وی آئی پی روٹ سے جعلی خاتون ٹریفک پولیس اہل کار گرفتار



















































