اسلام آباد(نیوزڈیسک)نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے ثمرات‘ ریاست مخالف جنگجو حملوں کی تعداد سال رواںمیں کم ترین سطح پر پہنچ گئی تاہم خودکش حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جنگجو حملوں کی تعداد میں کمی کے باوجود جنگجو ہائی پروفائل حملے کرنے کی اہلیت ختم نہیں ہو سکی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (پکس) کی جاری کردہ ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2015 ءمیں صرف اکتالیس جنگجو حملے ریکارڈ کیے گئے جورواں سال کی کم ترین تعداد ہے۔ سب سے نمایاں بہتری خیبر پختونخواہ میں آئی جب کہ بلوچستان میں جنگجو حملو ں میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ اکتوبر میں ہونے والے اکتالیس جنگجو حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 26 اہلکار اور 69 عام شہری مارے گئے‘ جبکہ چھ جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اکتوبر میں تقریباََ دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ‘ ستمبر میں 38 عام شہری مارے گئے تھے ۔ ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں خیبر پختونخواہ‘ سندھ اور پنجاب میں حملوں کی تعداد می کمی جبکہ بلوچستان میں اضافہ ہوا۔بلوچستان میں ستمبر میں گیارہ حملے ہوئے تھے جبکہ اکتوبر میں سترہ حملے ہوئے جن میں ایک خود کش حملہ بھی شامل ہے جو محرم کے دورا ن ایک امام بارگاہ میں کیا گیا۔ مجموعی طور پر اکتوبر میں تین خود کش حملے ہوئے جن میں 47 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے۔ جون کے بعد سے خود کش حملوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی تھی اور جولائی‘ اگست اور ستمبر میں صرف ایک ایک خود کش حملہ ہوا تھا تاہم اکتوبر میں یکدم اضافہ دیکھنے میں آیا اور تین خود کش حملے ہوئے۔ دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ گزشتہ تین سال ہر سال اکتوبر میں تین خود کش حملے ہورہے ہیں۔ اکتوبر میں ایک خود کش حملہ تونسہ شریف ڈی جی خان میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سردار امجد کھوسہ کے ڈیرے پر ہوا جبکہ ایک خود کش حملہ بلوچستان کے ضلع بولان میں ایک امام بارگاہ پر اور تیسرا خود کش حملہ جیکب آباد میں محرم کے ایک جلوس پر کیا گیا۔ سخت سیکیورٹی کے باعث فرقہ وارانہ جنگجو ملک کے اہم بڑے شہروں میں محرم کے دوران کوئی بڑی کارروائی نہ کر پائے تاہم انہوں نے دورافتادہ علاقوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ سیکورٹی فورسز نے محرم کے دوران انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز میں متعدد مقامات سے جنگجوﺅں کو گرفتار کیا جو محرم کے دوران تباہی پھیلانا چاہتے تھے۔ پشاور‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ شیخوپورہ اور کراچی میں اہم گرفتاریاں ہوئیں جبکہ ایک فرقہ وارانہ تنظیم کے بانی کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انٹرپول کے ذریعے دبئی سے گرفتارکر کے وطن واپس لایا۔ مجموعی طور پر ماہ اکتوبر میں فورسز نے ملک بھر سے 309 جنگجوﺅں اور ان کے حامیوں کو گرفتار کیا جبکہ فورسز کی 131 کارروائیوں میں 125 جنگجو ہلاک بھی ہوئے۔
دہشت گردی کا خاتمہ،خیبر پختونخوا سب سے آگے،جائزہ رپورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)
-
راولپنڈی: مشہور ٹک ٹاکر خاتون کو گھر سے بلاکر ہلاک کردیا گیا، چھوٹی بہن بھی زخمی
-
وزیر خزانہ کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
متحدہ عرب امارات نے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروازیں منسوخ کردیں
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق اچھی خبر سامنے آگئی
-
بیوی نے شوہر کو نیند کی گولیاں کھلا کر بلّے سے پیٹا اور زندہ دفنا دیا
-
عمرہ زائرین کے لیے سعودی حکام کی اہم ہدایت، مسجد الحرام جانے سے پہلے یہ بات جان لیں
-
لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت،ٹارگٹ کلر کی بیٹی بھی زیر حراست، تفتیش میں ا...
-
ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن حق پر عدالت کا بڑا فیصلہ
-
رونالڈو اور جورجینا نے شادی سے پہلے کیا اہم معاہدہ کیا؟
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
-
اسٹیج اداکارہ عروج سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج
-
1500 اور 100 روپے کی قرعہ اندازی پرائز بانڈز رکھنے والوں کیلئے خوشخبری آ گئی
-
کرن اشفاق کے عمران اشرف سے متعلق جواب نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی



















































