اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سعودی شہزادے کو نایاب باز کی برآمد کی اجازت

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے سعودی شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز کے لیے پاکستان سے قیمتی اور نایاب اقسام کے 10 باز برآمد کرنے کا خصوصی لائسنس جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا یہ اقدام نہ صرف عالمی معاہدوں بلکہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، جبکہ باز کی ان اقسام کو عالمی سطح پر تحفظ بھی حاصل ہے۔ واضح رہے کہ شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اٹھا کر جی ایس پی پلس کی سہولت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے عالمی معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ملک کو اربوں یورو مالیت کی جی ایس پی پلس کی سہولت خطرے میں پڑجائے گی۔ ذرائع کے مطابق شہزادہ فہد باز کی ان نایاب اقسام کو ’تلور‘ کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ شہزادہ فہد گزشتہ سال اُس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے، جب یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے 2 ہزار ایک سو عالمی تحفظ شدہ ’تلور‘ پرندوں کا شکار کیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی سفارتخانے کو لکھے جانے والے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کو باز کی برآمد کا خصوصی اجازت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ خط کی کاپی موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے وائلڈ لائف کنزرویٹر امید خالد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور وزارت خارجہ کے کراچی اور اسلام آباد میں پروٹوکول ڈپٹی چیفس کو بھی بھجوادی گئی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال بھی شہزادہ فہد کو پرندوں کی برآمد کے لیے 2 خصوصی لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ جاری کیے جانے والے لائسنس میں سے ایک، 8 باز اور دوسرا 10 نایاب پرندوں کی برآمد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ فہد کو اس سے قبل، باز اور تلور کے شکار کے لیے جاری کیے جانے والے اجازت ناموں میں، وزارت خارجہ کے حکام کا نام درج ہوتا تھا لیکن حالیہ جاری کیے جانے والے لائسنس میں کسی عہدیدار کا نام درج نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق خصوصی اجازت نامے میں، لائسنس جاری کرنے والے عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی احتیاط سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے برتی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نایاب پرندے ’تلور‘ کے شکار پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پاکستان میں نایاب پرندوں کی اقسام کو محفوظ کرنے والوں نے حکومت سے اس اجازت نامی کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…