جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

سعودی شہزادے کو نایاب باز کی برآمد کی اجازت

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے سعودی شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز کے لیے پاکستان سے قیمتی اور نایاب اقسام کے 10 باز برآمد کرنے کا خصوصی لائسنس جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا یہ اقدام نہ صرف عالمی معاہدوں بلکہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، جبکہ باز کی ان اقسام کو عالمی سطح پر تحفظ بھی حاصل ہے۔ واضح رہے کہ شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اٹھا کر جی ایس پی پلس کی سہولت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے عالمی معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ملک کو اربوں یورو مالیت کی جی ایس پی پلس کی سہولت خطرے میں پڑجائے گی۔ ذرائع کے مطابق شہزادہ فہد باز کی ان نایاب اقسام کو ’تلور‘ کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ شہزادہ فہد گزشتہ سال اُس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے، جب یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے 2 ہزار ایک سو عالمی تحفظ شدہ ’تلور‘ پرندوں کا شکار کیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی سفارتخانے کو لکھے جانے والے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کو باز کی برآمد کا خصوصی اجازت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ خط کی کاپی موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے وائلڈ لائف کنزرویٹر امید خالد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور وزارت خارجہ کے کراچی اور اسلام آباد میں پروٹوکول ڈپٹی چیفس کو بھی بھجوادی گئی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال بھی شہزادہ فہد کو پرندوں کی برآمد کے لیے 2 خصوصی لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ جاری کیے جانے والے لائسنس میں سے ایک، 8 باز اور دوسرا 10 نایاب پرندوں کی برآمد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ فہد کو اس سے قبل، باز اور تلور کے شکار کے لیے جاری کیے جانے والے اجازت ناموں میں، وزارت خارجہ کے حکام کا نام درج ہوتا تھا لیکن حالیہ جاری کیے جانے والے لائسنس میں کسی عہدیدار کا نام درج نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق خصوصی اجازت نامے میں، لائسنس جاری کرنے والے عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی احتیاط سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے برتی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نایاب پرندے ’تلور‘ کے شکار پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پاکستان میں نایاب پرندوں کی اقسام کو محفوظ کرنے والوں نے حکومت سے اس اجازت نامی کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…