اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اسکول نہ جانے والے بچوں کے حوالے سے ایک اوراہم فیصلہ

datetime 15  اگست‬‮  2026 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی گھر گھر گنتی کا فیصلہ کرلیا گیا۔

اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے 4 محکموں کا اشتراک کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے گئے ہیں۔منصوبے کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی درست تعداد اور مقامات معلوم کرنے کے لیے ‘ون میپ’نظام تشکیل دیا جائے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 60 فیصد اسکول سے باہر بچوں کو فوری طور پر اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 5 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سکولوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم کے لیے سرکاری اسکولوں، ڈبل شفٹ، کمیونٹی اسکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شراکت داری سے استفادہ کیا جائے گا۔ غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکوٰ? اور دیگر سماجی معاونت فراہم کی جائے گی۔ 14 سے 16 سال کے نوجوانوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام ‘جنریشن ان لمیٹڈ’کے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔علاوہ ازیں منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ شفافیت کے لیے آزاد ادارہ سروے شدہ ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔ بچوں کے وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…