اسلام آباد (این این آئی)وفاقی آئینی عدالت نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم یا اس کے اہلخانہ کو پنشن سے محروم رکھنا آئینی انصاف سے کھلواڑ قرار دے دیا۔
ہفتے کو وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی ملازم کی بیوہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے تمام فوائد اور پنشن فوری جاری کرنے کا حکم کر دیاہے ۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنشن کوئی رعایت ، عطیہ یا خیرات نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنشن ملازم کی برسوں کی وفاداری اور خدمت کے بعد حاصل محفوظ شدہ معاوضہ ہے،
پنشن آئین کے تحت بنیادی حقوق، انسانی وقار اور زندگی کی بقا سے منسلک ہے، قواعد کی 2تشریحات ممکن ہوں تو وہی تشریح اپنائی جائے گی جو ملازم کے حق میں ہو، پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے میں ریکارڈ اور قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔عدالت کے مطابق بیوہ کو تمام فوائد بشمول پنشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن اور بقایا جات ادا کیے جائیں۔



















































