اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سعودی حکام نے عمرہ زائرین کو مسجد الحرام میں ہجوم سے بچنے اور عبادات سکون و سہولت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے اوقات کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی کے مطابق مسجد الحرام میں رش کی شدت دن کے مختلف اوقات میں بدلتی رہتی ہے، اس لیے زائرین کو چاہیے کہ وہ حرم روانگی سے قبل رش کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے طواف، سعی اور دیگر عبادات کا وقت مقرر کریں۔
کن اوقات میں رش نسبتاً کم ہوتا ہے؟
حکام کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک جبکہ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک مسجد الحرام میں ہجوم نسبتاً کم رہتا ہے۔ ان اوقات میں زائرین مطاف اور مسعی میں زیادہ آسانی سے عبادات ادا کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب صبح 5 بجے سے 8 بجے تک رش درمیانے درجے کا رہتا ہے، جبکہ شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث رش کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
سعودی حکام نے زائرین کو مشورہ دیا ہے کہ ممکن ہو تو زیادہ رش والے اوقات میں حرم آنے سے گریز کریں اور کم ہجوم کے اوقات میں عبادات کی ادائیگی کو ترجیح دیں۔
ڈیجیٹل سہولیات سے استفادہ کرنے کی ہدایت
حکام نے عمرہ زائرین کو مسجد الحرام سے متعلق دستیاب ڈیجیٹل سہولیات اور رش کی تازہ صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ مناسب وقت کا انتخاب کرنے سے زائرین کو حرم میں آمدورفت کے دوران آسانی ہوگی اور مطاف و مسعی میں بھی ہجوم کو کم رکھنے میں مدد ملے گی۔
عمرہ زائرین کی تعداد میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق موجودہ عمرہ سیزن کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ کے دوران 9 لاکھ 20 ہزار 500 افراد عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
اس سے قبل جاری اعداد و شمار میں عمرہ ویزے پر سعودی عرب آنے والے زائرین کی تعداد میں 22.5 فیصد اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سعودی حکام نے پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا ہے تاکہ مسجد الحرام میں رش کو بہتر انداز میں منظم کیا جاسکے اور عازمین کو مناسک و عبادات کی ادائیگی کے دوران زیادہ سہولت میسر آئے۔



















































