بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف

datetime 5  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) سعودی عرب نے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے کھانے کی فراہمی سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے،

جس کے تحت عمرہ ویزا حاصل کرنے والے ہر زائر کے لیے نسک فوڈ واؤچر لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت یومیہ کیٹرنگ چارج عمرہ ویزا فیس کا حصہ ہوگا، جس کے باعث عمرہ پیکجز کی مجموعی لاگت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی یکم ربیع الاول سے نافذ العمل ہوگی۔ ابتدائی مرحلے میں اس کا اطلاق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر سے آنے والے عمرہ زائرین پر کیا جائے گا، جبکہ بعد ازاں اس نظام کو دیگر ممالک تک بھی توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔نئے نظام کے تحت ہر عمرہ زائر سے روزانہ تقریباً 20 سعودی ریال کے مساوی رقم **نسک میل واؤچر** کی مد میں وصول کی جائے گی۔ یہ رقم الگ سے وصول کرنے کے بجائے براہ راست عمرہ ویزا فیس میں شامل ہوگی۔ اس نظام کو پہلے سے نافذ لازمی ٹرانسپورٹ چارجز کے طریقہ کار کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جو نسک پلیٹ فارم کے ذریعے ویزا پراسیسنگ کے دوران شامل کیے جاتے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق عمرہ زائرین کو معیاری اور منظم کھانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود 10 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ریستورانوں کو نسک ایپ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ زائرین صرف انہی منظور شدہ ریستورانوں سے اپنے فوڈ واؤچرز استعمال کرتے ہوئے کھانا حاصل کر سکیں گے۔نئی پالیسی کے مطابق ہر عمرہ زائر کو ویزا جاری ہونے سے قبل ایک منفرد بی آر این (BRN) میل کوڈ جاری کیا جائے گا، جو اس کے ویزے سے منسلک ہوگا۔

زائرین اسی کوڈ کے ذریعے رجسٹرڈ ریستورانوں سے کھانا حاصل کریں گے، جبکہ فوڈ واؤچرز کی مجموعی مالیت زائر کے سعودی عرب میں قیام کے دورانیے کے مطابق مقرر کی جائے گی اور ویزا جاری ہونے سے پہلے اس کی تصدیق بھی کی جائے گی۔سعودی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عمرہ زائرین کو معیاری، محفوظ اور منظم انداز میں کھانے کی سہولت فراہم کرنا، خدمات میں شفافیت لانا اور غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔دوسری جانب نئی پالیسی کے باعث عمرہ پیکجز کی مجموعی لاگت میں اضافے کا امکان ہے۔ پاکستان سمیت متعلقہ ممالک کے ٹریول آپریٹرز اور عمرہ کمپنیوں نے اپنے پیکجز اور نرخوں پر نظرثانی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ لازمی کیٹرنگ چارجز کو نئے پیکجز میں شامل کیا جا سکے۔ماہرین نے کہا کہ اس نئے نظام کے نفاذ سے عمرہ خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کے مالی اثرات عمرہ زائرین اور ٹریول انڈسٹری دونوں پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…