اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چترال میں گلیشیئر پھٹنے اور مختلف علاقوں میں کلاوڈ برسٹ کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق دریائے چترال سے ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے، تاہم اس کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ دوسری جانب ایک اور لاپتا شخص کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
شدید سیلاب کے باعث چترال۔پشاور مین شاہراہ اور چترال۔شندور روڈ متعدد مقامات پر بہہ جانے اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں، جس سے علاقے کا زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق چترال۔پشاور روڈ پر بروز کے مقام پر کلاوڈ برسٹ کے بعد گمبس گول اور بروز گول میں آنے والے طوفانی ریلوں نے کئی پل بہا دیے، جس کے نتیجے میں چترال کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اسی دوران فائبر آپٹک لائن بھی متاثر ہوئی، جس سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی تھی، تاہم تقریباً 24 گھنٹوں بعد مواصلاتی سہولیات جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
لوئر چترال کی وادی کریم آباد میں سیلاب نے تقریباً ایک درجن پل تباہ کر دیے، جس کے باعث ندی کے دونوں اطراف آباد آبادیوں کا باہمی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
اسی طرح پریت گول میں بھی شدید سیلاب آیا، تاہم ندی کی گہرائی زیادہ ہونے کے باعث پانی آبادی میں داخل نہیں ہو سکا۔ البتہ سیلابی ریلے نے کئی گھنٹوں تک دریائے چترال کے بہاؤ کو متاثر کیے رکھا۔
دوسری جانب چترال۔مستوج۔شندور روڈ بھی کوراغ کے مقام پر سیلابی پانی کی نذر ہو گئی ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔



















































