اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان ٹیم میں کی گئی تبدیلیوں نے کرکٹ شائقین اور ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم نے پلیئنگ الیون میں چار تبدیلیاں کیں، تاہم سب سے زیادہ بحث تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنے پر ہوئی۔
محمد عباس نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی بھی شامل تھی۔ اس کے باوجود انہیں دوسرے میچ کے لیے پلیئنگ الیون کا حصہ نہ بنانے پر ٹیم مینجمنٹ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹاس کے موقع پر کپتان بابر اعظم نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محمد عباس مکمل طور پر فٹ ہیں اور انہیں انجری یا فٹنس مسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف پچ اور کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے آرام دیا گیا ہے۔
ٹیم انتظامیہ نے دوسرے ٹیسٹ میں اسپن اٹیک کو مضبوط بنانے کے لیے ساجد خان کو شامل کیا، جبکہ فاسٹ بولنگ لائن میں محمد عباس کی جگہ نوجوان پیسر عبید شاہ کو ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے کا موقع دیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں قومی ٹیم میں واپسی کے بعد محمد عباس نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 28 وکٹیں حاصل کی ہیں، جس کے باعث وہ اس عرصے کے دوران پاکستان کے کامیاب ترین فاسٹ بولر بنے۔ ان کی بولنگ اوسط اور اکانومی ریٹ بھی دیگر پاکستانی فاسٹ بولرز کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد عباس صرف تیز اور مددگار وکٹوں پر ہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات اور بنگلہ دیش جیسی نسبتاً سست پچز پر بھی مؤثر بولنگ کا ریکارڈ رکھتے ہیں، جس سے ان کی مستقل مزاجی کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی آئندہ ٹیسٹ سیریز انگلینڈ میں شیڈول ہے، جہاں محمد عباس کا کاؤنٹی کرکٹ کا وسیع تجربہ قومی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انگلش کنڈیشنز میں ان کی مہارت پاکستان کے بولنگ اٹیک کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔



















































