اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے پھلگراں میں پرنس روڈ کے کنارے تعمیر کی گئی
حفاظتی دیوار معمولی بارش کے بعد گر گئی، جس کے بعد منصوبے کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس دیوار کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت نے تقریباً 28 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی تھی اور منصوبہ چند ماہ قبل ہی مکمل کیا گیا تھا۔مقامی ذرائع کے مطابق دیوار شہریوں اور سڑک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے مقصد سے تعمیر کی گئی تھی، تاہم ہلکی بارش کے بعد اس کا بڑا حصہ زمین بوس ہوگیا۔ واقعے کے بعد یہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ تعمیراتی کام میں معیاری مواد استعمال نہیں کیا گیا یا انجینئرنگ کے تقاضوں کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا گیا۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنی خطیر رقم سے تعمیر ہونے والی حفاظتی دیوار کا پہلی ہی بارش میں گر جانا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ناقص تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ اسلام آباد میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کے معیار پر اعتراضات سامنے آئے ہوں۔
اس سے قبل بھی جون 2025ء میں اربوں روپے کی لاگت سے ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے جناح اسکوائر منصوبے کا ایک حصہ مون سون کی ابتدائی بارشوں کے دوران متاثر ہوگیا تھا، جس کے بعد تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔حالیہ واقعے کے بعد ایک بار پھر یہ مطالبات زور پکڑ رہے ہیں کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں معیار، شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
🚨🚨 اسلام آباد کے علاقے پھلگراں کی پرنس روڈ پر 28 کروڑ روپے مالیت سے تعمیر شدہ حفاظتی دیوار کی گزشتہ روز کی ہلکی بارش کے بعد کی صورتحال۔۔۔ یاد رہے حفاظتی دیوار چند ماہ قبل لوکل گورنمنٹ کی جانب سے بنائی گئی تھی۔۔۔
غفلت کسی کی بھی ہو۔۔۔ جلد یا بدیر خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا… pic.twitter.com/ipzTB0Uu8V
— Azaz Syed (@AzazSyed) July 22, 2026



















































