اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لاہور کے علاقے باٹا پور میں واقع ایک نجی واٹر پارک میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دبئی سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آنے والی 9 سالہ بچی جاں بحق ہوگئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی سوئمنگ پول کے اندر موجود کھلے ڈرین ہول میں گرنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔پولیس کے مطابق رامین فاطمہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے واٹر پارک آئی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد جب وہ اہلِ خانہ کی نظروں سے اوجھل ہوئی تو اس کی تلاش شروع کی گئی، تاہم بعد ازاں اس کی لاش سوئمنگ پول کے اندر موجود مین ہول سے برآمد ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سوئمنگ پول سے پانی نکالنے کے لیے اندر ڈرین ہول بنایا گیا تھا، جس پر حفاظتی جالی موجود نہیں تھی، اور یہی غفلت حادثے کا سبب بنی۔متوفیہ کے ماموں سعد کے مطابق رامین دو برس قبل اپنے والدین کے ساتھ دبئی منتقل ہوگئی تھی اور حالیہ دنوں میں گرمیوں کی تعطیلات گزارنے اپنی نانی کے گھر مصری شاہ آئی ہوئی تھی۔اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے، بچی کی لاش نکال کر ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کی گئی، جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے واٹر پارک کے تین ذمہ دار افراد کو حراست میں لے لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ ڈرین ہول پر حفاظتی جالی نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔
واقعے میں غفلت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متاثرہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔گرفتار افراد میں واٹر پارک کے مینیجر ثناء اللہ، سکیورٹی انچارج نوید اور سی سی ٹی وی انچارج آصف شامل ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی فرد کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔دوسری جانب اس اندوہناک سانحے کے بعد اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہیں، جبکہ بچی کے والد بھی اطلاع ملنے پر دبئی سے فوری طور پر لاہور روانہ ہو گئے ہیں۔



















































